صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ مَنَاقِبُ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سالم رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " ، قَالَ : لَا أَدْرِي بَدَأَ بِأُبَيٍّ أَوْ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ .´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے ابراہیم نے اور ان سے مسروق نے کہ` عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے یہاں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو ۔ عبداللہ بن مسعود ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ابی بن کعب کا ذکر کیا یا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ ﷺ نے ان چار صحابہ کرام ؓ کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ قرآن کریم کے ا لفاظ کو ضبط کرنے،ان کی ادائیگی اور ان کے معافی سمجھنے میں انھیں بڑی مہارت تھی اگرچہ دوسرے صحابہ کرام ؓ قرآن کریم کے معافی سمجھنے میں ان سے زیادہ بصیرت رکھتے تھے۔
یہ حضرات رسول اللہ ﷺ سے بالمشافہ قرآن پڑھتے تھے۔
ان صحابہ کرام میں حضرت سالم ؓ بھی شامل ہیں جو بڑے فاضل اور قرآن کے قاری تھے۔
(فتح الباري: 129/7)
2۔
واضح رہے کہ حدیث میں چار کا عددحصر کے لیے نہیں،بلکہ یہ ان کی منقبت پردلالت کرتا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کی کنیت ابوعبدالرحمان ہے۔
رسول اللہ ﷺنے انھیں یمن کی طرف امیر بناکر روانہ کیا۔
وہاں سے مدینہ واپس آئے۔
پھر شام کے علاقے میں چلے گئے۔
مجاہدانہ زندگی گزارتے ہوئے طاعون ِ عمواس میں ربیع الاول 18 ہجری بمطابق مارچ 639ء میں وفات پائی۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی، نیز فرمایا: ’’حلال وحرام کو زیادہ جاننےوالے معاذ بن جبل ؓ ہیں۔
‘‘ (جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3790۔
3791)
حضرت عمر ؓنے ان کے متعلق فرمایا: جوشخص مسائل ِ دینیہ سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے حضور زانوئے تلمذ طےکرے۔
(فتح الباري: 159/7)
قرآن پاک کے بڑے عالم اور یاد کرنے والے یہی صحابی تھے۔
ہرچند اور بھی صحابہ قرآن کے قاری ہیں مگر ان چار کو سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔
1۔
ان حضرات میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سالم مولیٰ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہاجرین اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصار سے ہیں۔
یہ حضرات قرآن کریم کے ماہراور حفظ و ادا میں خصوصی شغف رکھنے والے تھے۔
اگرچہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی قرآن کے حافظ تھے مگر ان چار حضرات کو سب سے زیادہ قرآن کریم یاد تھا۔
علامہ کرمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ ان چاروں کے ذکر سے ان کے زیادہ عرصے تک باقی رہنے کا اشارہ ہے لیکن یہ بات محل نظر ہے کیونکہ سالم بن معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ یمامہ میں شہید ہو گئے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں وفات پائی، ان کے علاوہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خلافت عثمان میں انتقال ہو گیا۔
البتہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے بعد طویل زمانے تک زندہ رہے اور وہی قراءت وعلوم قرآن میں مرجع خاص و عام تھے۔
(فتح الباري: 60/9)
1۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ نے موت کے وقت وصیت فرمائی تھی کہ چار حضرات سے علم حاصل کرو: حضرت ابودرداء ؓ،حضرت سلمان فارسی ؓ،حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی شاگردی اختیار کرو۔
(فتح الباري: 129/7)
2۔
بہرحال حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو بہت قریب سے دیکھا،اس لیے آپ کی بہت عظمت ہے۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
۔
۔
1۔
حضرت ابی بن کعب ؓ کا تعلق نجار کے قبیلے سے ہے۔
بیعت عقبہ ثانیہ میں آپ موجود تھے۔
غزوہ بدر اور دیگرغزوات میں شرکت کی۔
2۔
مذکورہ حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت ابی بن کعب ؓ کو قرآن سنایا۔
یہ ان کی ایسی فضیلت ہے جس میں اور کوئی صحابی شریک نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے انھیں قرآن سنایا تاکہ لوگوں کو ان سے قرآن پڑھنے کی رغبت ہو، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد قراءت قرآن میں مشہور امام ہوئے بلکہ یہ سید القراء کے لقب سے مشہور ہیں۔
(عمدة القاري: 520/1)
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3810]
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ یہ چارصحابہ خاص طور پر قرآن کے نبی اکرمﷺ سے اخذ کرنے، یاد کرنے، بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ممتاز تھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے سوا دیگر صحابہ کو قرآن یاد ہی نہیں تھا، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان سے مروی قراءت کی ضرور ہی پابندی کی جائے، کیونکہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اعلی ترین مقصد کے تحت ایک قراءت کے سوا تمام قراءتوں کو ختم کرا دیا تھا (اس قراءتو ں سے مراد معروف سبعہ کی قراءتیں نہیں مراد صحابہ کے مصاحف ہیں)