حدیث نمبر: 3749
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عدی نے خبر دی ، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ` حسن رضی اللہ عنہ آپ کے کاندھے مبارک پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ” اے اللہ ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت رکھ ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3749
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2422 | سنن ترمذي: 3783

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3749. حضرت براء ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا جبکہ حضرت حسن بن علی ؓ آپ کے کندھوں پر تھے۔ آپ فرمارہے تھے: ’’اےاللہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3749]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن اور حسین ؓ کو دیکھا تو فرمایا: ’’اے اللہ!میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی انھیں محبوب بنا لے۔
‘‘ (جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3782)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ دونوں شہزادے بہت محبوب اور پیارے تھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3749 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3783 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3783]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جس روایت میں صرف حسنؓ کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے، حالانکہ یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3783 سے ماخوذ ہے۔