صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ مَنَاقِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا ، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7255 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7255. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین عبیدہ بن جراح ہیں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7255]
حدیث حاشیہ: یہ ایمانداری اور امانت داری میں فردید تھے گو اور سب صحابہ بھی ایماندار اور دیانتدار تھے مگر ان کا درجہ اس خاص صفت میں بہت ہی بڑھا ہوا تھا جسے عثمان رضی اللہ عنہ کا درجہ حیا میں‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شجاعت میں۔
(رضي اللہ عنهم أجمعین)
(رضي اللہ عنهم أجمعین)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7255 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7255 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7255. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین عبیدہ بن جراح ہیں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7255]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ایمان دار اور امانت دار تھے لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان داری اور امانت داری میں مزید اور بہت آگے بڑھے ہوئے تھے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیا میں اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہادری میں پیش پیش تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کی تعلیم کے لیے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خبر واحد حجت ہے اور اس کی حجت سے انکار صرف ان لوگوں کو ہے جن کے دلوں میں دین اسلام کے متعلق شکوک و شبہات ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ایمان دار اور امانت دار تھے لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان داری اور امانت داری میں مزید اور بہت آگے بڑھے ہوئے تھے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیا میں اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہادری میں پیش پیش تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کی تعلیم کے لیے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خبر واحد حجت ہے اور اس کی حجت سے انکار صرف ان لوگوں کو ہے جن کے دلوں میں دین اسلام کے متعلق شکوک و شبہات ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7255 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4382 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4382. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4382]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی، سنایا پھر انہوں نے نہیں مانا آخر آپ نے فرمایا کہ آؤ ہم تم مباہلہ کرلیں یعنی دونوں فریق مل کر اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ! جو ہم میں سے ناحق پر ہو اس پر اپنا عذاب نازل کر۔
وہ مبا ہلہ کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے بلکہ اس شرط پر صلح کرلی کہ وہ ہزار جوڑے کپڑے رجب میں اور ہزار جوڑے صفر میں دیا کریں گے اور ہر جوڑے کے ساتھ ایک اوقیہ چاندی بھی دیں گے۔
قرآن کی آیت ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
وہ مبا ہلہ کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے بلکہ اس شرط پر صلح کرلی کہ وہ ہزار جوڑے کپڑے رجب میں اور ہزار جوڑے صفر میں دیا کریں گے اور ہر جوڑے کے ساتھ ایک اوقیہ چاندی بھی دیں گے۔
قرآن کی آیت ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4382 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4382 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4382. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4382]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث اس لیے بیان کی ہے کہ اس کا سبب درود حضرت حذیفہ ؓ سے مروی حدیث ہے ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کی طرف حضرت علی ؓ کو بھیجا تھا تاکہ ان سے صدقات یا جزیہ وغیرہ وصول کر کے لائیں۔
(زاد المعاد: 557/3)
ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بھیجا ہو تا کہ ان سے صلح کا معاوضہ وصول کر کے لائیں، اس کے بعد حضرت علی ؓ کو روانہ کیا تاکہ جو عیسائی اپنے دین پر قائم ہیں ان سے جزیہ وصول کریں اور جو مسلمان ہو چکے ہیں ان سے صدقہ اور زکاۃ وغیرہ وصول کر کے لائیں۔
2۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فریق مخالف اگر دلائل حقہ کو نہ مانے بلکہ ان کا انکار کر دے تو اس سے مباہلہ کرنا مشروع ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اپنے ایک حریف کومباہلے کی دعوت دی تھی اور امام اوزاعی کو بھی ایک جماعت کے ساتھ مباہلہ کا موقع پیش آیا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ مباہلہ کرنے والا باطل فریق ایک سال کے اندر اندر عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
مزید فرماتے ہیں۔
میرے ساتھ بھی ایک ملحد نے مباہلہ کیا تھا، وہ دوماہ کے اندر اندر ہلاک ہو گیا تھا۔
(فتح الباري: 119/8)
1۔
امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے مروی حدیث اس لیے بیان کی ہے کہ اس کا سبب درود حضرت حذیفہ ؓ سے مروی حدیث ہے ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کی طرف حضرت علی ؓ کو بھیجا تھا تاکہ ان سے صدقات یا جزیہ وغیرہ وصول کر کے لائیں۔
(زاد المعاد: 557/3)
ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بھیجا ہو تا کہ ان سے صلح کا معاوضہ وصول کر کے لائیں، اس کے بعد حضرت علی ؓ کو روانہ کیا تاکہ جو عیسائی اپنے دین پر قائم ہیں ان سے جزیہ وصول کریں اور جو مسلمان ہو چکے ہیں ان سے صدقہ اور زکاۃ وغیرہ وصول کر کے لائیں۔
2۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فریق مخالف اگر دلائل حقہ کو نہ مانے بلکہ ان کا انکار کر دے تو اس سے مباہلہ کرنا مشروع ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اپنے ایک حریف کومباہلے کی دعوت دی تھی اور امام اوزاعی کو بھی ایک جماعت کے ساتھ مباہلہ کا موقع پیش آیا تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ مباہلہ کرنے والا باطل فریق ایک سال کے اندر اندر عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
مزید فرماتے ہیں۔
میرے ساتھ بھی ایک ملحد نے مباہلہ کیا تھا، وہ دوماہ کے اندر اندر ہلاک ہو گیا تھا۔
(فتح الباري: 119/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4382 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2419 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"ہراُمت میں ایک امین ہے اورہمارا امین،اے امت،ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6252]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپ کے ساتھیوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی مکارم اخلاق ودیعت فرمائے تھے، لیکن بعض صفات میں بعض کو خصوصی امتیاز حاصل تھا، حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح صفت امانت میں ممتاز تھے، لیکن کسی ایک وصف میں امتیاز سے کلی طور پر برتری حاصل نہیں ہوتی، اس میں مجموعی صفات کا لحاظ ہوتا ہے، جن میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سب پر فائق تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2419 سے ماخوذ ہے۔