حدیث نمبر: 3736
وَقَالَ نُعَيْمٌ : عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مَوْلًى لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ , وَكَانَ أَيْمَنُ بْنُ أُمِّ أَيْمَنَ أَخَا أُسَامَةَ لِأُمِّهِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَرَآهُ ابْنُ عُمَرَ لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ ، فَقَالَ : " أَعِدْ " .
مولانا داود راز

´اور نعیم نے کہا ان سے ابن مبارک نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ایک مولیٰ ( حرملہ ) نے خبر دی کہ` حجاج بن ایمن بن ام ایمن کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا ( نماز میں ) انہوں نے رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں ادا کیا ، ( ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ رضی اللہ عنہ کی ماں کی طرف سے بھائی تھے ، ایمن رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے ایک فرد تھے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ( نماز ) دوبارہ پڑھ لو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3736
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3736. حضرت اسامہ بن زید ؓ کے مولی(حرملہ) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے حجاج بن ایمن کو دیکھا جواُم ایمن ؓ کے پوتے تھے اور وہ دوران نماز میں رکوع و سجود پوری طرح نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا اپنی نماز دوبارہ پڑھو۔ واضح رہے کہ اُم ایمن ؓ کے بیٹے ایمن حضرت اسامہ ؓ کے مادری بھائی، انصار سے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3736]
حدیث حاشیہ:
حضرت ایمن ؓ کا پہلا خاوند عبید بن عمروبن ہلال تھا۔
اس سے حضرت ایمن پیدا ہوئے جنھوں نے غزوہ حنین میں شہادت پائی۔
اس کے بعد حضرت زید بن حارثہ ؓ نے ان سے نکاح کیا تو ان کے بطن سے حضرت اسامہ بن زید ؓ پیدا ہوئے اس طرح ایمن اور اسامہ دونوں مادری بھائی تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے جب حجاج بن ایمن کو دیکھا کہ وہ نماز میں کوتا ہی کر رہا ہے تو فرمایا: نماز دوبارہ پڑھو کیونکہ تم نے دوران نماز میں رکوع و سجود پوری طرح ادا نہیں کیا،۔
چونکہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے حضرت زید بن حارثہ اُم ایمن ؓ اور ان دونوں کی اولاد سے رسول اللہ ﷺ کی محبت دیکھی تھی تو اس پر قیاس کرتے ہوئے فرمایا: اگر حجاج بن ایمن کو رسول اللہ ﷺ دیکھتے تو اس سے ضرورمحبت کرتے۔
اس سے بھی حضرت اسامہ ؓ اور ان کے خاندان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3736 سے ماخوذ ہے۔