صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ ذِكْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: باب: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا بیان۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : نَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى رَجُلٍ يَسْحَبُ ثِيَابَهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " انْظُرْ مَنْ هَذَا لَيْتَ هَذَا عِنْدِي " ، قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ : أَمَا تَعْرِفُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : فَطَأْطَأَ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَهُ وَنَقَرَ بِيَدَيْهِ فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ " .´مجھ سے حسن بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعباد یحییٰ بن عباد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دن ایک صاحب کو مسجد میں دیکھا کہ اپنا کپڑا ایک کونے میں پھیلا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا دیکھو یہ کون صاحب ہیں ؟ کاش ! یہ میرے قریب ہوتے ۔ ایک شخص نے کہا اے ابوعبدالرحمٰن ! کیا آپ انہیں نہیں پہچانتے ؟ یہ محمد بن اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ابن دینار نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہاتھوں سے زمین کریدنے لگے پھر بولے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے تو یقیناً آپ ان سے محبت فرماتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا: کاش وہ شخص میرے پاس ہوتا تو میں اسے وعظ و نصیحت کرتا لیکن جب انھیں پتہ چلا کہ یہ محمد بن اسامہ ہیں تو تعظیم کے لیے اپنا سر جھکا لیا۔
ممکن ہے کہ بعض حالات یا د آگئے ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے باپ اور دادا سے کس قدر محبت کرتے تھے نیز فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ اسے دیکھتے تو وہ بھی اس سے محبت کرتے۔
2۔
اس حدیث سے بھی حضرت اسامہ ؓ کی عظمت ثابت ہوتی ہے کہ ان کا رسول اللہ ﷺ کے ہاں بہت مقام و احترام تھا۔