صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيِّ باب: سعد بن ابی وقاص الزہری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَكُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي " , وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَر , قَالُوا : لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي .´ہم سے ہاشم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` عرب میں سب سے پہلے اللہ کے راستے میں ، میں نے تیر اندازی کی تھی ( ابتداء اسلام میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا ، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی ۔ یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی ۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں ( اگر ) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے ۔ ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی چغلی کھائی تھی ۔ یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
بنو اسد کے لوگ میرے متعلق حضرت عمر ؓ سے شکایت کرتے ہیں کہ اسے تو نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھنا آتی۔
حالانکہ میں تو قدیم الاسلام ہوں۔
اگر مجھے اب ان سے نماز سیکھنے کی ضرورت ہے تو میری سابقہ زندگی کے تمام اعمال برباد ہوگئے۔
حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنی پہلی زندگی کے حالات بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت مسلمان ہوا جب مسلمانوں کو کھانے پینے کے لیے درخت کے پتوں کے سوا اور کچھ نہیں ملتا تھا۔
ایسے حالات میں قضائے حاجت کے وقت خشک پاخانہ آتا۔
کیونکہ درختوں کے پتے کھانے سے اونٹوں اور بکریوں کی طرح خشک پاخانہ ہی آتا ہے۔
بہر حال حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنا قدیم الاسلام ہونا بیان کرتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ میرے متعلق قبیلہ بنو اسد کی شکایات مبنی برحقیقت نہیں ہیں 3۔
حضرت سعد بن وقاص مدینہ طیبہ سے دس میل دورمقام تحقیق میں فوت ہوئے۔
وہاں سے آپ کو مدینہ طیبہ لایا گیا۔
اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
آپ کی تاریخ وفات محرم 55ھ بمطابق دسمبر674ءہے۔
آپ نے تراسی سال کی عمر پائی۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
فی الواقع حضرت سعد ؓ اس مبارک دعا کے مستحق تھے۔
ایک حدیث میں کے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ترکش سے تمام تیر نکال کر ان کے سامنے بکھیر دیے۔
اور فرمایا: ’’تم تیراندازی کرو۔
تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4055)
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے علاوہ کسی اور صحابی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا۔
(فتح الباري: 107/7)
حالانکہ اس سے پہلے ایک حدیث میں بیان کیا ہوا ہے کہ یہ اعزاز حضرت زبیر بن عوام ؓ کو بھی حاصل ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں۔
شاید حضرت علی ؓ کو اس بات کا علم نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر کے لیے بھی ایسا ہی فرمایا تھا یا احد کے دن حضرت سعد کے علاوہ یہ اعزاز کسی اور کو نہ ملا ہو۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4055)
جنگ احد میں کافر چڑھے چلے آرہے تھے۔
انہوں نے ایسے تیر مارے کہ ایک کافر بھی آنحضرت ﷺ کے پاس نہ آسکا۔
کہتے ہیں کہ تیر بھی ختم ہو گئے اورایک کافر بالکل قریب آن پہنچاتو ایک تیر جس میں نری لکڑی تھی رہ گیا تھا۔
آپ نے سعد ؓ سے فرمایا یہی تیر مارو۔
سعد ؓ نے مارا اور وہ اس کافر کے جسم میں گھس گیا۔
آنحضرت ﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی جو روایت میں مذکور ہے جس میں انتہائی ہمت افزائی ہے۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
احرق المسلمين: اس نے مسلمانوں کو بھون ڈالا، ان کا قتل عام کیا اس لیے جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا نشانہ لے کر، اس کو تیر مارا اور وہ چاروں شانے چت گر گیا تو آپ اس کے قتل و ذلت سے خوش ہو کر ہنس دئیے، اس کی شرم گاہ کے کھل جانے پر نہیں، سب کے سامنے رسوا ہونے پر خوش ہوئے۔
اس میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ابتدائی حالات بیان کیے ہیں کہ ہم نے پہلے دور میں کس قدر تکالیف کا سامنا کیا ہے۔ بوقت ضرورت (خصوصاً جب کوئی انسان ذلیل کرنے کی کوشش کر رہا ہو) اپنے خیر کے کام بتانا درست ہے، اس میں ریا کاری یا فخر مقصود نہیں ہونا چاہیے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ساتویں نمبر پر مسلمان ہوئے۔