حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ , وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا " .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، ان سے معتمر نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے ( احد کی جنگ میں ) آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3723
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4061 | صحيح مسلم: 2414

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3723. حضرت ابوعثمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ بعض ان غزوات کے وقت جن میں خود رسول اللہ ﷺ نے شمولیت کی، نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ یہ بات خود ان کی بیان کردہ حدیث میں ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3723]
حدیث حاشیہ:

جنگ اُحد کا واقعہ کہ جب مسلمان بھگدڑ میں مبتلا ہوئے تو اس وقت صرف حضرت طلحہ ؓ اور حضرت سعد ؓ کے علاوہ اور کوئی بھی آپ کے ہم رکاب نہ تھا۔
انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی۔

اس حدیث میں حضرت طلحہ ؓ کی منقبت کا بیان ہے کہ آپ کس قدر بہادر اور جفاکش تھے۔
اس کی تفصیل آئندہ حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے حضرت عثمان ؓ سے پوچھا: آپ کو اس واقعے کا علم کیسے ہوا؟ توانھوں نے بتایا کہ ان حضرات نے مجھے خود اس سے آگاہ کیا تھا۔
(فتح الباري: 105/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3723 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2414 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ان بعض دنوں میں،جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے جنگ لڑی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت طلحہ اور سعد(رضوان اللہ عنھم اجمعین)کے سوا کوئی بھی نہیں رہاتھا،یہ بات انہوں نےخود ابوعثمان کو بتائی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6242]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جنگ اُحد میں جب تیر اندازوں کی غلطی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی تو آپ کے ہمراہ قریش میں سے صرف حضرت طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما تھے اور سات انصاری تھے، ساتوں انصاری آپ کی حفاظت کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تو پھر یہ دونوں قریشی ہی رہ گئے اور یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے، انہوں نے تیر مار مار کر مشرک حملہ آوروں کو دور رکھا اور آپ کی حفاظت کرتے ہوئے ہی، حضرت طلحہ کا ہاتھ شل ہو گیا اور آپ نے انہیں چلتا ہوا، شہید قرار دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2414 سے ماخوذ ہے۔