حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ ، فَقَالَ : أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " , أَوْ قَالَ : " يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ " , فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ ، فَقَالُوا : هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آ سکے تھے ، پھر انہوں نے سوچا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں ! چنانچہ گھر سے نکلے اور آپ کے لشکر سے جا ملے ، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کل میں ایک ایسے شخص کو عَلم دوں گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل ) ایک ایسا شخص عَلم کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا ، اتفاق سے علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلم انہیں دے دیا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3702
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3702. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت علی ؓ خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ سے پیچھے رہ گئے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس غزوہ میں شریک نہیں ہوسکوں گا، چنانچہ گھر سے نکلے اور نبی کریم ﷺ کے لشکر سے جاملے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا۔‘‘ یا فرمایا: ’’کل وہ شخص جھنڈالے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو محبت ہے۔‘‘ یا فرمایا: ’’وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتاہے۔ اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب کرے گا۔‘‘ پھر حضرت علی آگئے، حالانکہ ان کے آنے کی توقع نہیں تھی۔ لوگوں نے کہا: یہ ہیں حضرت علی ؓ تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں جھنڈا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح عنایت فرمائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3702]
حدیث حاشیہ: حضرت علی ؓ سے بیعت خلافت اوائل ماہ ذی الحجہ 35 ھ میں ہوئی تھی جسے جمہور مسلمانوں نے تسلیم کیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3702 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3702. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت علی ؓ خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ سے پیچھے رہ گئے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس غزوہ میں شریک نہیں ہوسکوں گا، چنانچہ گھر سے نکلے اور نبی کریم ﷺ کے لشکر سے جاملے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا۔‘‘ یا فرمایا: ’’کل وہ شخص جھنڈالے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو محبت ہے۔‘‘ یا فرمایا: ’’وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتاہے۔ اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب کرے گا۔‘‘ پھر حضرت علی آگئے، حالانکہ ان کے آنے کی توقع نہیں تھی۔ لوگوں نے کہا: یہ ہیں حضرت علی ؓ تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں جھنڈا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح عنایت فرمائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3702]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے دو معجزے ہوئے ہیں: ایک قولی کہ آپ نے فرمایا: ’’میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو خیبر فتح کرے گا۔
‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور دوسرافعلی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا توان کی آنکھیں صحیح ہوگئیں۔

اس حدیث میں حضرت علی ؓ کی شجاعت وبہادری کا ذکر ہے،نیز ان کی فضیلت کا بیان ہے کہ ان سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے خوگر ہیں۔

سرخ اونٹ،عربوں کے ہاں بہت قیمتی اور نفیس مال شمار ہوتے تھے نیز کسی چیز کی نفاست بیان کرنے کے لیے ان الفاظ کو بیان کیا جاتاہے اور آخرت کو دنیا کے سازوسامان سے تشبیہ دینا صرف سمجھانے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہے ورنہ آخرت کا معمولی سا زرہ تمام دنیا اور اس کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جنگ وقتال کا قطعاً حامی نہیں بلکہ یہ امن چاہتا ہے۔
ا س کی جنگ صرف مدافعانہ ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضر ت علی ؓ کو جو ہدایت دی اس کا مطلب یہ بھی تھاکہ جہاں تک ممکن ہو لڑائی کی نوبت نہ آئے بلکہ ان کی حتی المقدوررہنمائی کی جائے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3702 سے ماخوذ ہے۔