صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ مَنَاقِبُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَبِي حَفْصٍ الْقُرَشِيِّ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: ابوحفص عمر بن خطاب قرشی عدوی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي ، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ ، وَقَالَ : مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ , وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ " .´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم سے عمر بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ` جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( شہادت کے بعد ) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے ( اللہ سے ) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے ، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی ، میں بھی وہیں موجود تھا ۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا ، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے ، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور ( ان کی نعش کو مخاطب کر کے ) کہا : آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم ! مجھے تو ( پہلے سے ) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا ۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ” میں ، ابوبکر اور عمر گئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر باہر آئے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے بھی حضرت عمر ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
حضرت علی ؓ کی گواہی ہے کہ کہ اس وقت حضرت عمر کا عمل وکردار تمام لوگوں سے افضل تھا اور آپ فرماتے ہیں: میں ان جیسے اعمال لے کر اللہ کے ہاں حاضرہونا پسند کرتا ہوں۔
پھر تمام حاضرین اس وقت حضرت عمر ؓ کے لیے دعائے مغفرت کررہے تھے۔
حضرت علی کا یہ بھی یقین تھا کہ حضرت ابوبکروعمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حجرہ شریف میں یاجنت میں اکھٹے ہوں گے۔
المرء یقیس علی نفسه کا مصداق ہے، سچ ہے: چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک حافظ نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سل کا شکار ہوئے، واقدی نے کہا کہ انہوں نے سردی میں غسل کیا تھا، پندرہ دن تک بخار ہوا۔
بعض نے کہا کہ یہودیوں نے ان کو زہر دے دیا تھا۔
13ھ بماہ جمادی الاخری انہوں نے انتقال فرمایا، ان کی خلافت دوبرس تین ماہ اور چند دن رہی۔
آنحضرت ﷺ کی طرح ان کی عمر بھی انتقال کے وقت تریسٹھ 63 سال کی تھی۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ وحشرنااللہ في خدامه۔
1۔
اس معیت سے مراد دفن کی معیت ہے یا دخول جنت ہے جو موت کے بعد ظہور پذیر ہوگا اور صاحبین سے مراد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرصدیق ؓ ہیں۔
2۔
اس حدیث میں حضرت ابوبکر کی فضیلت ومنقبت کا بیان ہے کیونکہ آپ ہربات اور ہر کام میں حضرت عمر ؓ سے مقدم تھا جیسا کہ اس حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
3۔
حضرت علی ؓ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاروں خلفاء یک دل اور یک جان تھے،نیز وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ اور دعاگوتھے۔
جن لوگوں نے یہ خیال کیا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مخالف اور بدخواہ تھے وہ مرد ودخودبدباطن اور خبیث ہیں۔
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو (وفات کے بعد) ان کی چارپائی پہ لٹایا گیا تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا، اور دعا کرنے لگے، یا کہا: تعریف کرنے لگے، اور جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے دعا کرنے لگے، میں بھی انہیں میں تھا، تو مجھے صرف اس شخص نے خوف زدہ کیا جو لوگوں کو دھکا دے کر میرے پاس آیا، اور میرا کندھا پکڑ لیا، میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، پھر بولے: میں نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 98]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بہت مقام تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملے میں ان دونوں حضرات (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما)
کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
(2)
حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت شیخین رضی اللہ عنہما کو اپنے سے افضل سمجھتے تھے، اس لیے تمنا کرتے تھے کہ کاش ان جیسے اعمال کی توفیق ملے۔
(3)
نیکی کے کاموں میں اپنے سے افضل شخصیت کے اتباع کی کوشش کرنا مستحسن عمل ہے، البتہ دنیا کے مال و دولت میں یا برے کاموں میں اپنے سے آگے بڑھے ہوئے شخص پر رشک کرنا درست نہیں۔
(4)
رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے شیخین کو اکثر ساتھ رکھنے اور ان کا تذکرہ کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا تمام صحابہ سے بڑھ کر مرتبہ و مقام تھا۔