مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ . قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : الْعَبْقَرِيُّ عِتَاقُ الزَّرَابِيِّ ، وَقَالَ يَحْيَى : الزَّرَابِيُّ الطَّنَافِسُ لَهَا خَمْلٌ رَقِيقٌ مَبْثُوثَةٌ كَثِيرَةٌ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن سالم نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں ، جس پر ” لکڑی کا چرخ “ لگا ہوا ہے ، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ پھر عمر آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا ۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کر سکتا ہو ۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے ۔ ابن جبیر نے کہا کہ «عبقري» کا معنی عمدہ اور «زرابي» اور «عبقري» سردار کو بھی کہتے ہیں ( حدیث میں «عبقري» سے یہی مراد ہے ) یحییٰ بن زیاد فری نے کہا ، «زرابي» ان بچھونوں کو کہتے ہیں جن کے حاشیے باریک ، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3682
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3676 | صحيح البخاري: 7019 | صحيح البخاري: 7020 | صحيح مسلم: 2393 | سنن ترمذي: 2289

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3682. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے۔ کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ آئے تو انھوں نے ایک یا دو ڈول پانی کے بھرے ہوئے کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر حضرت عمر ؓ آئےتو وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی شہ زوراور طاقتور آدمی نہیں دیکھا جس نے اتنی مہارت سےاپنا کام پورا کیا ہو، یہاں تک لوگ خود بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے ان کے ٹھکانوں میں باندھ دیا۔‘‘ ابن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ عَبْقَرِيٍّ عمدۃ قالین کو کہتے ہیں۔ حضرت یحییٰ کہتے ہیں کہ زَرَابِيُّ باریک کناروں والی چادروں کو کہاجاتا ہے۔ مَبْثُوثَةٌ کے معنی کثرت کے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3682]
حدیث حاشیہ: یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب حدیث میں لفظ بکرة بفتح با اور کاف ہو یعنی وہ گول لکڑی جس سے ڈول لٹکادیتے ہیں، اگر بکرة سکون کاف کے ساتھ ہوتو ترجمہ یوں ہوگا، وہ ڈول جس سے جو ان اونٹنی کو پانی پلاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3682 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3682. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے۔ کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ آئے تو انھوں نے ایک یا دو ڈول پانی کے بھرے ہوئے کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر حضرت عمر ؓ آئےتو وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی شہ زوراور طاقتور آدمی نہیں دیکھا جس نے اتنی مہارت سےاپنا کام پورا کیا ہو، یہاں تک لوگ خود بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے ان کے ٹھکانوں میں باندھ دیا۔‘‘ ابن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ عَبْقَرِيٍّ عمدۃ قالین کو کہتے ہیں۔ حضرت یحییٰ کہتے ہیں کہ زَرَابِيُّ باریک کناروں والی چادروں کو کہاجاتا ہے۔ مَبْثُوثَةٌ کے معنی کثرت کے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3682]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں شیخین کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے امور کو کنویں سے تشبیہ دی ہے۔
چونکہ لوگوں کی زندگی کا انحصار اور ان کی بقا کا سبب پانی ہے اور لوگوں کا پانی پلانا ان کے امور کی اصلاح اور ان کے مصالح کا انتظام کرنا ہے،حضرت عمر ؓ کے دورخلافت میں اسلام کی بہت ترقی ملی فتوحات ہوئیں جن کے نتیجے میں لوگ خوشحال ہوئے۔
آپ کے زمانہ خلافت میں عدل وانصاف کا خوب چرچا ہوا۔
بہرحال حضرت ابوبکر ؓ کے مقابلے میں ان کا دور حکومت بہت طویل تھا۔
فتوحات ہونے کے باوجود اختلاف کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملا جیسا کہ حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں ہوا،بالآخر حضرت عثمان ؓ کی شہادت اسی اختلاف کے نتیجے میں ہوئی۔

حدیث کے آخری الفاظ کہ لوگ بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کیا،ان میں حضرت عمرفاروق ؓ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان کے دور میں اسلام کو وسعت ہوئی اور لوگوں کو آرام اورسکون ملا۔
اس حدیث میں حضرت عمر ؓ کی منقبت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔

امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ حدیث میں مذکور کسی لفظ کی مناسبت سے قرآنی الفاظ کی لغوی تشریح کردیتے ہیں،چنانچہ آپ نے لفظ عبقری کی لغوی تشریح کی ہے اگرچہ حدیث میں اس سے مراد ماہر،تجربہ کار اور قوم کا سردار ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3682 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7019 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7019. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دفعہ میں کنویں سے پانی نکال رہا تھا کہ اچانک میرے پاس ابو بکر اور عمر آئے اور پھر ابو بکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی نکالا۔ ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ اس کے بعد عمر ؓ آئے۔ انہوں نے ابو بکر کے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں کسی ماہر کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کھینچتا ہو حتیٰ کہ لوگوں نے اونٹوں کے پینے کے لیے پانی سے حوض بھر لیے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7019]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خواب بیان ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب وحی ہوتا تھا اس کی تعبیر خلافت و امارات کا عمل ہے۔
پانی نکالنا لوگوں کے لیے اجتماعی خدمات سر انجام دینا ہے۔
خلافت کا عمل حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو یا تین سال کیا۔
ان کے دور خلافت میں داخلی انتشار کی وجہ سے فتوحات نہ ہو سکیں جس کی طرف کمزوری کی صورت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عمل کو سنبھالا تو انھوں نے پوری قوت کے ساتھ اس عمل کو سر انجام دیا فتوحات ہوئیں۔
اسلامی حکومت خوب وسیع ہوئی مال غنیمت سے لوگوں میں آسودگی آئی اور داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہوا۔

اس خواب میں واضح اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا عمل حضرت ابو بکر چلائیں گے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس منصب پر فائز ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7019 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3676 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3676. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں(خواب میں)ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابو بکروعمر ؓ بھی پہنچ گئے۔ پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے دور کردے گا۔ پھر ابو بکر ؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول حضرت عمر ؓ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا شہ زور انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انھوں نے اتنا پانی کھنچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا کر بٹھا دیا۔‘‘ (راوی حدیث)وہب نے بیان کیا کہ العطن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے۔ اونٹ سیراب ہوئے کہ(وہیں) بیٹھ گئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3676]
حدیث حاشیہ: یہ حدیث پہلے بھی گزرچکی ہے اور حضرت صدیق ؓ کی یہ ناتوانانی کوئی عیب نہیں ہے جو ان کے لیے خلقی تھی، اس ناتوانی کے باوجود ڈول انہوں نے پہلے سنبھالا، اسی سے حضرت عمر ؓ پر ان کی فوقیت ثابت ہوئی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3676 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3676 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3676. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں(خواب میں)ایک کنویں پر کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابو بکروعمر ؓ بھی پہنچ گئے۔ پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے پانی بھرنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے دور کردے گا۔ پھر ابو بکر ؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول حضرت عمر ؓ نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ڈول ایک بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا شہ زور انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انھوں نے اتنا پانی کھنچا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پانی پلا کر بٹھا دیا۔‘‘ (راوی حدیث)وہب نے بیان کیا کہ العطن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے۔ اونٹ سیراب ہوئے کہ(وہیں) بیٹھ گئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3676]
حدیث حاشیہ:

کنویں سے مراد دین کی طرف اشارہ ہے کہ جو حیاتِ نفوس کا منبع ہے اور جس سے معاش ومعاد سب کے معاملات پورے ہوتے ہیں۔

ضعف سے فتنہ ارتداد کی طرف اشارہ ہے جو ابوبکر ؓ کے دورخلافت میں ظاہر ہوا،جس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انھوں نے استقامت کاپہاڑ بن کر ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے ان کی نرم مزاجی کی طرف اشارہ ہو کہ و ہ سخت گیر نہ تھے۔

بہرحال اس کمزوری کے باوجود انھوں نے حضرت عمر ؓ سے پہلے ڈول سنبھالا،اس سے حضرت عمر ؓ پر ان کی فوقیت ثابت ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3676 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2393 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"مجھے دکھایاگیا کہ میں ایک کنویں پر چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں تو ابوبکر آگئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے اور انہوں نے کمزوری کے ساتھ ڈول،کھینچا،اللہ تبارک وتعالیٰ اسے معاف فرمائے،پھرعمرآگئے،انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا اور ڈول بہت بڑا ڈول بن گیا،میں نے کوئی ماہراور عبقری انسان اس جیسا کام سرانجام دیتے نہیں دیکھا،حتیٰ کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پانی پلاکر ان کی جگہوں پر بٹھادیا،" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6196]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
بدلو بكرة: چرخی کا ڈول ہے۔
(2)
بكرة: اس چرخی کو کہتے ہیں، جس پر ڈول لٹکایا جاتا ہے اور اگر کاف پر سکون پڑھیں تو جوان اونٹ کو کہتے ہیں، مراد ہو گا، اونٹوں کو پانی پلانے کا ڈول۔
(3)
يفري فريه: ان کی طرح کاٹتا، کیونکہ فَري کا معنی ہوتا ہے، اصلاح اور بہتری کی خاطر کاٹنا، مراد ہے بہترین طور پر کام کرنا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2393 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2289 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی (یعنی سب آسودہ ہو گئے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2289]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: اس سے مرادعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی مضبوط خلافت وامارت کادورہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2289 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔