حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَفَعَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ : رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد بن یزید کوفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، ان سے اوزاعی نے ، ان سے یحییٰ ابن ابی کثیر نے ، ان سے محمد بن ابراہیم نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی تھی تو انہوں نے بتلایا کہ میں نے دیکھا کہ عقبہ بن ابی معیط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اس بدبخت نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر کھینچی جس سے آپ کا گلا بڑی سختی کے ساتھ پھنس گیا ۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اس بدبخت کو دفع کیا اور کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3678
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4815

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3678. حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی تو انھوں نے بتایا: میں نے عقبہ بن ابو معیط کو دیکھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیاجبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے اپنی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور اس سے آپ کا گلہ گھونٹتے ہوئے اسے سختی سے دبایا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے تو انھوں نے اس لعین کو آپ سے ہٹایا اور فرمایا: ’’کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمھارے پاس اپنے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3678]
حدیث حاشیہ: ان جملہ احادیث کے نقل کرنے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرنا مقصود ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3678 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3678. حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے مشرکین مکہ کی سب سے بڑی ظالمانہ حرکت کے بارے میں پوچھا جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کی تھی تو انھوں نے بتایا: میں نے عقبہ بن ابو معیط کو دیکھا وہ نبی ﷺ کے پاس آیاجبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے اپنی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور اس سے آپ کا گلہ گھونٹتے ہوئے اسے سختی سے دبایا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے تو انھوں نے اس لعین کو آپ سے ہٹایا اور فرمایا: ’’کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمھارے پاس اپنے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3678]
حدیث حاشیہ:

عقبہ بن ابی معیط جنگ بدر میں قتل ہوا۔

اس حدیث سے بھی حضرت ابوبکر ؓ کی عظیم منقبت ثابت ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے انتہائی مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ کی مدد زبان اور ہاتھ دونوں سے کی جبکہ کفار کا بہت غلبہ تھا۔
حضرت ابوبکر ؓ تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
مدت خلافت دوسال تین ماہ اور چند دن تھی۔
انھوں نے سردی کے دنوں میں غسل کیا تو بیمار ہوگئے۔
پندرہ دن تک بخار رہا اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔
انھوں نے 22 جمادی الاخری 1 ہجری بمطابق 23اگست 634ء کو وفات پائی۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3678 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4815 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4815. حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ سخت معاملہ مشرکین نے کیا کیا تھا؟ حضرت عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کعبے کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ اس دوران میں عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کا شانہ مبارک پکڑ کر آپ کی گردن میں اپنا کپڑا لپیٹ دیا۔ پھر اس کپڑے سے بڑی سختی کے ساتھ آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ بھی آ گئے۔ انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑ کر رسول اللہ ﷺ سے ہٹایا اور کہا: ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کر دینا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے جبکہ وہ تمہارے رب کے پاس سے اپنی سچائی کے لیے روشن دلائل بھی لے کر آیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4815]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی عنوان قائم نہیں کیا، صرف چند مشکل الفاظ کی لغوی تشریح کے بعد یہ حدیث بیان کر دی ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ اس سوہ مبارکہ میں ایک مرد مومن کا ذکر ہے، اس مرد مومن کے نام سے یہ سورت موسوم ہے۔
اس نے فرعون کے دربار میں اپنا ایمان ظاہر نہیں کیا تھا اور وہ خود اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا لیکن جب فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تم مجھے اجازت دو میں موسیٰ علیہ السلام کو قتل کردوں، تو اس مرد مومن نے کہا: کیا تم اسے صرف اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیلیں لے کر آیا ہے۔

قرآن کریم کے اس واقعے پر غور کرنے سے حدیث کی مناسبت کا بھی پتا چل گیا کہ اس واقعے کی سورہ مومن کے واقعے سے پوری پوری مماثلت ہے۔
واللہ اعلم۔

واضح رہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آل فرعون کے مرد مومن سے افضل ہیں کیونکہ وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھلم کھلا اپنے ایمان کا اظہار کرتے تھے، پھرآل عمران کے مرد مومن نے صرف زبانی بات پر اکتفا کیا جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہاتھ کو زبان کے تابع کیا اور قول و فعل دونوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4815 سے ماخوذ ہے۔