صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا , فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ , فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " ، قَالَ وَهْبٌ : الْعَطَنُ مَبْرَكُ الْإِبِلِ ، يَقُولُ : حَتَّى رَوِيَتِ الْإِبِلُ فَأَنَاخَتْ .´مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا ہم سے صخر نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کنویں پر ( خواب میں ) کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس ابوبکر اور عمر بھی پہنچ گئے ۔ پھر ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے ، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا ۔ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے ڈول عمر نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہو گیا ۔ میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو ، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں ، وہب نے بیان کیا کہ «العطن» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں ، عرب لوگ بولتے ہیں ، اونٹ سیراب ہوئے کہ ( وہیں ) بیٹھ گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
کنویں سے مراد دین کی طرف اشارہ ہے کہ جو حیاتِ نفوس کا منبع ہے اور جس سے معاش ومعاد سب کے معاملات پورے ہوتے ہیں۔
2۔
ضعف سے فتنہ ارتداد کی طرف اشارہ ہے جو ابوبکر ؓ کے دورخلافت میں ظاہر ہوا،جس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انھوں نے استقامت کاپہاڑ بن کر ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے ان کی نرم مزاجی کی طرف اشارہ ہو کہ و ہ سخت گیر نہ تھے۔
3۔
بہرحال اس کمزوری کے باوجود انھوں نے حضرت عمر ؓ سے پہلے ڈول سنبھالا،اس سے حضرت عمر ؓ پر ان کی فوقیت ثابت ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خواب بیان ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب وحی ہوتا تھا اس کی تعبیر خلافت و امارات کا عمل ہے۔
پانی نکالنا لوگوں کے لیے اجتماعی خدمات سر انجام دینا ہے۔
خلافت کا عمل حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو یا تین سال کیا۔
ان کے دور خلافت میں داخلی انتشار کی وجہ سے فتوحات نہ ہو سکیں جس کی طرف کمزوری کی صورت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عمل کو سنبھالا تو انھوں نے پوری قوت کے ساتھ اس عمل کو سر انجام دیا فتوحات ہوئیں۔
اسلامی حکومت خوب وسیع ہوئی مال غنیمت سے لوگوں میں آسودگی آئی اور داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہوا۔
2۔
اس خواب میں واضح اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا عمل حضرت ابو بکر چلائیں گے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس منصب پر فائز ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث میں شیخین کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے امور کو کنویں سے تشبیہ دی ہے۔
چونکہ لوگوں کی زندگی کا انحصار اور ان کی بقا کا سبب پانی ہے اور لوگوں کا پانی پلانا ان کے امور کی اصلاح اور ان کے مصالح کا انتظام کرنا ہے،حضرت عمر ؓ کے دورخلافت میں اسلام کی بہت ترقی ملی فتوحات ہوئیں جن کے نتیجے میں لوگ خوشحال ہوئے۔
آپ کے زمانہ خلافت میں عدل وانصاف کا خوب چرچا ہوا۔
بہرحال حضرت ابوبکر ؓ کے مقابلے میں ان کا دور حکومت بہت طویل تھا۔
فتوحات ہونے کے باوجود اختلاف کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملا جیسا کہ حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں ہوا،بالآخر حضرت عثمان ؓ کی شہادت اسی اختلاف کے نتیجے میں ہوئی۔
2۔
حدیث کے آخری الفاظ کہ لوگ بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کیا،ان میں حضرت عمرفاروق ؓ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان کے دور میں اسلام کو وسعت ہوئی اور لوگوں کو آرام اورسکون ملا۔
اس حدیث میں حضرت عمر ؓ کی منقبت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ حدیث میں مذکور کسی لفظ کی مناسبت سے قرآنی الفاظ کی لغوی تشریح کردیتے ہیں،چنانچہ آپ نے لفظ عبقری کی لغوی تشریح کی ہے اگرچہ حدیث میں اس سے مراد ماہر،تجربہ کار اور قوم کا سردار ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
بدلو بكرة: چرخی کا ڈول ہے۔
(2)
بكرة: اس چرخی کو کہتے ہیں، جس پر ڈول لٹکایا جاتا ہے اور اگر کاف پر سکون پڑھیں تو جوان اونٹ کو کہتے ہیں، مراد ہو گا، اونٹوں کو پانی پلانے کا ڈول۔
(3)
يفري فريه: ان کی طرح کاٹتا، کیونکہ فَري کا معنی ہوتا ہے، اصلاح اور بہتری کی خاطر کاٹنا، مراد ہے بہترین طور پر کام کرنا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: " میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی " (یعنی سب آسودہ ہو گئے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2289]
وضاحت: 1 ؎: اس سے مرادعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی مضبوط خلافت وامارت کادورہے۔