صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : خَالِدٌ الْحَذَّاءُ حَدَّثَنَا ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " ، فَقُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ، فَقَالَ : " أَبُوهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ، قَالَ : " ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " , فَعَدَّ رِجَالًا .´ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد حذاء نے ، کہا ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا ( عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ سے میں نے پوچھا ، اور مردوں میں ؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے ۔ میں نے پوچھا ، اس کے بعد ؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب سے ۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لیے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ایک روایت کے آخر میں ہے حضرت عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں اس کے بعد میں خاموش ہو گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے سب سے آخر میں ذکر کریں۔
(صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 4358)
2۔
غزوہ ذات السلاسل 7ہجری میں ہوا۔
اس غزوے میں کفار نے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا تاکہ وہ اجتماعی طور پر فرارنہ اختیار کر سکیں۔
مسلمانوں کے لشکر کی کمان حضرت عمرو بن عاص ؓ کر رہے تھے۔
ان میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی موجود تھے۔
اس بنا پر حضرت عمرو بن عاص ؓ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید وہ ان سب سے افضل ہیں اس لیے انھیں امیر بنایا گیا ہے۔
اسی لیے انھوں نے مذکورہ سوالات کیے۔
3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو بکر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس دستے میں افضل لوگ موجود ہوں۔
ان پر کسی مصلحت کے پیش نظر مفضول کو امیر بنایا جا سکتا ہے۔
عمرو بن عاص ؓ کو ان کا سردار بنایا تھا۔
جب عمرو ؓ دشمن کے ملک کے قریب پہنچے تو انہوں نے اور مزید فوج طلب کی۔
آپ ا نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو سردار مقرر کر کے دوسو آدمی اور بھیجے۔
ان میں حضرت ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے۔
ابو عبیدہ ؓ جب عمرو ؓ سے ملے تو انہوں نے امام بننا چاہا لیکن عمرو بن عاص ؓ نے کہا آنحضرت انے آپ کو میری مدد کے لیے بھیجا ہے، سردار تو میں ہی رہوں گا۔
ابو عبیدہ نے اس معقول بات کو مان لیا اور عمر وبن عاص ؓ امامت کرتے رہے۔
حاکم کی روایت میں ہے کہ عمرو بن عاص ؓ نے لشکر میں انگار روشن کر نے سے منع کیا، حضرت عمر ؓ نے اس پر انکا ر فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے کہا چپ رہو، آنحضرت ﷺ نے جو عمرو کو سردار مقرر کیا ہے تو اس وجہ سے کہ وہ لڑائی کے فن سے خوب واقف کار ہے۔
بیہقی کی روایت میں ہے کہ عمروبن عاص ؓ جب لوٹ کر آئے تو اپنے دل میں یہ سمجھے کہ میں حضرت ابو بکر وحضرت عمر ؓ سے زیادہ درجہ رکھتا ہوں۔
اسی لیے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا، جس کا روایت میں تذکرہ ہے۔
جس کو سن کر انہیں حقیقت حال کا علم ہوگیا۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ مفضول کی امامت بھی افضل کے لیے جا ئز ہے کیونکہ حضرات شیخین اور ابو عبیدہ ؓ حضرت عمرو ؓ سے افضل تھے۔
1۔
غزوہ ذات سلاسل کے لیے نبی کریم ﷺ نے تین سو مہاجرین وانصار کا دستہ روانہ فرمایا۔
ان کے امیر حضرت عمرو بن عاص ؓ تھے، پھر ان کی امداد کے لیے حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ کی سرکردگی میں دوسومجاہدین مزید روانہ کیے۔
اس جنگ میں حضرت عمرو بن عاص ؓ نے مجاہدین کو آگ جلانے سے منع کردیا۔
حضرت عمر ؓ نے اس پر اعتراض کیا توحضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ انھیں اپنے حال پر چھوڑدوکیونکہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں ہمارا امیر بنایا ہے کیونکہ وہ جنگی فنون میں ماہر ہے۔
پھر حضرت عمر ؓ خاموش ہوگئے۔
جب دشمن کو شکست ہوئی تومجاہدین نے ان کا پیچھا کرنا چاہا لیکن حضرت عمرو بن عاص ؓ نے اس سے بھی روک دیا۔
جب فتح یاب ہوکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان باتوں کا ذکر کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے عرض کی کہ میں نے انھیں آگ روشن کرنے سے اس لیے منع کیا تھاکہ دشمن کو ہماری فوج کی کمی کا علم نہ ہوسکے۔
اوردشمن کا پیچھا کرنے سے اس بنا پر روکاتھا کہ آگے دشمن کے مددگار موجود تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس امر پر عمروبن عاص ؓ کی تحسین فرمائی۔
2۔
حضرت عمرو بن عاص ؓ کے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسے لشکر کا امیر بنایا ہے جس میں حضرت ابوبکر ؓ اورحضرت عمر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی موجود ہیں، لہذاآپ کے نزدیک میرا مقام بہت بلند ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا کہ آپ کوتمام لوگوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے؟ 3۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مفضول کو فاضل پر امیربنانا جائز ہے جبکہ مفضول میں کوئی ایسا وصف ہو جس کے باعث وہ دوسروں سے ممتاز ہو۔
(فتح الباري: 94/8)
4۔
اس جنگ میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کو احتلام ہوگیا۔
چونکہ سخت سردی تھی، اس لیے انھوں نے تیمم کرکے نماز پڑھائی اور دلیل کے طورپریہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔
‘‘ (النساء: 29/4)
جب رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کا ذکر ہوا تو آپ نے انھیں کچھ نہ کہا۔
امام بخاری ؒ نے تعلیقاً اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التیمم، باب: 7)
ذات السلاسل: یہ 7ھ کا واقعہ ہے اور اس میں مشرکوں نے اپنے آپ کو ایک دوسرے سے باندھ لیا تھا، تاکہ میدان نہ چھوڑیں یا وہاں سلسل نامی چشمہ تھا یا وہاں ریت کے ٹیلے تہ در تہ تھے۔
فوائد ومسائل: اس جنگ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی کے باوجود حضرت عمرو بن عاص کو امیر مقرر کیا گیا، اس لیے ان کے دل میں خیال گزرا کہ شاید آپ کو سب سے زیادہ پیار مجھ ہی سے ہے، اس لیے یہ سوال کیا اور جب چند ناموں میں ان کا نام نہ آیا تو خاموش ہو گئے۔
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: " عائشہ "، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: " ان کے باپ " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3885]
وضاحت:
1؎:
پیچھے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اورمردوں میں ان کے شوہرعلی اللہ کے رسول ﷺ کو زیادہ محبوب تھے، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول ﷺکے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔