حدیث نمبر: 3658
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَتَبَ أَهْلُ الْكُوفَةِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي الْجَدِّ ، فَقَالَ : أَمَّا الَّذِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ أَنْزَلَهُ أَبًا يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی ، انہیں ایوب نے ، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ کوفہ والوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دادا ( کی میراث کے سلسلے میں ) سوال لکھا تو آپ نے انہیں جواب دیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر اس امت میں کسی کو میں اپنا جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ ( وہی ) ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ دادا ، باپ کی طرح ہے ( یعنی جب میت کا باپ زندہ نہ ہو تو باپ کا حصہ دادا کی طرف لوٹ جائے گا ۔ یعنی باپ کی جگہ دادا وارث ہو گا ) ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3658
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3658. حضرت عبداللہ بن ابو ملیکہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ اہل کوفہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو دادا(کی وراثت) کے متعلق خط لکھا تو آپ نے انھیں جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جس شخص کے بارے میں فرمایا: ’’میں اگر اس امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو اس کو بناتا۔‘‘ اس، یعنی ابو بکر ؓ نے دادا کو باپ کے قائم مقام قراردیاتھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3658]
حدیث حاشیہ:

حضرت ابوبکر ؓ نے استحقاق وراثت میں دادا کو باپ کے قائم مقام قراردیا کہ اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کا دادا زندہ ہو تو وہ باپ کی عدم موجودگی میں اپنے پوتے کی وراثت کا حقدار ہوگا۔

امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو اس مقصد کے لیے پیش کیا ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر میں امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن میرا خلیل صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
‘‘ اس کے متعلق تفصیل بیان ہوچکی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3658 سے ماخوذ ہے۔