حدیث نمبر: 3651
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ وَنَحْنُ صِغَارٌ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے عبیدہ بن قیس سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین زمانہ میرا ہے ۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے پھر ان لوگوں کا جو اس کے بعد آئیں گے ۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم کھانے سے پہلے گواہی ان کی زبان پر آ جایا کرے گی ۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گواہی اور عہد ( کے الفاظ زبان پر لانے ) کی وجہ سے ہمارے بڑے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 3651
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3651. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں۔ پھر وہ جو ان کے متصل ہوں گے۔ پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آئے گی اور قسم دینے سے پہلے گواہی دینے کے لیے تیار ہوں گے۔‘‘ (راوی حدیث) ابراہیم نخعی ؒنے کہا: جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے تو ہمارے بزرگ ہمیں گواہی دینے اور عہد وپیمان کرنے پر مارتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3651]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ ان کو خود اپنے دماغ پر اور اپنی زبان پر قابو حاصل نہ ہوگا، جھوٹی گواہی دینے اور جھوٹی قسم کھانے میں وہ ایسے بے باک ہوں گے کہ فی الفور ہی یہ چیزیں ان کی بانوں پر آجایاکریں گی۔
بغور دیکھا جائے تو آج عام اہل اسلام کا حال یہی ہے، إلا ماشاء اللہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3651 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3651. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں۔ پھر وہ جو ان کے متصل ہوں گے۔ پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ گواہی دینے سے پہلے قسم ان کی زبان پر آئے گی اور قسم دینے سے پہلے گواہی دینے کے لیے تیار ہوں گے۔‘‘ (راوی حدیث) ابراہیم نخعی ؒنے کہا: جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے تو ہمارے بزرگ ہمیں گواہی دینے اور عہد وپیمان کرنے پر مارتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3651]
حدیث حاشیہ:

صحابہ کرام ؓ کی تین قسمیں ہیں:۔
مہاجرین،جنھوں نے دین کے لیے مصیبتیں برداشت کیں بالآخر وہ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔

۔
انصار،جنھوں نے مہاجرین کواپنے ہاں جگہ دی اور دین اسلام کے لیے مالی قربانی دی۔

۔
دیگر صحابہ کرام ؓ جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے۔
دین کے لیے انھیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
شرف صحابیت میں سب برابر ہیں،البتہ دیگر اعتبار سے مسلمان ہوئے۔
دین کے لیے انھیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
شرف صحابیت میں سب برابر ہیں،البتہ دیگر اعتبار سے ان میں ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔

حدیث میں سبقت سے مراد یہ ہے کہ دین سے بے پروائی کی وجہ سے ان میں حرص اور لالچ کا غلبہ ہوگا بس یہی ہوگا کہ کس سے ابتدا کریں شہادت سے یا قسم سے،گویا ان دونوں کی وجہ سے ایک دوڑ لگی ہوگی۔
اس کا مصداق دیکھنا ہوتو ہماری عدالتوں میں تیار شدہ گواہوں کو دیکھ لیا جائے۔
دولت کے لالچ میں وہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسم دینے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں،حالانکہ گواہی چشم دید واقعہ اور قسم یقینی امر کی ہوتی ہے لیکن انھیں اس سے کوئی غرض نہیں۔

حضرت ابراہیم نخعی ؒ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بزرگ ہمیں تادیباً مارتے تھے کہ ہم لوگ گواہی اور قسم کو اپنا معمول نہ بنائیں اور وہ ہمیں احتیاط کی روش اختیار کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3651 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6658 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6658. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میرے زمانے کے لوگ بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جوان کے قریب ہوں گے۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہوں کہ ان کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور ان کی قسم ان کی شہادت سے سبقت کرے گی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6658]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ گواہی دینے میں ان کو کوئی باک نہ ہوگا نہ جھوٹ بولنے ئےڈر یں گے۔
جلدی میں کبھی پہلے قسم کھالیں گے پھر گواہی دیں گے پھر قسم کھائیں گے۔
اس لیے بزرگان سلف اپنے تلامذہ کو گواہی دینے اور قسم کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے بلکہ أشهد بااللہ یا علي عهداللہ جیسے کلمات منہ سے نکلانے سے بھی منع کرتے تھے تاکہ موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت نہ ہو جائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6658 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6658 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6658. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میرے زمانے کے لوگ بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جوان کے قریب ہوں گے۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہوں کہ ان کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور ان کی قسم ان کی شہادت سے سبقت کرے گی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6658]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان کے متعلق اہل علم کے چار قول ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ میں گواہی دیتا ہوں یا قسم اٹھاتا ہوں یا میں عزم کرتا ہوں۔
یہ قسم کے الفاظ ہیں حانث ہونے کی صورت میں کفارہ دینا ہو گا۔
٭ صرف ’’میں گواہی دیتا ہوں۔
‘‘ کے الفاظ قسم کے لیے کافی نہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور قسم کا ارادہ کیا تو ایسا کہنا قسم ہے۔
٭ شہادت کے الفاظ قسم کے لیے کافی نہیں ہوں گے کیونکہ قسم اٹھانا اور گواہی دینا دونوں الگ الگ معاملات ہیں۔
٭ میں کعبے کو گواہ بناتا ہوں یا نبی کو گواہ کرتا ہوں، یہ الفاظ قسم نہیں ہوں گے۔
(عمدة القاري: 707/15) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شہادت کے الفاظ قسم کے لیے کافی نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے جو الفاظ بیان کیے ہیں کہ ان کی گواہی قسم سے اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت کرے گی، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم اور شہادت کے درمیان فرق ہے۔
ہاں، اگر ان الفاظ سے قسم کی نیت کی ہے تو یقیناً قسم ہی مراد ہو گی۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 662/11) (3)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب لوگ شریعت کی پابندی نہیں کریں گے اور انہیں شرعی ضوابط کا علم نہ ہو گا، اس لیے وہ گواہی کی جگہ قسم کھائیں گے اور قسم کی جگہ گواہی دیں گے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6658 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6429 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6429. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہوں گے، پھر وہ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ جوان کے بعد ہوں گے۔ پھران کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:6429]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ ان کو گواہی دینے میں کچھ باک ہوگا نہ قسم کھانے میں کوئی تامل ہوگا۔
گواہی دے کر قسمیں کھائیں گے کبھی قسمیں پھر اس کے بعد گواہی دیں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6429 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6429 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6429. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہوں گے، پھر وہ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ جوان کے بعد ہوں گے۔ پھران کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:6429]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین زمانوں کو بہترین زمانہ قرار دیا ہے۔
واقعی یہ وقت خیر و برکت کا تھا۔
اس کے بعد عجیب و غریب بدعات نے سر نکالا۔
فلاسفہ پیدا ہوئے جو دین اسلام کو خود ساختہ عقل کے آئینے میں دیکھنے لگے۔
معتزلہ نے زبانیں کھولیں، پھر اہل علم کو فتنۂ خلق قرآن سے دوچار ہونا پڑا۔
حالات تبدیل ہو گئے۔
سنگین قسم کے اختلافات پیدا ہو گئے اور روز بروز احکام شریعت میں کمی ہونے لگی۔
(2)
دینی معاملات میں انحطاط اس قدر ہو گا کہ جھوٹی گواہی دینے یا جھوٹی قسم اٹھانے میں انہیں کوئی تردد نہیں ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔
جھوٹی گواہی دینے والوں کی کثرت ہے۔
ہمارے عدالتی نظام میں دولت کے بل بوتے پر ہر قسم کے گواہ دستیاب ہیں۔
امانتوں میں خیانت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔
قومی خزانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، پھر عہد و پیمان کر کے اسے توڑنے والوں کی بہتات ہے۔
ایسے لوگ ناجائز پیسہ حاصل کر کے جسمانی اعتبار سے موٹی موٹی توندوں والے بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں، خاص طور پر محکمہ پولیس میں اعلیٰ افسران اس کی زندہ مثال ہیں۔
یہ لوگ موٹاپے کو پسند کرتے ہیں، اگرچہ طبعی طور پر موٹاپا مذموم نہیں لیکن فکر آخرت رکھنے والے انسان کو نہ تو موٹاپا آتا ہے اور نہ اس کی توند ہی بڑھتی ہے۔
واللہ المستعان
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6429 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2652 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2652. حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’سب لوگوں میں بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں۔ ان کے بعد کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلےقسم اٹھائیں گے۔‘‘ حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں ہمارے بزرگ ہمیں لڑکپن میں گواہی اور عہد و پیمان پر مارا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2652]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ کہ أشھد باللہ یا علی عھد اللہ ایسی باتوں کے منہ سے نکالنے پر ہمارے بزرگ ہم کو مارا کرتے تھے تا کہ قسم کھانے کی عادت نہ پڑ جائے۔
موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت بہتر نہیں ہے قسم میں احتیاط لازمی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2652 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2652 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2652. حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’سب لوگوں میں بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں، پھر جو ان کے قریب ہیں۔ ان کے بعد کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلےقسم اٹھائیں گے۔‘‘ حضرت ابراہیم نخعی فرماتے ہیں ہمارے بزرگ ہمیں لڑکپن میں گواہی اور عہد و پیمان پر مارا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2652]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں بہترین زمانوں سے مراد صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ ہے۔
اس کے بعد مسلمان آفتاب نبوت سے جتنے دور ہوتے گئے اتنا اندھیرا چھاتا گیا۔
آخر کار ایسے تیز طرار لوگ پیدا ہوں گے کہ گواہی دینا اور قسم اٹھانا ان کا پیشہ ہو گا۔
وہ کبھی گواہی سے پہلے قسمیں اٹھائیں گے اور کبھی قسم سے پہلے گواہی دیں گے۔
اس کا سبب یہ ہو گا کہ وہ لوگ دینی احکام کی پرواہ نہیں کریں گے۔
(2)
حضرت ابراہیم نخعی ؒ کے زمانے میں گواہی کے متعلق بزرگوں کا اہتمام اس لیے تھا کہ گواہی سوچ سمجھ کر دی جائے اور اس سلسلے میں کسی پر زیادتی نہ کی جائے۔
بہرحال جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹی قسم اٹھانا بہت مذموم حرکت ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2652 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2533 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"بہترین لوگ میرے ساتھی ہیں،پھر جو ان سے ملے ہوں گے،پھر جو ان سے ملے ہوں گے،"مجھے معلوم نہیں ہے،آپ نے یہ تیسری دفعہ فرمایا،یاچوتھی دفعہ،"پھر ان کے بعد ناخلف لوگ نائب ہوں گے،ان کی شہادت قسم سے سبقت لے جائےگی اور ان کی قسم،شہادت سے پہلے ہوگی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6472]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اوپر کی روایات کی روشنی میں یہ بات آپ نے تبع تابعین کے بعد کے لوگوں کے بارے میں فرمائی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2533 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2533 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میری اُمت کا بہترین گروہ وہ ہے جو مجھ سے متصل ہے،پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہوں گے،پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہوں گے،پھر ایسے لوگ آئیں گے،جو قسم سے پہلے شہادت دیں گے اور شہادت سے پہلے قسم۔"ہناد نے اپنی روایت میں قرن کالفظ بیان نہیں کیا اور قتیبہ کی روایت میں،قوم کی جگہ اقوام کا لفظ ہے۔قرن ایک دور کاطبقہ یاگروہ یاجماعت۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6469]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث میں آپ کی قرن سے مراد، صحابہ کرام ہیں، جس سے معلوم ہوا، صحابہ کرام تمام امت سے افضل اور برتر ہیں، شرف صحبت و رفاقت میں کوئی ان کا شریک و ساتھی نہیں ہے، اگرچہ انفرادی اور شخصی طور پر اس کے علاوہ کسی اور صفت میں کوئی شخص، کسی صحابی سے بڑھ جائے، لیکن مجموعی طور پر کوئی مجموعہ کسی اعتبار سے ان پر سبقت نہیں لے جا سکتا، صحابہ کرام کے بعد تابعین عظام کا درجہ ہے اور ان کے بعد بہتر درجہ اور مرتبہ تبع تابعین کو حاصل ہے اور بعد والوں کا کوئی مجموعہ، ان میں سے کسی مجموعہ پر کسی اعتبار سے فائق نہیں ہو سکتا، ہاں انفرادی طور پر، ان میں سے کسی فرد پر کسی صفت میں بازی لے جا سکتا ہے اور قسم و شہادت کا ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا مقصد یہ ہے یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے، بغیر کسی توقف کے قسم اور شہادت کے لیے تیار ہو جائیں گے، یا قسم اور شہادت دونوں کو جمع کریں گے، کبھی شہادت کے بعد قسم اٹھائیں گے اور کبھی قسم اٹھا کر شہادت دیں گے، آخری تبع تابعی 220ھ تک زندہ رہا اور آخری تابعی 170ھ تک رہا۔
آخری صحابی 110ھ تک زندہ رہا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2533 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3859 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۱؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ۲؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ۳؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی ۴؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3859]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبیﷺکے زمانہ میں تھے، ان کا عہد ایک قرن ہے، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے، آخری صحابی (واثلہ بن اسقع) کا اور انس رضی اللہ عنہ کا انتقال110ھ میں ہوا تھا۔

2؎:
یعنی تابعین رحمہم اللہ۔

3؎:
یعنی: اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سسنہ 220ھ تک ممتد ہے (بعض علماء نے ان تین قرون سے:عہد صدیقی، عہد فاروقی اورعہد عثمانی مراد لیا ہے، کہ عہدعثمانی کے بعد فتنہ وفساد کا دور دورہ ہو گیا تھا، واللہ اعلم)

4؎:
یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طورسے مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3859 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2362 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2362]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
’قرن‘‘سےمراد ایک زمانے کےلوگ یعنی ایک نسل کےلوگ ہوتےہیں۔
یہاں قرن اول سےمراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جماعت ان سےمتصل لوگوں سےمراد تابعین عظام اوران سے متصل لوگوں سے مراد تبع تابعین حضرات ہیں۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امت کےافضل ترین افراد ہیں ادنی سےادنی درجےکا صحابی افضل ترین تابعی سےافضل ہے۔

(3)
صحابہ تابعین اورتبع تابعین کا مقام بعد کےتمام افراد سےبلند ہے۔

(4)
گواہی اورقسم بہت اہم اورنازک ذمے داری ہے۔
جھوٹی گواہی کی وجہ سے لوگوں کےفیصلے غلط ہوتے ہیں جن کی وجہ سے کسی کا حق دوسرے کومل جاتا ہے اورحق دارمحروم رہ جاتا ہے۔
اسی طرح جھوٹی قسم کی وجہ سے جھوٹ پراعتبار کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سی ناانصافیاں واقع ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ جھوٹی قسم کھانا اللہ کی شان میں گستاخی بھی ہے۔

(5)
قسم اورگواہی ایک دوسرے سےجلد آنے کا مطلب یہ ہےکہ انھیں اس کی اہمیت اورنزاکت کا احساس نہیں ہوگا، لہٰذا بلاتکلف سچی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، خاص طورپرگواہی دیتےوقت جھوٹی قسمیں کھانے میں باک محسوس نہیں کریں گے۔
یہ بہت بری عادت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2362 سے ماخوذ ہے۔