صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُونَ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُونَ : نَعَمْ فَيُفْتَحُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ يَغْزُونَ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُونَ : نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جہاد کے لیے فوج جمع ہو گی ، پوچھا جائے گا کہ فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو ؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی ۔ پھر ایک جہاد ہو گا اور پوچھا جائے گا : کیا فوج میں کوئی ایسے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی صحبت اٹھائی ہو ؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گا ۔ پھر ان کی دعا کی برکت سے فتح ہو گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے۔
’’پھر جہاد کے موقع پر پوچھا جائے گا۔
کیا فوج میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے تابعین کی صحبت اٹھائی ہو؟ جواب دیا جائے گا۔
’’ہاں‘‘ تو انھیں بھی فتح نصیب ہوگی۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجهاد، حدیث: 2897)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بہتر زمانہ میرا ہے پھر اس کے بعد آنے والا پھر اس کے بعد آنے والا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الشهادات، حدیث: 2651)
مطلب یہ ہے کہ صحا بہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین میں خیرو برکت ہوگی اس کے بعد زوال شروع ہو جائے گا۔
(فتح الباري: 109/6)
بعض روایات میں چوتھے طبقے کا بھی ذکر ہے مگر وہ روایات معیار محدثین پر پوری نہیں اترتیں،بہر حال اصل تین طبقے ہیں۔
صحابہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین ؒ اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا۔
واللہ أعلم۔
رسول کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ میرا زمانۂ پھر میرے صحابہ کا زمانۂ اور پھر تابعین کا زمانۂ یہ بہترین زمانے ہیں۔
ان خیرو برکت کے زمانوں میں مسلمان صحیح معنوں میں خدا رسیدہ مسلمان تھے‘ ان کی دعاؤں کو قبول عام حاصل تھا۔
بہرحال ہر زمانے میں ایسے خدا رسیدہ لوگوں کا وجود ضروری ہے۔
ان کی صحبت میں رہنا‘ ان سے دعائیں کرانا اور روحانی فیوض حاصل کرنا عین خوشی نصیبی ہے۔
ایسے ہی لوگوں کو قرآن مجید میں اولیاء اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے جن کی شان میں ﴿الذینَ اٰمنُوا وکانُوا یتقُونَ﴾ کہا گیا ہے کہ وہ لوگ اپنے ایمان میں پختہ اور تقویٰ میں کامل ہوتے ہیں۔
جن میں یہ چیزیں نہ پائی جائیں ان کو اولیاء اللہ جاننا انتہائی حماقت ہے۔
مگر افسوس کہ آج کل بیشتر نام نہاد مسلمان اس حماقت میں مبتلا ہیں کہ وہ بہت سے چرسی افیونی حرام خور نکھٹو لوگوں کو محض ان کے بالوں اور جبوں قبوں کو دیکھ کر خدا رسیدہ جانتے ہیں‘ حالانکہ ایسے لوگوں کے بھیس میں ابلیس کی اولاد ہے جو ایسے بہت سے کم عقلوں کو گمراہ کرکے دوزخی بنانے کا فرض ادا کر رہی ہے۔
اللهم إنا نعوذبك من شرور أنفسنا حدیث سے میدان جہاد میں نیک ترین لوگوں سے دعا کرانے کا ثبوت هُو الدُعاءُ سِلاحُ المؤمنِ مومن کا بہترین ہتھیار دعا ہے۔
سچ ہے ’’بلا کو ٹال دیتی ہے دعا اللہ والوں کی۔
‘‘
1۔
رسول اللہ ﷺ کی اس پیش گوئی کے مطابق مذکورہ خیر وبرکت صحابہ کرام ؓ تابعین عظام ؒاور تبع تابعین ؒکے حصے میں آئی۔
ان کی دعاؤں کی وجہ سے فتوحات حاصل ہوئیں۔
یہ حضرات اگرچہ دنیاوی معاملات میں کمزور تھے لیکن امور آخرت میں بڑے قوی اور مضبوط تھے۔
2۔
ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’تمام زبانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر صحابہ کرام ؓ اور پھر تابعین عظام ؒ کا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الشھادات، حدیث 2651)
ان خیر و برکت کے زمانوں میں مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے۔
ان کی دعاؤں کو قبول عام حاصل تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی شان ان الفاظ میں بیان کی ہے: ’’وہ اپنے ایمان میں پختہ اور تقویٰ میں کامل ہوتے ہیں۔
‘‘ (یونس 10/63)
3۔
علامہ ابن بطال ؒ کہتے ہیں: کمزور لوگ دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت آگے اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے۔
ان کے دل دنیاوی زیب وزینت سے پاک ہوتے ہیں،اس لیے کمزور لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی خیر وبرکت کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 109/6)
اسی لیے علماء نے بدعت کی تعریف یہ قرار دی ہے کہ دین میں جو کام نیا نکالاجائے جس کا وجود ان تین زمانوں میں نہ ہو۔
ایسی ہربدعت گمراہی ہے اور جن لوگوں نے بدعت کی تقسیم کی ہے حسنہ اور سیئہ کی طرف، ان کی مراد بدعت سے بدعت لغوی ہے۔
ہمارے مرشد شیخ احمد مجدد سرہندی ؒ فرماتے ہیں کہ میں توکسی بدعت میں سوائے ظلمت اور تاریکی کے مطلق نور نہیں پاتا۔
(وحیدی)
1۔
اس حدیث میں لوگوں کے تین طبقات کا بیان ہے: پہلا طبقہ صحابہ کرام ؓ کا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی رفاقت اختیار کی یا اس نے آپ کا دیدا رکیا،پھر وہ حالتِ اسلام پر فوت ہوا۔
دوسرا تابعین عظام کا ہے۔
اور تابعین وہ مسلمان ہیں جنھوں نے کم از کم ایک صحابی کی صحبت اٹھائی ہو،پھر اسلام کی حالت میں فوت ہوا ہو۔
تیسر طبقہ تبع تابعین کا ہے۔
ان سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے کسی تابعی کو دیکھا ہو،پھر اسی حالت اسلام میں انھیں موت آئی ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے ان تین زمانے والوں کی فضیلت بیان کی ہے کہ وہ خیر القرون ہیں جیسا کہ آئندہ حدیث میں آئے گا۔
2۔
اس بناپر بعض علماء نے بدعت کی تعریف یہ کی ہے کہ دین میں کوئی ایسا نیا کام ایجاد کیا جائے جس کا وجود خیرالقرون میں نہ ہو،ایسی ہربدعت گمراہی ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ خیر و برکت اور دین کے مثالی غلبے کا دور صحابہ کرام ، تابعی اور تبع تابعی کا دور تھا، ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمام زمانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر صحابہ کرام ()، پھر تابعین عظام (رحمها اللہ) کا “۔ [صحيح البخاري: 2651]
خیر القرون کے لوگوں کا تقویٰ اور تو کل مثالی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی صلاحیتوں اور فتوحات میں برکت فرمائی۔ جو قوم آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دے وہ مغلوب رہتی ہے۔ خیر القرون آخرت کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کامیاب تھے۔