حدیث نمبر: 3544
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام يُشْبِهُهُ ، قُلْتُ : لِأَبِي جُحَيْفَةَ صِفْهُ لِي ، قَالَ : كَانَ أَبْيَضَ قَدْ شَمِطَ وَأَمَرَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ قَلُوصًا ، قَالَ : فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَقْبِضَهَا " .
مولانا داود راز

´مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ وہ بیان کرتے تھے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، حسن بن علی رضی اللہ عنہما میں آپ کی شباہت پوری طرح موجود تھی ۔ اسماعیل بن ابی خالد نے کہا ، میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کریں ۔ انہوں نے کہا آپ سفید رنگ کے تھے ، کچھ بال سفید ہو گئے تھے اور آپ نے ہمیں تیرہ اونٹنیوں کے دیئے جانے کا حکم کیا تھا ۔ لیکن ابھی ہم نے ان اونٹنیوں کو اپنے قبضہ میں بھی نہیں لیا تھا کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3544
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3543 | سنن ترمذي: 2827 | سنن ترمذي: 3777

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3544. حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شکل وصورت میں آپ سے بہت ملتے جلتے تھے۔ (راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ) میں نے کہا: آپ میرے سامنے آپ ﷺ کا حلیہ بیان کریں تو انھوں نے فرمایا: آپ سفید رنگ کے تھے، سر کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے۔ نبی ﷺ نے ہمیں تیرہ اونٹنیاں دینے کا حکم دیا تھا۔ انھیں وصول کرنے سے پہلے ہی نبی ﷺ کی وفات ہو گئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3544]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید نقرئی بالوں کا ذکر ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کے سر داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3547)
ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑھاپے کے عیب سے محفوظ رکھا آپ کے سر مبارک میں صرف سترہ یا اٹھارہ بال سفید تھے۔
(مسند أحمد: 254/3)
ایک دفعہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں سفید بال تھے؟ انھوں نے جواب دیا نہیں البتہ آپ کی مانگ میں چند بال سفید تھے وہ بھی آپ جب تیل لگاتے تو محسوس نہیں ہوتے تھے یعنی تیل کی چمک میں بالوں کی سفیدی چھپ جاتی۔
(شمائل الترمذي، ص: 53)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین خلیفہ بلا فصل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے کوئی وعدہ کیا تھا وہ ہمیں بتائے ہم اسے پورا کریں گے۔
ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میرے عرض کرنے پر انھوں نے ہمیں تیرہ اونٹنیاں عنایت کردی تھیں۔
(فتح الباري: 694/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3544 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3543 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3543. حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔ شکل و صورت میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے بہت مشابہ تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3543]
حدیث حاشیہ:

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3748)
ان دونوں روایات میں اختلاف نہیں ہے ممکن ہے کہ وجوہ مشابہت مختلف ہوں۔
ترمذی کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نصف اعلیٰ یعنی سر چہرہ اور سینہ میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشابہت تھی اور آپ کے نصف اسفل یعنی ٹانگوں، پاؤں اور رفتار میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشابہ تھے الغرض دونوں شہزادےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تصویر تھے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3779 و فتح الباري: 123/7)
ان کے علاوہ حضرت جعفر بن ابی طالب حضرت قثم بن عباس، ابو سفیان بن حارث، سائب بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔
(عمدةالقاري: 291/11)
اس حدیث سے شیعوں کا بھی رد ہوا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اہل بیت کا دشمن اور مخالف قراردیتے ہیں کیونکہ یہ قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہےکوئی بے وقوف بھی ایسا خیال نہیں کر سکتا۔
حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تک زندہ رہے۔
وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور آپ کی آل واولاد کے خیر خواہ اور جاں نثار بن کر رہے اور انھیں ان سے بہت زیادہ محبت تھی۔
(فتح الباري: 694/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3543 سے ماخوذ ہے۔