حدیث نمبر: 3501
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ خلافت اس وقت تک قریش کے ہاتھوں میں باقی رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3501
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7140 | صحيح مسلم: 1820

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3501. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’یہ خلافت قریش میں رہے گی، جب تک ان میں دو آدمی بھی(دیندار)باقی رہیں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3501]
حدیث حاشیہ: امام نووی ؒنے کہا ہے کہ اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے اور قیامت تک سوا قریشی کے غیر قریشی سے خلافت کی بیعت کرنا درست نہیں اور صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اگر کسی زمانہ میں قریشی کے سوا اور کسی قوم کا شخص بادشاہ بن بیٹھا ہے تو ا س نے قریشی خلیفہ سے اجازت لی ہے اور اس کا نائب بن کر رہا ہے۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3501 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3501. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’یہ خلافت قریش میں رہے گی، جب تک ان میں دو آدمی بھی(دیندار)باقی رہیں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3501]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے، لیکن یہ استحقاق اقامت ِ دین سے مقید ہے، اس لیے جب خلفاء نے امور دین میں کمزوری ظاہر کی تو حالات تبدیل ہوگئے اور جب تک یہ قریشی حضرات دین کو درست رکھیں گے تو قیادت ان میں باقی رہے گی اگرچہ وہ تعداد میں دو ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ قحطان سے ایک شخص نکلے گا جو اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانگے گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7117)
اس پرامام بخاری ؒنے عنوان قائم کیا ہے کہ حالات تبدیل ہوجائیں گے حتی کہ بتوں کی پوجاشروع ہوجائےگی۔
اس تبدیلی سے پہلے پہلے قریش ہی خلافت کے مستحق ہوں گے۔
دورحاضر میں اگرچہ قریش حکمران نہیں ہیں، تاہم ان کےاستحقاق کےمتعلق کسی کو بھی مجالِ انکار نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکور حدیث میں کسی واقعے کی خبر نہیں دی بلکہ حکماً فرمایا کہ ان میں حکومت رهنی چاہیے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3501 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7140 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7140. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ امر خلافت قریش میں اس وقت تک رہے گا جب تک ان کے دو شخص بھی باقی رہیں گے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7140]
حدیث حاشیہ: اور جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔
اگر دین کو چھوڑ دیں گے تو امر خلافت دیگر اقوام کے حوالہ ہوجائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7140 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7140 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7140. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ امر خلافت قریش میں اس وقت تک رہے گا جب تک ان کے دو شخص بھی باقی رہیں گے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7140]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں اشارہ ہے کہ جب تک قریش موجود رہیں گے خلافت کے حق دار ہوں گے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دین اسلام کے علمبردار اور اس کےنفاذ کے لیے عملاً اقدام کریں،بصورت دیگرانھیں اس خلافت سے محروم کردیا جائے گا،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: \"یہ قبیلہ قریش لوگوں کو تباہی کے کنارے پر پہنچادے گا۔
\"لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ایسے حالات میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟آپ نے فرمایا: \"کاش! لوگ ان سےالگ ہوجائیں۔
\"(صحیح البخاری المناقب حدیث 3604)
کیونکہ اس وقت ان میں دین اسلام کی سربلندی کے بجائے ملک گیری کی ہوس آجائے گی اور دنیا کی خاطر جنگ و قتال کریں گے۔

بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ خلافت کے حقداار قریش ہیں بشرط یہ کہ اس معیار کو قائم رکھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی بات کو معیار بنا کر انصار کو لاجواب کیا تھا،ان کاموقف تھا کہ ایک امیرانصار سے اور ایک امیر مہاجرین سے مقرر کردیا جائے،پھرتمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اس امرپر اتفاق ہوگیا کہ خلافت صرف قریش کا حق ہے،البتہ معتزلہ اور خوارج نے اس سے اختلاف کیا ہے۔
واللہ اعلم۔w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7140 سے ماخوذ ہے۔