حدیث نمبر: 3478
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا ، فَقَالَ : لِبَنِيهِ لَمَّا حُضِرَ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ، قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، قَالَ : فَإِنِّي لَمْ أَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوا فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ ، قَالَ : مَخَافَتُكَ ، فَتَلَقَّاهُ بِرَحْمَتِهِ ، وَقَالَ مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ` گزشتہ امتوں میں ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے خوب دولت دی تھی ۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میں تمہارے حق میں کیسا باپ ثابت ہوا ؟ بیٹوں نے کہا کہ آپ ہمارے بہترین باپ تھے ۔ اس شخص نے کہا لیکن میں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا ۔ اس لیے جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا ، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور ( راکھ کو ) کسی سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا ۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا ۔ لیکن اللہ پاک نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے ہی خوف سے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی ۔ اس حدیث کو معاذ عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3478
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2757

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3478. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تم سے پہلے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ مال واسباب دے رکھا تھا۔ جب اس پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: میں تمہارا کیساباپ ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ ہمارے لیے بہترین باپ ہیں۔ اس نے کہا: میں نے اب تک کوئی اچھا کام نہیں کیا، لہذا جب میں مرجاؤں تومجھے جلادینا، پھر مجھے پیس کر تیز ہوا میں اُڑا دینا، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے(اس کے بکھرے ہوئے ذرات کو) اکھٹا کرکے فرمایا: تجھے اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: (اے اللہ!) تیرے خوف نے، چنانچہ اللہ نے اپنی رحمت سے اس کا استقبال کیا۔‘‘ معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے خبر دی، انھوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے اور انھوں نےنبی کریم ﷺ سے اس حدیث کو بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3478]
حدیث حاشیہ:
اس کا یہ کام قدرت الٰہی کے عقیدے کے منافی تھا لیکن یہ معاملہ اس وقت کیا جب اس پر خوف کا غلبہ تھا اس بنا پروہ تدبر اور سوچ و بچارسے محروم تھا اور اسے ہر چیز بھول چکی تھی۔
ایسے حالات کی وجہ سے اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوا۔
بہر حال اس شخص کا اللہ پر ایمان تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کرنے پر اس نے بتایا کہ مجھے تیرے خوف نے اس کام پر آمادہ کیا۔
شدت خوف کے وقت اگر کوئی ایسی بات یا ایسا کام کرے جو دائرہ اسلام سے خارج ہو نے کا باعث ہو تو اس پر مؤاخذہ نہیں ہو گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3478 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2757 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ" تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا چنانچہ اس نے اپنی اولاد سے کہا، جو میں تمھیں حکم دینے والا ہوں، لازماً تم اس پر تم عمل پیرا ہو گے یا میں اپنی وراثت تمھارے سواکسی اورکو دے دوں گا، جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا راوی کہتا ہے میرا ظن غالب یہی ہے کہ اس نے کہا، پھر مجھے پیس ڈالنا اور مجھے ہوامیں اڑادینا کیونکہ میں نے اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6984]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
راشه: اس کو عطا کیا، اگرراسه تو معنی ہوگا، (مال اور اولاد کا)
سرداربنایا۔
ابتئر: اور ہمزہ کوہاء سے بدل دیتے ہیں، ابتهر، جمع کیا، ذخیرہ کیا، یعنی آگے بھیجا۔
فما تلافاه غيرها: اس کے گناہوں کی تلافی اور ازالہ خوف الٰہی ہی نے کیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2757 سے ماخوذ ہے۔