حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ ، وَأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی فرات نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن یعمر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے ، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے ۔ اگر کسی شخص کی بستی میں طاعون پھیل جائے اور وہ صبر کے ساتھ اللہ کی رحمت سے امید لگائے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ ہو گا وہی جو اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھا ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس امت پر اللہ کی بہت مہربانی ہے کیونکہ جو بیماری دوسری امتوں کے لیے بطور عذاب مسلط کی گئی تھی وہ اس امت کے لیے باعث رحمت بنا دی گئی ہے۔
اس حدیث کے مطابق طاعون سے مرنا شہادت صغریٰ ہے زمانہ طاعون میں ثواب کی نیت سے وہاں قیام کرنا بھی خیرو برکت ہے مذکورہ حدیث میں ایسے شخص کو شہادت کی بشارت دی گئی ہے اگرچہ وہ زمانہ طاعون کے بعد کسی اور بیماری کی وجہ سے فوت ہو۔
2۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓسے منقول ہے کہ وہ طاعون کے زمانے میں اپنے بیٹوں کو دیہات روانہ کردیتے تھے شاید انھیں مذکورہ حدیث نہیں پہنچی ہو گی۔
واللہ أعلم۔
(عمدة القاري: 228/11)
مولانا روم نے سچ کہا ہے۔
وز زنا خیز د وبا اندر جہات۔
مسلمان کے لیے طاعون کی موت مرنا شہادت کادرجہ رکھتا ہے جیسا کہ حدیث ہذا میں ذکر ہے۔
(1)
طاعون کی وجہ سے اجروثواب کا حق دار بننے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ ہے کہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اسی مقام پر ٹھہرا رہے، وہاں سے بھاگ کر کسی دوسری جگہ نہ جائے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے، وہاں ٹھہرتے ہوئے کسی قسم کی پریشانی کو اپنے دل میں جگہ نہ دے۔
اگر اس کا گمان ہو کہ یہاں سے نکلنے میں اسے نجات مل جائے گی تو اسے ثواب سے محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا، خواہ وہ طاعون سے وہاں مر جائے۔
اور اگر وہ ان صفات سے متصف ہے تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اگرچہ اسے طاعون کی وجہ سے موت نہ آئے۔
اس کے تحت تین صورتیں ہیں: ٭ ان صفات کا حامل ہو اور طاعون کی وجہ سے وہاں موت آ جائے۔
٭ وہاں طاعون سے متاثر ہو لیکن اسے اس وجہ سے موت نہ آئے۔
٭ وہ طاعون سے متاثر نہ ہو اور اس کے بغیر موت آ جائے۔
(2)
بہرحال جو شخص صبر کرتے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے ایسے مقام سے نہ نکلے جہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی اور وہ طاعون کے مرض سے نہ مرے تو اسے شہید کے مثل ثواب ہو گا اور اگر وہ مر جائے تو وہ شہید کے حکم میں ہے۔
(فتح الباری: 10/238)
اللہ أحفظنا آمین
(1)
طاعون ایک پھوڑے سے شروع ہوتا ہے جو بغل یا گردن پر نکلتا ہے، اس کی وجہ سے بخار ہوتا ہے اور انسان جلدی موت کا لقمہ بن جاتا ہے۔
طاعون جیسی تکلیف دہ بیماری دنیا میں اپنے اسباب ہی سے آتی ہے لیکن اس بیماری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے باعث رحمت بنا دیا گیا ہے جس کی چند شرائط ہیں: ٭ جب اس کے شہر میں طاعون آئے تو ڈر کر وہاں سے بھاگ نہ جائے کیونکہ ڈر کر بھاگنا اس کی پختگی اور تقدیر پر اعتماد کے خلاف ہے۔
٭ شہر میں رہنا بھی ہو تو صابر بن کر رہے کسی کاروباری یا برادری کی مجبوری سے نہ ہو۔
٭ وہاں رہتے ہوئے ثواب کی نیت کو شامل کر لے کیونکہ اعمال میں نیت کو بڑا دخل ہوتا ہے۔
٭ یہ عقیدہ رکھے کہ جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھ دیا ہے نہ تو اس کے خلاف ہو سکتا ہے اور نہ اس سے فرار ہی ممکن ہے۔
اگر ان شرائط کی ادائیگی کے بعد وہاں موت آ گئی تو اسے شہید کا ثواب ملے گا۔
(2)
بہرحال رضا بالقضاء کے عقیدے سے انسان کی زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثلاً: تقدیر پر ایمان لانے سے بندے پر مصائب آسان ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، بندۂ مومن ان مصائب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان سمجھتا ہے اور صبر کرتا ہے۔
٭ ایمان بالقدر سے انسان ہمیشہ اپنی زندگی کے لیے نیک اعمال کی تمنا اور اچھے کردار کی جستجو کرتا ہے، اسی کو تقدیر کا فیصلہ قرار دیتا ہے، پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر وقت مصروف رہتا ہے۔
٭ تقدیر پر ایمان کے نتیجے میں بندے سے صحیح افعال صادر ہوتے ہیں اور اچھے اوصاف پیدا ہوتے ہیں، نیز وہ راہ حق میں دین کی حمایت کے لیے خطرات مول لیتا ہے اور اس پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے۔
٭ ایمان بالقدر کے ذریعے سے انسان مایوسی اور ناامیدی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتا، نیز نقصان اور پریشانی کے وقت خودکشی جیسی لعنت کو گلے نہیں لگاتا۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث میں مقصود یہ ہے کہ انسان کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ پہلے سے اللہ تعالیٰ کے ہاں فیصلہ شدہ ہے۔
انسان کو چاہیے کہ اس پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے اجروثواب کی امید رکھے۔
(فتح الباري: 627/11)