´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا ان سے شعبہ نے ان سے قتادہ نے ان سے ابوصدیق ناجی بکر بن قیس نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے خون ناحق کئے تھے پھر وہ نادم ہو کر ) مسئلہ پوچھنے نکلا ۔ وہ ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کیا اس گناہ سے توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے ؟ درویش نے جواب دیا کہ نہیں ۔ یہ سن کر اس نے اس درویش کو بھی قتل کر دیا ( اور سو خون پورے کر دئیے ) پھر وہ ( دوسروں سے ) پوچھنے لگا ۔ آخر اس کو ایک درویش نے بتایا کہ فلاں بستی میں چلا جا ) ( وہ آدھے راستے بھی نہیں پہنچا تھا کہ ) اس کی موت واقع ہو گئی ۔ مرتے مرتے اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا ۔ آخر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں باہم جھگڑا ہوا ۔ ( کہ کون اسے لے جائے ) لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نصرہ نامی بستی کو ( جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا ) حکم دیا کہ اس کی نعش سے قریب ہو جائے اور دوسری بستی کو ( جہاں سے وہ نکلا تھا ) حکم دیا کہ اس کی نعش سے دور ہو جا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ اب دونوں کا فاصلہ دیکھو اور ( جب ناپا تو ) اس بستی کو ( جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا ) ایک بالشت نعش سے نزدیک پایا اس لیے وہ بخش دیا گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3470. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے نکلا تو پہلے ایک درویش کے پاس گیا اور اس سے کہا: کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ درویش نے کہا: نہیں! تو اس نے اسے بھی قتل کردیا۔ پھر مسئلہ پوچھنے نکلا تو اس سے کسی نے کہا کہ تو فلاں بستی میں چلا جا، لیکن راستے ہی میں اسے موت نے آلیا تو مرتے وقت اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف کر دیا۔ اب اس کے پاس رحمت اور عذاب کے دونوں فرشتے آئے اور جھگڑنے لگے اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو حکم دیا کہ اس شخص کے قریب ہو جا اور اس بستی کو جہاں سے وہ نکلا تھا یہ حکم دیا کہ اس سے دور ہو جا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا کہ تم دونوں بستیوں کا درمیانی فاصلہ ناپ لوتو وہ اس بستی سے بالشت بھر قریب نکلا جہاں تو بہ کرنے جا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3470]
حدیث حاشیہ: ہم سے محمدبن بشار نےبیان کیا، ہم سے محمدبن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے،ان سے قتادہ نے،ان سے ابوصدیق ناجی بکربن قیس نے اورا ن سے ابوسعید خدری نےکہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا (نام نامعلوم)
جس نے ننانوے خون ناحق کئے تھے پھر و ہ(نادم ہوا)
مسئلہ پوچھنے نکلا۔
وہ ایک درویش کےپاس آیا اوراس سے پوچھا،کیا اس گناہ سےتوبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے؟ درویش نے جواب دیا کہ نہیں۔
یہ سن کر اس نےاس درویش کوبھی قتل کردیا(اورسوخون پورے کردئیے)
پھر وہ (دوسروں سے)
پوچھنے لگا۔
آخر اس کوایک درویش نےبتایا کہ فلاں بستی میں چلا جا(وہ آدھے راستے بھی نہیں پہنچا تھاکہ)
اس کومت واقع ہوگئی۔
مرتےمرتے اس نے اپناسینہ اس پستی کی طرف جھکادیا۔
آخر رحمت کےفرشتوں اورعذاب کے فرشتوں میں باہم جھگڑا ہوا۔
(کہ کون اسے لے جائے)
لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نصرہ نامی بستی کو(جہاں وہ توبہ کےلیے جارہاتھا)
حکم دیا کہ وہ اس کی نعش سےقریب ہو جائے اوردوسری بستی کو(جہاں سے وہ نکلای تھا)
حکم دیا کہ اس کی نعش شےدور ہوجا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سےفرمایا کہ اب دونوں کافاصلہ دیکھوں اور(جب ناپا تو)
اس بستی کو(جہاں سے وہ توبہ کےلیے جارہا تھا)
ایک بالشت نعش سےنزدیک پایا اس لیے وہ بخش دیاگیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3470 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3470. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے نکلا تو پہلے ایک درویش کے پاس گیا اور اس سے کہا: کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ درویش نے کہا: نہیں! تو اس نے اسے بھی قتل کردیا۔ پھر مسئلہ پوچھنے نکلا تو اس سے کسی نے کہا کہ تو فلاں بستی میں چلا جا، لیکن راستے ہی میں اسے موت نے آلیا تو مرتے وقت اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف کر دیا۔ اب اس کے پاس رحمت اور عذاب کے دونوں فرشتے آئے اور جھگڑنے لگے اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو حکم دیا کہ اس شخص کے قریب ہو جا اور اس بستی کو جہاں سے وہ نکلا تھا یہ حکم دیا کہ اس سے دور ہو جا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا کہ تم دونوں بستیوں کا درمیانی فاصلہ ناپ لوتو وہ اس بستی سے بالشت بھر قریب نکلا جہاں تو بہ کرنے جا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3470]
حدیث حاشیہ:
1۔
لفظ راہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد کا ہے کیونکہ رہبانیت کی ابتدا ان لوگوں سے ہوئی جو حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکار تھے۔
2۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کے نتیجے میں تمام گناہ معاف کر دیے حتی کہ وہ گناہ بھی جو حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے راضی ہو گیا تو وہ لوگ بھی اس سے راضی ہو جائیں گے جن کے حقوق اس نے غصب کر رکھے تھے۔
اللہ تعالیٰ حق داروں کو خود اپنی طرف سے اچھا بدلہ دے کر انھیں راضی کردے گا چنانچہ ایک حدیث میں ہے۔
’’رسول اللہ ﷺ نے یوم عرفہ کے پچھلے وقت اپنی امت کی بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت سے نوازا اور فرمایا کہ میں نے حقوق العبادکے علاوہ ان کے سب گناہ معاف کردیے۔
وہ حق ظالم سے لے کر مظلوم کو ضرور دوں گا۔
آپ نے اللہ تعالیٰ سے دوبارہ عرض کی اے اللہ! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت سے کچھ حصہ دے کرراضی کردے اور ظالم کو معاف کردے۔
لیکن اس وقت آپ کی یہ دعا قبول نہ ہوئی بالآخر صبح کے وقت آپ نے مزدلفہ پہنچ کر پھر اس دعا کو دہرایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا یعنی حقوق العباد بھی معاف کردینے کا وعدہ فرمایا۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، المناسك، حدیث: 3013)
لیکن علامہ البانی ؒ نے اس حدیث کوضعیف قراردیا ہے۔
(ضعیف سنن ابن ماجة، حدیث: 651)
3۔
بہر حال کبیرہ گناہ معاف ہونے کی چند شرائط ہیں۔
(ا)
کبیرہ جرائم کو حلال سمجھ کر نہ کیا جائے۔
(ب)
وہ بکثرت نیکیاں کرے۔
(ج)
ان مواقع کو چھوڑدے جہاں جہاں اس نے گناہوں کا ارتکاب کیا تھا تاکہ اس جدائی اور علیحدگی سے اس کی توبہ پکی ہو جائے بہر حال اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی جو قاتل مومن کی توبہ کے متعلق یہ موقف رکھتے ہیں کہ وہ قبول کی جائے گی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3470 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2766 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم سے پہلی امت میں ایک آدمی تھا، اس نے ننانوے آدمی قتل کر ڈالے، پھر اس نے(لوگوں سے) زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا تو اس کو ایک راہب کا پتہ بتادیا گیا، چنانچہ وہ اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا صورت حال یہ ہے وہ ننانوے آدمیوں کو قتل کر چکا ہے کیا اب اس کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ راہب نے کہا، نہیں، اس نے اس کو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7008]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ قاتل، بنو اسرائیل کا ایک فرد تھا، مسئلہ پوچھنے کے لیے پہلے ایک راہب کے پاس گیا جس پر اللہ کی ہیبت و جلال کا غلبہ تھا اور وہ گناہ کو انتہائی ناگوار سمجھتا تھا، اس نے محض گناہ کی قباحت کو ملحوظ رکھا اور توبہ کی اللہ کے ہاں مقبولیت اور محبوبیت کو سامنے نہ رکھا اور موقع و محل کی حکمت ومصلحت کو بھی نہ سمجھ سکا، اس لیے اس نے کہہ دیا، تیری توبہ کی گنجائش نہیں ہے، اسنے مایوس ہو کر اسکو بھی قتل کر ڈالا، لیکن چونکہ وہ دل کی گہرائی سے توبہ پر آمادہ ہو چکا تھا، اس لیے دل کی بے قراراور بے چینی کی بنا پر، پھر یہ جاننے کی کوشش کی کہ میری توبہ کی کوئی صورت نکل سکتی ہے، یانہیں، اس لیے پھر وہ ایک عالم جو صاحب بصیرت تھا، اس کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے اس کو توبہ کی صورت بتائی کہ جس بستی میں رہ کر برے لوگوں کی محبت ورفاقت کی بنا پر تم نے یہ قتل کیے ہیں، اس بستی اور باشندوں سے کنارہ کش ہو جاؤ، وگرنہ توبہ پر قائم نہیں رہ سکو گے اور اس بستی میں چلے جاؤ، جس کے بندے اللہ کے عبادت گزار اور فرمانبردار ہیں، تاکہ ان کی رفاقت میں رہ کر نیک اور اچھے کام کر سکو، چونکہ وہ تہہ دل سے اس گناہ سے توبہ کرنے کا تہیہ کر چکا تھا اور اپنے عمل سے اس نے اس کا ثبوت فراہم کیا اور وہ مرتے مرتے بھی، نیک لوگوں کی بستی کی طرف بڑھا اور اپنےبس کی حد تک اس نے اپنی توبہ کو توبة النصوح بنا ڈالا، اس لیے اس کے اس فعل کو اس کی کامیابی کا سبب بنا ڈالا گیا، اگرچہ یہ واقعہ بنو اسرائیل کا ہے، لیکن جمہور امت نے قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں اس کو قبول کیا ہے کہ قاتل اگر تہہ دل سے توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی اور اگرچہ اس کا تعلق حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق سے ہے، جو صاحب حق کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوسکتے، لیکن اگر گناہ گار کے پاس، بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی کوئی صورت نہ ہوتو وہ سچی اور پکی توبہ کرے اور اللہ سے درخواست کرے، یا اللہ، میرے پاس تو ان کے حقوق کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تو ہی اپنی طرف سے انہیں اجرو صلہ عطا کر کے، ان کو راضی کر دینا تو اللہ ان کو راضی کر دے گا، لیکن اگر وہ بندوں کا حق ادا کر سکتا ہے، یا ان سے معافی مانگ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ حق ادا نہیں کرتا، یا معافی طلب نہیں کرتا تو پھر یہ توبہ سچی اور نصوح نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7008 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2766 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں ایک آدمی نے ننانوے آدمی قتل کر ڈالے پھر پوچھنے لگا، کیا اس کی توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ چنانچہ وہ ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے پوچھا اس نے جواب دیا۔ تیرے لیے توبہ کا امکان نہیں ہے تو اس نے راہب کو بھی قتل کر دیا۔ پھر پوچھنے لگا پھر وہ اپنی بستی سے اس بستی کی طرف نکل کھڑا ہوا۔ جس میں نیک لوگ رہتے تھے تو جب اس نے کچھ راستہ طے کر لیا اسے موت نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7009]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بعض حضرات نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی گناہ گار اولیائے کرام کے پاس جا کر توبہ کرنے کا ارادہ کر لے، ابھی وہاں گیا نہ ہو اور توبہ نہ کی، تب بھی بخش دیا جاتا ہے تو اگر ان کے پاس جا کر، ان کے ہاتھ پر بیعت کرلے، توبہ کرے اور ان کے وظائف پر عمل کرے تو اس کا مرتبہ و مقام کیا ہوگا، مگر صورت حال یہ ہے، اس میں کسی بزرگ کے پاس جا کر، تو بہ کرنے کا ذکر ہی نہیں ہے، توبہ تو وہ کرچکا ہے، پھر بری بستی اور برے لوگوں کی رفاقت سے بچانے کے لیے، اس کو یہ طریقہ بتایا گیا ہے کہ تم نیک بستی اوراچھے لوگوں کے ساتھ رہو، تاکہ اپنی توبہ پر قائم رہ سکو اور ان کے ساتھ مل کر عبادت و اطاعت کرسکو، اس میں کسی بزرگ کے پاس جاکر توبہ کرنا یا بیعت کرنا کہاں سے ثابت ہو گیا؟ صحیح بات یہی ہے، ساون کے اندھے کو ہر چیز ہری ہی نظر آتی ہے اور ڈوبتا انسان تنکے کو سہارا بناتا ہے، جو اس کو کبھی ڈوبنے سے بچانہیں سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7009 سے ماخوذ ہے۔