صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: باب: بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا أَلَمْ يَعْلَمْ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا " ، تَابَعَهُ جَابِرٌ وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے طاؤس نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ فلاں کو تباہ کرے ۔ انہیں کیا معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” یہود پر اللہ کی لعنت ہو ، ان کے لیے چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا ۔ “ اس روایت کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(وحیدی)
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو کتاب البیوع میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ فلاں آدمی نے شراب فروخت کی ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث 2223)
دراصل حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفار سے جذیے کے عوض شراب لی اور اسے فروخت کرکے اس کی قیمت بیت المال میں جمع کرادی۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تنبیہ فرمائی کہ یہ تو یہودیوں کا کردار ہے کہ وہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کی قیمت کھا جاتے تھے، حالانکہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نےحرام کیا ہو اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہوتی ہے۔
چونکہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی رائے سے اجتہاد کیا تھا کہ ایساکرنے میں کوئی خرابی نہیں اور انھیں یہ حدیث نہیں پہنچی تھی، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مزید باز پرس نہیں فرمائی۔
2۔
بہرحال اس حدیث میں یہودیوں کے ایک کردار سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ان پر چربی حرام تھی لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کردیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح خلاف ورزی تھی۔
واللہ أعلم۔
حضرت عمر ؓ اس واقعہ کی اطلاع پاکر خفا ہو گئے۔
اور زجر و توبیخ کے لیے آپ نے اسے یہ حدیث سنائی۔
معلوم ہوا کہ شراب سے متعلق ہر قسم کا کاروبار ایک مسلمان کے لیے قطعاً حرام ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ محرمات منصوصہ کو حلال بنانے کے لیے کوئی حیلہ بہانہ تراشنا، یہ فعل یہود ہے، اللہ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھے۔
خدا کرے کہ کتاب الحیل کا مطالعہ فرمانے والے معزز حضرات بھی اس پر غور فرما سکیں۔
صحیح مسلم میں صراحت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب ٍ نے شراب فروخت کی تھی۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4050(1582)
ان کے متعلق حضرت عمر ؓ نے مذکورہ بیان جاری کیا تھا، حالانکہ شراب کی حرمت مشہورو معروف تھی۔
اس کی تاویل کے متعلق تین اقوال ہیں: ٭ انھوں نے اہل کتاب سے ان پر عائد جزیے کی قیمت کے عوض شراب لی اور پھر اسے ان کے ہاتھ فروخت کردیا۔
ان کے گمان کے مطابق ایسا کرنا جائز تھا۔
٭ انھوں نے انگوروں کا شیرہ فروخت کیا تھا جس سے شراب تیار کی جاتی ہے۔
شیرے کو مجازی طور پر شراب کہہ دیا جاتا ہے۔
٭ انھوں نے شراب کا سرکہ بنالیا، پھر اسے فروخت کیا تھا لیکن حضرت عمر ؓ کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہ تھا۔
ایک اور احتمال بھی ہے کہ حضرت سمرہ ؓ کو شراب کی حرمت کا علم تھا مگر اس کی خریدوفروخت کے متعلق علم نہ تھا کیونکہ انھیں علم ہوتا اور جان بوجھ کر ایسا کام کرتے تو حضرت عمر ؓ صرف ڈانٹ ڈپٹ پر اکتفا نہ کرتے بلکہ فوراً انھیں معزول کردیتے۔
بہر حال حضرت عمر ؓ نے اس کام کو اچھا خیال نہ کیا اور فرمایا: اس طرح کی حیلہ سازی تو یہودی کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کرنا شروع کردیا۔
(فتح الباري: 523/4)
کا لفظ استعمال کیا ہے، تو یہ محض کلام میں زور اور تاکید پیدا کرنے کے لیے، اس کا اصلی معنی یا بددعا مقصود نہیں، جیسا کہ عرب کہتے ہیں، تربت يداك، رغم انفك، ويحلك، ويلك، عقري حلقي،، ظاہر ہے، ان کا معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی، اور حضرت سمرہ کے شراب فروخت کرنے کی عطاء نے چار وجوہ بیان کی ہیں۔
(1)
انہوں نے یہ شراب اہل کتاب سے جزیہ میں لی تھی اور انہیں ہی بیچی تھی، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں، یہ آپس میں اس کی بیع کرتے ہیں، اس لیے ان سے لے کر ان کو بیچنا جائز ہے، (2)
انہوں نے انگوروں کا شیرہ، شراب بنانے والوں کو بیچا تھا، اور شیرہ بیچنا جائز ہے، (انہیں یہ معلوم نہ ہو گا کہ یہ شراب بنائیں گے) (3)
انہوں نے شراب سرکہ بنا کر بیچا تھا، وہ سرکہ بنا کر بیچنا جائز سمجھتے تھے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جائز نہیں سمجھتے تھے، اور احناف کے نزدیک بھی سرکہ بنا کر بیچنا جائز ہے، جو ایک ناجائز حیلہ ہے، شراب خود بخود سرکہ بن جائے تو جائز ہے، لیکن سرکہ بنانا درست نہیں ہے۔
(4)
انہیں شراب کی فروخت کی حرمت کا علم نہیں تھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو انہوں نے کہا: اللہ سمرہ کو ہلاک و برباد کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے گلایا۔ سفیان کہتے ہیں: یعنی اسے پگھلایا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4262]
(2) یہ حدیث ناجائز حیلے کے بطلان پر بھی واضح طور پر دلالت کرتی ہے اور یہ بھی کہ شریعت کی حرام کردہ اشیاء کو کسی بھی حیلے بہانے سے یا کسی چیز کی آڑ لے کر حلال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی قبیح حرکت کے مرتکب لعنت کے مستحق قرار پا سکتے ہیں۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ شراب کی خرید و فروخت ناجائز اور حرام ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی چیز فی نفسہ حرام ہو تو اس کی قیمت بھی حرام ہی ہوتی ہے۔
(4) یہ حدیث مبارکہ سگریٹ، تمباکو، بیڑی، نسوار اور دیگر مسکرات ومفترات کی تجارت کی ممانعت پر بھی دلالت کرتی ہے۔ واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3383]
فوائد و مسائل:
(1)
صحاح ستہ میں سمرہ نامی دو صحابہ کرامرضوان اللہ عنھم اجمعین کی احادیث موجود ہیں۔
اس حدیث میں مذکورصحابی سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
سمرہ بن جنادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں۔ (فتح الباری: 4/ 523 بحوالہ بیھقی)
(2)
حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شراب کیوں فروخت کی؟ اس کی مختلف توجہیات ذکرکی گئی ہیں۔
مثلاً ممکن ہے انھوں نے سرکے کی صورت میں تبدیل کرکے فروخت کیا ہو۔
اور ان کا یہ خیال ہو کہ شراب سے سرکہ بنانا جائز ہے۔
جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ معلوم ہو کہ شراب حرام ہے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اسے بیچنا بھی حرام ہے۔
(3)
یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے شراب حاصل ہی کیوں کی؟ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں علماء کےاقوال ذکر کیے ہیں۔
کہ ممکن ہے انھیں جزیہ میں ملی ہو یاغنیمت میں ملی ہو۔ (فتح الباری حوالہ مذکورہ بالا)
(4)
عربی زبان میں گوشت سے حاصل ہونے والی چربی کو شحم کہتے ہیں۔
اور پگھلی ہوئی چربی کو ودک کہتے ہیں۔
لیکن نام بدلنے سے شرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
(5)
یہودیوں نے یہ حیلہ کیا تھا کہ ہم پر شحم حرام ہے اور ہم ودک بیچ رہے ہیں۔
جو دوسری چیز ہے۔
(6)
جس چیز کا کوئی جائز استعمال نہ ہو اسے بیچنا خریدنا حرام ہے۔
(7)
حیلے سے حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی بلکہ جرم زیادہ شدید ہوجاتا ہے۔
اس حدیث میں سمرہ سے مراد صحابی رسول سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہیں، سمرہ بن جنادہ نہیں۔ [فتح الباري، احـكـام الاحكام لابن دقيق: 293/2]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کیوں کی، اس کے مختلف جوابات دیے گئے ہیں، اظہر یہ جواب معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے سرکے کی صورت میں شراب فروخت کی، اور ان کا خیال تھا کہ شراب سے سرکہ بنا کر اسے فروخت کرنا درست ہے، اس بات کا جب سید نا عمر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو انھوں نے ڈانٹا اور یہ حدیث بیان کی تفصیل کے لیے فتح الباری (700/5، 702) ملاحظہ فرمائیں، واللہ اعلم بالصواب۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حسب ضرورت قیاس کر لیا کرتے تھے، اس حدیث میں سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے شراب کے حرام ہونے کو چربی کے حرام ہونے پر قیاس کیا۔ [احكام الاحكام: 293/2]
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس چیز کا کھانا حرام ہے اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ جب ایک چیز کے دو یا دو سے زیادہ نام ہوں، تو اس کا نام بدلنے سے اس کا نام نہیں بدلتا۔ گوشت سے حاصل ہونے والی چربی کو «شـحـم» اور پگھلائی ہوئی چربی کو و «دك» کہتے ہیں حقیقت میں «شـحـم» اور «ودك» دونوں ایک ہی ہیں۔
دین اسلام میں اتباع و اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ افسوس ان لوگوں پر جو اتباع کو چھوڑ کر مختلف حیلوں سے کام لیتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ حیلہ یہودیوں کا فعل ہے۔
حافظ ابن القیم الدمشقی رحمہ اللہ نے ’’اعلام الموقعین‘‘ میں بعض لوگوں کے حیلوں کی خوب خبر لی ہے۔