صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: باب: بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان۔
حدیث نمبر: 3458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " كَانَتْ تَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ يَدَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، وَتَقُولُ : إِنَّ الْيَهُودَ تَفْعَلُهُ " ، تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوالضحیٰ نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو ناپسند کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اس طرح یہود کرتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3458. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو مکرو خیال کرتی تھیں اور فرمایاکرتی تھیں کہ ایسا کرنا یہودیوں کا فعل ہے۔ شعبہ نے اعمش سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3458]
حدیث حاشیہ: کوکھ پرہاتھ رکھنے کی عادت یہود کی تھی اوراس سےتکبیر کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
اسی لیے اسے ناپسند قرار دیا گیا۔
صمنا یہود کاذکر ہے یہی باب سے وجہ مناسبت ہے۔
اسی لیے اسے ناپسند قرار دیا گیا۔
صمنا یہود کاذکر ہے یہی باب سے وجہ مناسبت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3458 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3458. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو مکرو خیال کرتی تھیں اور فرمایاکرتی تھیں کہ ایسا کرنا یہودیوں کا فعل ہے۔ شعبہ نے اعمش سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3458]
حدیث حاشیہ:
1۔
حدیث میں اگرچہ مطلق طور پر کوکھ پر ہاتھ رکھنے کومکروہ کہاگیاہے، تاہم یہ نماز کی حالت سے مقید ہے کیونکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوران نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو ناپسند کرتی تھیں اورفرمایا: اس طرح یہودی کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 608/6)
2۔
کہاجاتا ہے کہ اس طرح اہل جہنم آرام کے وقت کریں گے، نیز اس طرح وہ شخص کرتا ہے جسے مصیبت نے نڈھال کردیا ہو۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب شیطان کو زمین پر اتارا گیا تو اس کی یہی حالت تھی۔
چونکہ اس میں تکبر بھی ہے، اس لیے اسے ناپسند قراردیا گیا ہے۔
واللہ أعلم۔
(عمدة القاري: 209/11)
3۔
چونکہ ضمناً اس حدیث میں یہودیوں کا ذکر آیا ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس روایت کو ذکر فرمایا ہے۔
1۔
حدیث میں اگرچہ مطلق طور پر کوکھ پر ہاتھ رکھنے کومکروہ کہاگیاہے، تاہم یہ نماز کی حالت سے مقید ہے کیونکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوران نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو ناپسند کرتی تھیں اورفرمایا: اس طرح یہودی کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 608/6)
2۔
کہاجاتا ہے کہ اس طرح اہل جہنم آرام کے وقت کریں گے، نیز اس طرح وہ شخص کرتا ہے جسے مصیبت نے نڈھال کردیا ہو۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب شیطان کو زمین پر اتارا گیا تو اس کی یہی حالت تھی۔
چونکہ اس میں تکبر بھی ہے، اس لیے اسے ناپسند قراردیا گیا ہے۔
واللہ أعلم۔
(عمدة القاري: 209/11)
3۔
چونکہ ضمناً اس حدیث میں یہودیوں کا ذکر آیا ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس روایت کو ذکر فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3458 سے ماخوذ ہے۔