صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: باب: بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ " .´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی ساہنہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کون ہو سکتا ہے ؟ “
تشریح، فوائد و مسائل
ہمارے زمانےمیں مسلمان ایسے ہی ااندھے بن گئے ہیں، یہود و نصاری نےجس طرح دین کا برباد کیا ان سےبھی بڑھ کرمسلمانوں نےبدعات ایجاد کرکے اسلام کاحلیہ مسخ کردیا ہے، قبر پرستی،امام پرستی مسلمانوں کاشعار بن گئی ہیں۔
ان میں اس قدر فرقے پیدا ہوگئے کہ یہود و نصاریٰ سے آگے ان کاقدم ہے، شیعہ اورسنی ناموں سےجو تفریق ہوئی وہ تفریق درتفریق ہوتےہوئے سینگڑوں فرقوں تک نوبت پہنج چکی ہے، کتاب وسنت کاصرف نام باقی رہ گیا ہے۔
افسوس کہ دورحاضر کے مسلمان اس حدیث کے مصداق اندھا دھند یہود ونصاریٰ کی پیروی کرنے میں فکر محسوس کرتے ہیں۔
ملکی سطح پر ہمارے ہاں انگریز کا قانون رائج ہے اگرچہ اس پر اسلامی ہونے کا لیبل لگا دیاگیا ہے۔
ہم لو گ لباس، اخلاق اور عادات میں یہودیوں اور عیسائیوں کی تقلید کرتے ہیں۔
اچھی ہو یا بری ہر حال میں ان کی چال چلنا پسند کرو گے۔
ہمارے زمانہ میں بعینہ یہی حال ہے۔
مسلمانوں سے قوت اجتہادی اور اختراعی کا مادہ بالکل سلب ہو گیا ہے۔
پس جیسے انگریزوں کو کرتے دیکھا وہی کام خود بھی کرنے لگتے ہیں‘ کچھ سوچتے ہی نہیں کہ آیا یہ کام ہمارے ملک اور ہماری آب وہوا کے لحاظ سے مناسب اور قرین عقل بھی ہے یا نہیں۔
اللہ تعالیٰ رحم کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کرآئے، اس کی اپنی تہذیب وثقافت، طرزمعاشرت اور کلچر ہے، لیکن افسوس کہ مسلمان اس تہذیب وثقافت کو چھوڑ کر دوسروں کی تقلید کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
آج ہم سیاست وقیادت میں فارس وروم کے نقش قدم پرچلتے ہیں تو مذہبی ثقافت وکلچر میں ہم یہودیوں اور عیسائیوں کی پیروی کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حدیثوں میں دوقسم کے لوگوں کی نشاندہی کی ہے جنھیں آج نام نہاد مسلمانوں نے اپنا قبلہ قرار دے لیا ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو اس وقت آس پاس دو ہی بڑی حکومتیں تھیں اور ان کی رعیت بھی بکثرت تھی اور دوردراز تک ان کا سکہ چلتا تھا۔
برصغیر میں جب مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو پہلے انھوں نے ایرانیوں کی چال ڈھال اور وضع قطع اختیار کی، اس کے بعدانگریزوں کا دورآیا تو اکثر سربراہاں ان کی نقالی کرتے ہیں۔
آج ہمارے ہاں جو قانون نافذ ہے وہ انھی کا مرہون منت ہے، حتی کہ ہم کھانے پینے، لباس ومعاشرت اور نشست وبرخاست بلکہ تمام رسومات میں انھی کی پیروی کرتے ہیں۔
سانڈے کے بل میں گھسنے سے بھی یہی مراد ہے کہ انھی کی چال ڈھال اختیار کروگے خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔
آج مسلمانوں کی اجتہادی اور اختراعی قوت ختم ہوچکی ہے جیسے انگریز اور فرنگی کرتے ہیں، ہم بھی ان کی دیکھا دیکھی وہ کام شروع کر دیتے ہیں۔
اس بات پر بھی غور نہیں کیا جاتا کہ آیا یہ کام ہماری ملکی معاشرت اور طرززندگی کے لحاظ سے قرین عقل بھی ہے یا نہیں۔
سنن: ڈگر، رویہ، طرز عمل، جو لوگ اس کو سنن پڑھتے ہیں، ان کے نزدیک سنة (طریقہ، راستہ)
کی جمع ہے کہ ان کے راستوں پر چلو گے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودونصاریٰ نے اپنے دین اور شریعت کے ساتھ جو وطیرہ اور طرز عمل اختیار کیا تھا، ہوبہو یہ امت بھی وہ طرزعمل اختیار کرے گی، انہیں کی طرح بدعملی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرے گی، دین کے اندر نئی نئی بدعات کو رواج دے گی، اپنے نبی کے بارے میں غلو کرے گی اور اپنی کتاب کو اپنی تاویلوں کا نشانہ بنائے گی، ان امتوں نے اپنی کتابوں میں تحریف لفظی اور تحریف معنوی کی اور اس امت نے بھی قرآن و حدیث میں تحریف معنوی کی، حتی کہ احادیث میں تحریف لفظی بھی کی، قرآن مجید میں یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی، کیونکہ یہ آخری کتاب ہے، لیکن تحریف لفظی کی کوشش کی گئی، اپنی کتابوں میں آیات سے استدلال کرتے وقت شعوری اور غیر شعوری طور پر، آیت میں کمی و بیشی کی اور خواہشات و اھوا کی پیروی میں ان کو بھی پیچھے چھوڑ گئے، ماں، بیٹی تک سے بدفعلی کا ارتکاب کیا۔