صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: باب: بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : " لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا " .´مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھ کو معمر اور یونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا ، اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں بنی اسرائیل یہود و نصاریٰ کا ایک کردار بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے انبیاء ؑ اور صالحین کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’میری قبر پر اس طرح جمگھٹانہ کرنا اور اس پر جشن کا ساسماں نہ پیدا کرنا‘‘ جبکہ علامہ حالی نے کہا ہے۔
بنانا نہ تربت کو میری صنم تم۔
افسوس! نام نہاد مسلمانوں نے قبروں اور مزاروں کے ساتھ وہی کچھ کردکھایا ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا اور حدیث میں جس طرح خطرے کا اظہار کیا تھا اس کے مطابق عمل کرکے اپنی تباہی کا سامان پیدا کیا ہے۔