صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ: {وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(اس) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک پورب رخ مکان میں چلی گئی“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ " . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں ( کی طرح ) ہیں ۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ “ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے صفوان بن سلیم نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی طرح جملہ انبیاء کا دین ایک ہے اورفروعی مسائل جدا جدا ہیں۔
1۔
حضرت عیسیٰ ؑ کے قریب تر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ہی دنیا میں آکریہ خوشخبری سنائی کہ میرے بعد نبی آخرالزمان تشریف لارہے ہیں جن کا اسم گرامی احمد ہے، پھر وہ دوبارہ تشریف لا کر آپ کی شریعت کے تابع ہوں گے اور آپ کے دین کی تبلیغ کریں گے۔
2۔
پدری بھائی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول دین میں تمام انبیاء ؑ متفق ہیں، یعنی عقیدہ توحید سب کا ایک ہے، البتہ فروعات ومسائل میں الگ الگ ہیں، گویا وہ علاتی بھائی ہیں جن کا والد ایک اور مائیں مختلف ہوتی ہیں۔
واللہ أعلم۔
خود حضرت عیسیٰ نے انجیل میں آب کی بشارت دی کہ میرے بعد تسلی دینے والا آئے گا اوروہ تم کوبہت سی باتیں بتلائے گاجومیں نے نہیں بتلائی کیونکہ وہ بھی وہیں علم حاصل کرےگا جہاں سے میں حاصل کرتا ہوں۔
ایک انجیل میں صاف آنحضرت ﷺ کانام مذکور ہےلیکن نصاریٰ نے اس کوچھپا ڈالا ہے۔
اس شرارت کاکوئی ٹھکانا ہے۔
کہتے ہیں کہ فارقلیط کےمعنی بھی سراہا ہوا ہیں یعنی محمد ﷺ۔
1۔
اقتدا اور پیروی کے لحاظ سے رسول اللہ ﷺ حضرت ابراہیم ؑکے قریب ہیں اور زمانے اوروقت کے اعتبار سے آپ حضرت عیسیٰ ؑ کے قریب ہیں۔
2۔
حضرات انبیاء ؑ علاتی،یعنی پدری بھائی اس بنا پر ہیں کہ عقیدہ توحید میں سب متحد ہیں اور توحید بمنزلہ باپ کے ہے کیونکہ تمام شریعتیں اس کی محتاج ہیں،البتہ شریعتیں الگ الگ ہیں۔
شریعت ماں کے قائم مقام ہے۔
علامہ عینی ؒ کا کہنا ہے کہ انبیائے کرام ؑ کے اصولی مسائل ایک ہیں،البتہ فروع میں اختلاف ہے۔
اصول ادیان میں توحید سرفہرست ہے۔
(عمدة القاري: 198/10)
«عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول ”والذي نفسي بيده ليو شكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكماً مقسطاً. يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد“ .»
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ تم میں عیٰسی علیہ السلام بطور حاکم، انصاف کرنے والے بن کر اتریں گے صلیب توڑیں گے سور کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے مال کی فراوانی ہو گی یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔“ (کوئی صدقہ کھانے والا نہیں ہو گا)
[تخريج: رواه البخاري 2222، و مسلم 155، والترمذي وابن ماجه، واحمد 240/2]
جبکہ دوسری روایت میں اس طرح ہے: «عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الأنبياء اخواة لعلات أمهاتهم شتٰى ودينهم واحد وأنا أولى الناس بعيسى ابن مريم لانه لم يكن بيني وبينه نبي وهو خليفتي على أمتى وهو نازل .... الخ»
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیائے کرام آپس میں علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے میں تمام لوگوں سے زیادہ عیٰسی ابن مریم کے قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا اور وہ میری امت پر میرے خلیفہ ہو کر اتریں گے“۔
[تاريخ دمشق جلد 50 صفحه 258، فتوىٰ حديثیه صفحه 28-29]
اس روایت پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب عیٰسی علیہ السلام امتی بن کر اتریں گے تو جزیہ کو کیسے ختم کریں گے؟ کیوں کہ امتی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ شریعت میں کسی چیز کا اضافہ کرے یا کسی چیز میں کمی کرے۔ جبکہ پہلی روایت میں جزیہ کے ختم کرنے کا ذکر موجو ہے۔
تطبیق:
➊ اول یہ کہ سیدنا عیٰسی علیہ السلام کے نزول کے وقت لوگ خوب مالدار ہوں گے اور اتنے مالدار ہونگے کہ ان کو مال کی ضرورت ہی نہیں ہو گی، فقر، مسکنت، اور وہ تمام مصارف زکوٰۃ جس کا اللہ تعالیٰ نے [سورۃ توبه آيت: 60] میں ذکر کیا ہے مفقود ہو جائے گا پس زکوٰۃ کا کوئی مستحق نہیں رہے گا تو ایسی حالت میں زکوٰۃ کی فرضیت بھی ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح جزیہ کو اللہ تعالیٰ نے اہل ذمہ پر اس لئے مقرر فرمایا ہے کہ اسے جہاد اور محتاجوں وغیرہ میں لگایا جائے۔ جب یہ بھی نہیں رہے گا تو جزیہ کی فرضیت بھی ساقط ہو جائے گی۔
➋ دوسرا جواب یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر میں اپنے اس مہمان سے جو میرے پاس آیا ہوا ہو یوں کہوں کہ آپ کو میرا بھائی آپ کے گھر چھوڑ دے گا۔ یہ جملہ کہہ کر اپنے مہمان سے اجازت لے کر چلا جاتا ہوں۔ کچھ دیر میں میرا بھائی آتا ہے اور میرے مہمان کو انکی مطلوبہ جگہ پر چھوڑ دیتا ہے غور فرمائیں۔ میں نے اپنے بھائی کو یہ حکم نہیں دیا کہ آپ مہمان کو مطلوبہ جگہ پہنچا دو۔ بلکہ میرا بھائی میرے انداز بیان سے اس بات کو خوب سمجھ گیا کہ مجھے یہ حکم دیا جا رہا ہے۔ قارئین کرام! یہ ایک ایسی مثال ہے جو آئے دن ہمارے ساتھ پیش آتی رہتی ہیں۔
اس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیٰسی علیہ السلام جزیہ کو ختم کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے عیٰسی علیہ اسلام کو یہ تعلیم مل رہی ہے کہ آپ جزیہ کو معاف کریں۔ جیسا کہ اوپر والی مثال میں بھائی کو حکم ملا تھا۔ نیز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے خلیفہ ہونگے۔
خلیفہ اسی کو کہتے ہیں جو اپنے سے پہلے کی شریعت کو آگے لے کر چلے اس میں رد و بدل نہیں کر سکتا۔ ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: «عليكـم بـسـنـتـي وسـنـة الـخـلفاء الراشدين المهديين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنو اجد.» تم پر میری سنت کو اختیار کرنا اور خلفا راشدین جو ہدایت پر ہیں کی سنت کو اختیار کرنا لازم ہے۔ اس سنت کو مضبوطی سے پکڑنا اور داڑھوں کے ساتھ تھامے رکھنا۔۔۔۔۔
[رواه احمد، وابو داؤد، والترمذي، وابن ماجه، بحواله مشكاة المصابيح كتاب الايمان باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ح: 165 وقال الاستاذ حافظ زبير على زئي حفظه الله تعالى، حديث صحيح رواه احمد 126/4، 127، ح: 17275، وابوداؤد 4607، الترمذى 2676، وقال حسن صحيح، وابن ماجه 43 من حديث العرباضي بن سارية رضى الله عنه، وصححه ابن حبان: موارد 102، والحاكم 96,95/1، وقال هذا حديث صحيح ليس له علة ووافقة الذهبي]
معلوم ہوا کہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع بھی لازم اور ضروری ہے اور ان کی اتباع دراصل رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی اتباع ہے کیونکہ خلفاء راشدین نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہی کی اتباع کرتے ہیں۔ سیدنا عیٰسی علیہ السلام بھی خلیفہ راشد ہوں گے، لہذا ان کی اتباع ہر مسلمان کے لئے لازم و ضروری ہو گی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4675]
انبیا کرام کا علاقی بھائی (باپ کی طرف سے بھائی) ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کی دعوت کے اصول ایک ہیں، یعنی توحید، نبوت اور بعثت قیامت، البتہ دیگر مسائل شرعیہ میں اختلاف رہا ہے۔
آپ نے خود انبیاء کو أخي (یوسف) کہہ کر یاد فرمایا، انبیا کا تذکرہ بہت محبت سے اور خوبصورت انداز سے فرمایا۔
پھر امت کے لئے کیسے روا ہو سکتا ہے کہ وہ تفصیل دینے کا اندازمیں ان کا تذکرہ کرے یا کسی کو افضل اور کسی کو مفضول قرار دے۔