حدیث نمبر: 3438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عِيسَى ومُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ ، وَأَمَّا مُوسَى فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبْطٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، کہا ہم کو عثمان بن مغیرہ نے خبر دی ، انہیں مجاہد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں نے عیسیٰ ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا ۔ عیسیٰ علیہ السلام نہایت سرخ گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے اور موسیٰ علیہ السلام گندم گوں دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے کوئی قبیلہ زط کا آدمی ہو ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3438
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3239 | صحيح مسلم: 165

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3438. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے (شب معراج) عیسیٰ ؑ، موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ سرخ رنگ، گھٹے بدن اور چوڑے سینے والے ہیں اور حضرت موسیٰ ؑ گندمی رنگ کے دراز قد سیدھے بالوں والے ہیں، گویا قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3438]
حدیث حاشیہ: زط سوڈان کاایک قبیلہ یا یہود کا،جہاں کےلوگ دبلے پتلے او رلمبے قد کےہوتے ہیں۔
زط سے جاٹ کالفظ بنا ہےجوہندوستان کی ایک مشہور قوم ہےجو ہندو اورمسلمان ہردو مذاہب سےتعلق رکھتے ہیں۔
روایت میں عن مجاہد عن ابن عمر ناقلین کاسہو ہےاصل میں صحیح یہ ہے عن مجاهد عن ابن عباس
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3438 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3438. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے (شب معراج) عیسیٰ ؑ، موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ سرخ رنگ، گھٹے بدن اور چوڑے سینے والے ہیں اور حضرت موسیٰ ؑ گندمی رنگ کے دراز قد سیدھے بالوں والے ہیں، گویا قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3438]
حدیث حاشیہ:

قبل ازیں حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ کا وصف "مضطرب" بیان ہواہے،جس کے معنی ہیں خفیف اور ہلکا پھلکا جسم اور یہ وصف جسیم کے خلاف ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
دراصل جسامت کبھی موٹاپے کو ظاہر کرتی ہے اور کبھی طویل القامت ہونے کو،حضرت موسیٰ ؑ درازقد تھے،لہذا ان پر جسیم کا اطلاق بھی درست ہے،اس لیے فرمایا: گویا وہ قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا تعلق حبشہ سے ہے اور وہ لمبے قد والے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ زط دراصل جٹ کا معرب ہے جنھیں جاٹ بھی کہاجاتا ہے۔
برصغیر میں یہ لوگ درازقد، جسامت اور طاقت میں مشہور ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3438 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3239 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´واقعہ معراج `
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا، گندمی رنگ، قد لمبا اور بال گھونگھریالے تھے، ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو . . . [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ: 3239]
تخريج الحديث:
[أخرجه البخاري فى: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة فى السماء، حدیث: 3239]
لغوی توضیح:
«آدَمُ» گندم گوں۔
«الطُّوَال» طویل۔
«جَعْدا» گھنگھریالے بال۔
«مَرْبُوْع» درمیانے، نہ بہت لمبے نہ بہت چھوٹے۔
«سَبِطَ الرَّأْسِ» سیدھے بال۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 104 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3239 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3239. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس رات مجھے معراج ہوئی میں نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگ، دراز قامت، مضبوط اور گھنگریا لے بالوں والے ہیں، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مرد ہیں۔ اور میں نےحضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا کہ وہ میانہ قامت، متوسط بدن، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والوں ہیں۔ میں نے مالک (فرشتے) کو بھی دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے اور دجال کو بھی دیکھا۔ یہ سب نشانیاں اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھلائیں، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اے نبی ﷺ! آپ ان سے ملاقات کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔‘‘ حضرت انس ؓ اور ابوبکرہ ؓ نے نبی ﷺ سے یوں بیان کیا ہے۔ ’’فرشتے دجال سے مدینہ طیبہ کی حفاظت کریں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3239]
حدیث حاشیہ: ان دونوں روایتوں کو خود امام بخاری ؒنے کتاب الحج اور کتاب الفتن میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3239 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3239 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3239. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس رات مجھے معراج ہوئی میں نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگ، دراز قامت، مضبوط اور گھنگریا لے بالوں والے ہیں، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مرد ہیں۔ اور میں نےحضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا کہ وہ میانہ قامت، متوسط بدن، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والوں ہیں۔ میں نے مالک (فرشتے) کو بھی دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے اور دجال کو بھی دیکھا۔ یہ سب نشانیاں اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھلائیں، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اے نبی ﷺ! آپ ان سے ملاقات کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔‘‘ حضرت انس ؓ اور ابوبکرہ ؓ نے نبی ﷺ سے یوں بیان کیا ہے۔ ’’فرشتے دجال سے مدینہ طیبہ کی حفاظت کریں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3239]
حدیث حاشیہ:

شنوء، عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کے لوگ درازقد والے تھے۔

امام بخاری ؒ نے حسب سابق اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ فرشتے محض "عقول مجردہ" نہیں بلکہ صاحب شعور مخلوق ہیں۔
وہ اللہ کے احکام بجا لاتے ہیں اور انھیں گناہوں سے سخت نفرت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دجال جو بدی کا سرچشمہ ہے اسے مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ مدینہ طیبہ نور ہدایت کا سرچشمہ ہے اسے دجال گدلا نہیں کرسکے گا۔
واللہ المستعان۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3239 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 165 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابنِ عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس رات مجھے اسراء کروایا گیا میں موسیٰ بن عمران ؑ کے پاس سے گزرا، وہ شنوءۃ قبیلہ کے مردوں کی طرح گندمی رنگ، طویل القامت اور گھنگریالے بالوں والے تھے، اور میں نے عیسیٰ بن مریمؑ کو دیکھا، ان کا قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید، سر کے بال سیدھے تھے۔‘‘ اور مالک دوزخ کا داروغہ اور دجال دکھائے گئے۔ بہت سی نشانیوں میں جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں ’’تو آپ ان سے ملاقات میں شک نہ کریں۔‘‘ (سورۂ سجدہ، آیت: 23) راوی نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:419]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: سَبْط: باء پر فتحہ اور کسرہ دونوں آ سکتے ہیں، اور اگر باء کو ساکن پڑھیں تو سین پر فتحہ اور کسرہ دونوں آ سکیں گے، معنی ہے صاف اور سیدھے جن میں خمیدگی نہ ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 165 سے ماخوذ ہے۔