حدیث نمبر: 3432
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، ان سے ہشام ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا ، کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون خدیجہ ہیں ( رضی اللہ عنہا ) ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3432
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3815 | صحيح مسلم: 2430 | سنن ترمذي: 3877

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3432. حضر ت علی ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’دنیا کی عورتوں میں سے سب سے بہتر مریم ؑ بنت عمران ہیں۔ اورسب خواتین سے بہتر حضرت خدیجہ ؓ ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3432]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت مریم ؑ بنت عمران کی فضیلت بیان ہوئی ہے لیکن اس فضیلت کے باوجود آپ نبیہ نہیں ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ آدمی ہی ہوتے تھے۔
‘‘ (النمل: 44)
حضرت مریم ؑعورت ہونے کی وجہ سے نبیہ نہیں ہیں کیونکہ حضرات انبیاء ؑ تمام کے تمام آدمیوں سے آئے ہیں۔
نسائی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جنت کی عورتوں میں سے افضل سیدہ خدیجہ ؓ، فاطمہ ؓ، مریم ؑ اور آسیہ ہیں۔
‘‘ (السنن الکبری للنسائی: 93/5، طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
نیز مستدرک حاکم میں حضرت حذیفہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے بشارت دی کہ حضرت فاطمہ ؓ جنت میں عورتوں کی سردار ہوں گی۔
(المستدرك علی الصحیحین: 164/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3432 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3815 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3815. حضرت علی ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’حضرت مریم اپنے دور کی عورتوں سے بہتر تھیں اور حضرت خدیجہ‬ ؓ ا‬س امت میں سب سے افضل ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3815]
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں ہے کہ آدمیوں میں باکمال تو بہت ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں عقل ودین کا کمال صرف مریم ؑ اورآسیہ ؑ کوملا ہے۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3411)
اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ مریم ؑ اورسیدہ آسیہ ؑ کامقام برابرہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سیدہ مریم ؑ سیدہ آسیہ ؑ سے افضل ہیں۔

جہاں تک سیدہ خدیجہ ؓ اور سید ہ مریم ؑ کی باہمی فضیلت کا معاملہ ہے تو اس میں راجح موقف یہ ہے کہ سیدہ خدیجہ ؓ اس امت کی عورتوں میں سے افضل ہیں اور سیدہ مریم ؑ اپنے دور کی عورتوں سے افضل ہیں۔
(فتح الباري: 169/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3815 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2430 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ میں بتایا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے سنا،"اپنے دور کی بہترین عورت،مریم بنت عمران تھی اور اپنے دورکی بہترین عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔"ابوکریب کہتے ہیں،وکیع نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6271]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، انتہائی شریف النفس، سمجھدار، سلیقہ شعار اور آپ کی غمگسار محبوب بیوی تھیں، جس سے آپ نے پچیس سال کی عمر میں، جبکہ ان کی عمر چالیس تھی اور شوہر دیدہ تھیں، شادی کی اور ان کی زندگی میں کسی اور عورت سے شادی نہیں کی اور حضرت ابراہیم کے سوا آپ کی تمام اولاد انہیں کے بطن سے تھی اور آپ کی ہمدرد و خیرخواہی اور جانثاری میں ان کا درجہ سب پر فائق ہے، جس طرح حضرت مریم اپنے دور کی تمام عورتوں سے افضل اور برتر تھیں، اس طرح حضرت خدیجہ اپنے عہد کی تمام عورتوں سے بہتر تھیں، لیکن حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن تو ابھی چھوٹی تھیں، گویا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دور میں ابھی قابل ذکر ہی نہ تھیں، انہیں جو امتیاز و شرف حاصل ہوا، وہ حضرت خدیجہ کے عہد کے بعد سے تعلق رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2430 سے ماخوذ ہے۔