صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ} : باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
وَقَالَ : كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتْ : صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ ، وَقَالَتْ : الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَتْ : الصُّغْرَى لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةُ .´اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ` دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ دونوں کے بچے تھے ۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا ۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے ۔ دونوں داؤد علیہ السلام کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں ۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔ اس کے بعد وہ دونوں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی ۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ ۔ اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان بانٹ دوں ۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے ایسا نہ کیجئے ، میں نے مان لیا کہ اسی بڑی کا لڑکا ہے ۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے «سكين» کا لفظ اسی دن سنا ، ورنہ ہم ہمیشہ ( چھری کے لیے ) «مدية.» کا لفظ بولا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی لئے ان احادیث کو یہاں درج کیا گیا۔
باب سے یہی وجہ مناسبت ہے۔
مزید تفصیل کتاب التفسیر میں آئے گی۔
إن شاء اللہ۔
1۔
زندہ رہنے والا بچہ بڑی عورت کے پاس تھا اور چھوٹی عورت کے پاس اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی، اس لیے حضرت داؤد ؑ نے اپنے اجتہاد سے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن فہم و فراست کسی کی میراث نہیں بلکہ یہ اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔
حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نےفہم وبصیرت کے خزانے سے وافر حصہ عطا کیا تھا جیساکہ قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے۔
(الأنبیاء 79)
انھوں نے چھوٹی عورت کی گھبراہٹ دیکھی توحقیقت حال معلوم کرنے کے لیے ایک حیلہ نکالا، چنانچہ اس کے نتیجے میں وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے اور وہ بچہ چھوٹی کے حوالے کردیا۔
2۔
چھری کو مدیة اس لیے کہتے ہیں کہ یہ حیوان کی مدتِ حیات ختم کردیتی ہے اور سکین اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے حیوان کی حرکت کو ساکن کردیاجاتا ہے۔