حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، ح حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ زَادَ مُسَدَّدٌ : يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا ( دوسری سند ) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کوئی شخص میرے متعلق یہ نہ کہے کہ میں یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں ۔ “ مسدد نے یونس بن متی علیہ السلام کے لفظ بڑھا کر روایت کیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3412
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4603

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4603 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4603. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متٰی سے بہتر ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4603]
حدیث حاشیہ: آیت کے مطابق حدیث میں بھی حضرت یونس ؑ کا ذکر ہے یہی وجہ مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4603 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4603 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4603. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’تم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متٰی سے بہتر ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4603]
حدیث حاشیہ:

واقعہ یہ ہے کہ حضرت یونس ؑ نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو دریا کے حوالے کردیا اورکچھ مدت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔
حضرت یونس ؑ کی اس حالت کو دیکھ کر کوئی شخص یہ دعویٰ نہ کرے کہ میں ان سے بہتر ہوں، اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو اس کی بات خلاف واقعہ ہے۔
کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے مزید قریب ہوئے ہیں، اور ان کے مرتبے میں ذرہ بھر بھی نقص پیدا نہیں ہوا۔

حدیث میں (أَنَا)
سے مراد خودرسول اللہ ﷺ بھی ہوسکتے ہیں اور قائل بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
اگر(أَنَا)
سے مراد قائل ہوتو مفہوم واضح ہے اور اگر اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے تو یہ آ پ کی تواضع اور کسر نفی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ تو تمام انبیاء ؑ سے افضل ہیں۔

بہرحال رسول اللہ ﷺ نے اس انداز بیان سے حضرت یونس ؓ کے دامن تقدس کو سنبھالا ہے اور لوگوں کی آپ کے متعلق غلط فہمی کو دور کیا ہے، جب تحدیث نعمت کا وقت آئے گا تو اپنے کمالات بیان کیے جائیں گے اب وقتی طور پر کسی نبی کی تنقیص ناقابل برداشت ہے، بہرحال رسول اللہ ﷺ نے امت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ مچھلی کے واقعے سے متاثر ہوکر کوئی شخص نبی کی شان میں گستاخی نہ کرے۔
جب رسول اللہ ﷺ نے اس طرح ارشاد فرمایا تو کسی دوسرے کے لیے کیونکر یہ جائز اور مناسب ہوسکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4603 سے ماخوذ ہے۔