حدیث نمبر: 3393
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَإِذَا هَارُونُ ، قَالَ : هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ " ، تَابَعَهُ ثَابِتٌ وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز

´ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں ‘ انہیں سلام کیجئے ۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : خوش آمدید ‘ صالح بھائی اور صالح نبی ۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3393
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3393. حضر مالک بن صعصعہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں اس رات کے متعلق بتایا جس میں آپ کو سیر کرائی گئی تھی اور فرمایا کہ پانچویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت جبرئیل ؑ نے کہا: یہ حضرت ہارون ؑ ہیں ان کو سلام کریں۔ میں نے ان کو سلام کیا، انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: اے برادر محترم و نبی مکرم! خوش آمدید۔ ثابت اور عباد بن ابو علی نے، حضرت انس ؓ سے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کرنے میں، حضرت قتادہ کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3393]
حدیث حاشیہ:

حضرت ہارون علیہ السلام سیدنا موسیٰ ؑکے بڑے بھائی تھے۔
اس حدیث میں ان کا ذکر ہے نیز حدیث اسراء میں موسیٰ ؑ کا بھی ذکر خیر ہے۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے اسے یہاں بیان کیا ہے۔

واضح رہے کہ ثابت اورعباد نے صرف ہارون ؑ کے پانچویں آسمان میں ہونے کے بارے میں متابعت کی ہے۔
تمام حدیث میں متابعت مقصود نہیں۔
حضرت ثابت کی روایت کو امام مسلم ؒ نے متصل سند سے بیان کیاہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 411(162)
لیکن اس میں مالک بن صعصعہ کا ذکر نہیں ہے۔
قاضی شریک نے بھی اپنی روایت میں حضرت ہارون ؑ کے متعلق بیان کیا ہے کہ وہ پانچویں آسمان میں ہیں۔
(فتح الباري: 519/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3393 سے ماخوذ ہے۔