حدیث نمبر: 3362
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا " .مولانا داود راز
´مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا ، ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد جریر بن حازم نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے عبداللہ بن سعید بن جبیر نے ، ان سے ان کے والد سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہا السلام ) پر رحم کرے ، اگر انہوں نے جلدی نہ کی ہوتی ( اور زمزم کے پانی کے گرد منڈیر نہ بناتیں ) تو آج وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2368 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2368. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ پر رحم کرے! اگر وہ زم زم کو چھوڑ دیتیں۔۔۔ یا فرمایا: اگر وہ اس میں سے چلو بھر بھر کر پانی نہ لیتیں۔ تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا۔ قبیلہ جرہم کے لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپ اجازت دیتی ہیں کہ ہم آپ کے قریب پڑاؤ کرلیں؟ توا نھوں نے فرمایا: ہاں، (اجازت ہے) لیکن پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2368]
حدیث حاشیہ: حدیث ہذا میں حضرت ہاجرہ ؑ کے ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جب کہ وہ ابتدائی دور میں مکہ شریف میں سکونت پذیر ہوئی تھیں۔
جب کہ حضرت ابراہیم ؑ ان کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہو چکے تھے اور وہ پانی کی تلاش میں کوہ صفا اور مروہ کا چکر کاٹ رہی تھیں۔
کہ اچانک ان کو زمزم کا چشمہ نظر آیا۔
اور وہ دوڑ کر اس کے پاس آئیں اور اس کے پانی کے ارد گرد منڈیر لگانا شروع کر دیا۔
اسی کیفیت کا یہاں بیان کیا جارہا ہے۔
مجتہد مطلق اس حدیث کو یہاں یہ مسئلہ بیان فرمانے کے لیے لائے ہیں کہ کنویں یا تالاب کا اصل مالک اگر موجود ہے تو بہرحال اس کی ملکیت کا حق اس کے لیے ثابت ہے۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ حضرت ہاجرہ ؑ کے اس قول پر کہ پانی پر تمہارا (قبیلہ بنوجرہم کا)
کوئی حق نہ ہوگا، اس پر آنحضرت ﷺ نے انکار نہیں فرمایا۔
خطابی نے کہا اس سے یہ نکلا کہ جنگل میں جو کوئی پانی نکالے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔
اور دوسرا کوئی اس میں اس کی رضا مندی کے بغیر شریک نہیں ہوسکتا۔
ہاجرہ ؑ ایک فرعون مصر کی بیٹی تھی۔
جسے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی حضرت سارہ ؑ کی کرامات دیکھ کر اس نے اس مبارک خاندان میں شرکت کا فخر حاصل کرنے کی غرض سے ان کے حوالہ کر دیا تھا۔
اس کا تفصیلی بیان پیچھے گزر چکا ہے۔
جب کہ حضرت ابراہیم ؑ ان کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہو چکے تھے اور وہ پانی کی تلاش میں کوہ صفا اور مروہ کا چکر کاٹ رہی تھیں۔
کہ اچانک ان کو زمزم کا چشمہ نظر آیا۔
اور وہ دوڑ کر اس کے پاس آئیں اور اس کے پانی کے ارد گرد منڈیر لگانا شروع کر دیا۔
اسی کیفیت کا یہاں بیان کیا جارہا ہے۔
مجتہد مطلق اس حدیث کو یہاں یہ مسئلہ بیان فرمانے کے لیے لائے ہیں کہ کنویں یا تالاب کا اصل مالک اگر موجود ہے تو بہرحال اس کی ملکیت کا حق اس کے لیے ثابت ہے۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ حضرت ہاجرہ ؑ کے اس قول پر کہ پانی پر تمہارا (قبیلہ بنوجرہم کا)
کوئی حق نہ ہوگا، اس پر آنحضرت ﷺ نے انکار نہیں فرمایا۔
خطابی نے کہا اس سے یہ نکلا کہ جنگل میں جو کوئی پانی نکالے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔
اور دوسرا کوئی اس میں اس کی رضا مندی کے بغیر شریک نہیں ہوسکتا۔
ہاجرہ ؑ ایک فرعون مصر کی بیٹی تھی۔
جسے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی حضرت سارہ ؑ کی کرامات دیکھ کر اس نے اس مبارک خاندان میں شرکت کا فخر حاصل کرنے کی غرض سے ان کے حوالہ کر دیا تھا۔
اس کا تفصیلی بیان پیچھے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2368 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2368 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2368. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ پر رحم کرے! اگر وہ زم زم کو چھوڑ دیتیں۔۔۔ یا فرمایا: اگر وہ اس میں سے چلو بھر بھر کر پانی نہ لیتیں۔ تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا۔ قبیلہ جرہم کے لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپ اجازت دیتی ہیں کہ ہم آپ کے قریب پڑاؤ کرلیں؟ توا نھوں نے فرمایا: ہاں، (اجازت ہے) لیکن پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2368]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگرچہ آب زمزم حضرت جبرئیل ؑ کی ٹھوکر سے جاری ہوا تھا، تاہم وہ ام اسماعیل ہی کا تھا۔
جرہم قبیلے کے لوگوں سے ام اسماعیل نے کہا: تم یہاں پڑاؤ کر سکتے ہو لیکن پانی پر تمہارا کوئی دعویٰ نہیں ہو گا۔
چونکہ وہ لوگ معاملے کی اہمیت کو خوب سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے ام اسماعیل کے حق کو تسلیم کر لیا۔
(2)
علامہ خطابی ؒ نے کہا ہے کہ اگر کوئی جنگل میں پانی کا کنواں کھودے اور پانی نکالے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، پھر دوسرا کوئی اس کی رضا مندی کے بغیر اس کنویں میں شریک نہیں ہو سکتا۔
(فتح الباري: 55/5)
(1)
اگرچہ آب زمزم حضرت جبرئیل ؑ کی ٹھوکر سے جاری ہوا تھا، تاہم وہ ام اسماعیل ہی کا تھا۔
جرہم قبیلے کے لوگوں سے ام اسماعیل نے کہا: تم یہاں پڑاؤ کر سکتے ہو لیکن پانی پر تمہارا کوئی دعویٰ نہیں ہو گا۔
چونکہ وہ لوگ معاملے کی اہمیت کو خوب سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے ام اسماعیل کے حق کو تسلیم کر لیا۔
(2)
علامہ خطابی ؒ نے کہا ہے کہ اگر کوئی جنگل میں پانی کا کنواں کھودے اور پانی نکالے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، پھر دوسرا کوئی اس کی رضا مندی کے بغیر اس کنویں میں شریک نہیں ہو سکتا۔
(فتح الباري: 55/5)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2368 سے ماخوذ ہے۔