حدیث نمبر: 3325
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَئِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ، فَقَالَ : السَّائِبُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِي وَرَبِّ هَذِهِ الْقِبْلَةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یزید بن خصیفہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے سائب بن یزید نے خبر دی ، انہوں نے سفیان بن ابی زہیر شنوی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے کوئی کتا پالا ، نہ تو پالنے والے کا مقصد کھیت کی حفاظت ہے اور نہ مویشیوں کی ، تو روزانہ اس کے نیک عمل میں سے ایک قیراط ( ثواب ) کی کمی ہو جاتی ہے ۔ “ سائب نے پوچھا ، کیا تم نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ؟ انہوں نے کہا ، ہاں ! اس قبلہ کے رب کی قسم ( میں نے خود اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ) ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب بدء الخلق / حدیث: 3325
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2323 | صحيح مسلم: 1576 | سنن نسائي: 4290 | سنن ابن ماجه: 3206

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3325. حضرت سفیان بن ابو زہیر شنوی ؓسے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’جس نے کوئی کتاپالا، جس سے نہ تو کسی کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ مویشیوں ہی کے کام آتا ہے تو اس کے اعمال میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے۔‘‘ حضرت سائب بن یزید ؓنے پوچھا: کیا اس حدیث کو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ توانھوں نے کہا: جی ہاں، مجھے اس قبلے کے رب کی قسم ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3325]
حدیث حاشیہ:

جو کتے مویشیوں یا کھیتی کی حفاظت یا شکار کے لیے رکھے گئے ہوں وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
ان کے علاوہ جو کتے شوقیہ طور پر رکھے جائیں۔
ان کے لیے مذکورہ وعید ہے۔

بعض روایات میں ہے کہ شوقیہ کتے رکھنے والے کے نیک اعمال سے روزانہ دوقیراط کم ہوتے رہیں گے۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5480)
ان دونوں روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ جب لوگ اس سے باز نہ آئے تو بطور زجر و توبیخ دوقیراط فرمایا کتے کی اذیت کے پیش نظر فرمایا کہ جس کتے سے اذیت زیادہ ہواسے پالنے سے دوقیراط ثواب کم اور جس سے اذیت کم ہو، اس کے پالنے سے ایک قیراط ثواب کم ہوتارہتاہے یا یہ اختلاف جگہ کے اعتبار سے ہوگا کہ مدینہ طیبہ میں ایسے کتے پالنے سے دوقیراط اور دیگر مقامات پرایک قیراط اوردیگر مقامات پر ایک قیراط ثواب کم ہوتا رہے گا۔
قیراط کی مقدار اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
(عمدة القاري: 671/10)

کتے کبھی نہ کبھی کسی کا ضرور نقصان کردیتے ہیں، اس نقصان کے عوض اس کے پالنے والے پرذمہ داری ہوگی۔
حفاظت یا شکار کے لیے جو کسی رکھے جائیں، ان پر مالک کا ضرور کنٹرول ہوتا ہے، اس لیے انھیں مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔
یہ کتاب بدء الخلق کا آخری باب ہے، اس لیے ان احادیث کا ذکر ہوا جس میں کسی نہ کسی حوالے سے حیوانات کاتذکرہ ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3325 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2323 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2323. حضرت سفیان بن ابو زہیر ؓ سے روایت ہے جو قبیلہ ازدشنوءہ سے ہیں اور انھیں نبی کریم ﷺ کی صحبت حاصل ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ’’جس نے کتا پالا جو کھیتی باڑی اور ریوڑ کے لیے نہ ہوتو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط ثواب کم ہوتا رہتا ہے۔‘‘ (راوی حدیث سائب بن یزید کہتے ہیں کہ) میں نے(ان سے) کہا: واقعی تم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ توا نھوں نے کہا: جی ہاں، مجھے اس مسجد کے رب کی قسم![صحيح بخاري، حديث نمبر:2323]
حدیث حاشیہ: قیراط یہاں عنداللہ ایک مقدار معلوم ہے۔
مراد یہ کہ بے حد نیکیاں کم ہوجاتی ہیں جس کی وجوہ بہت ہیں۔
ایک تو یہ کہ ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، دوسرے یہ کہ ایسا کتا گزرنے والوں اور آنے جانے والے مہمان پر حملہ کے لیے دوڑتا ہے جس کا گناہ کتا پالنے والے پر ہوتا ہے۔
تیسرے یہ کہ وہ گھر کے برتنوں کو منہ ڈال ڈال کر ناپاک کرتا رہتا ہے۔
چوتھے یہ کہ وہ نجاستیں کھا کھا کر گھر پر آتا ہے اور بدبو اور دیگر امراض اپنے ساتھ لاتا ہے اور بھی بہت سے وجوہ ہیں۔
اس لیے شریعت اسلامی نے گھر میں بے کار کتا رکھنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کی ہے۔
شکاری کتے اور تربیت دیئے ہوئے دیگر محافظ کتے اس سے الگ ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2323 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2323 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2323. حضرت سفیان بن ابو زہیر ؓ سے روایت ہے جو قبیلہ ازدشنوءہ سے ہیں اور انھیں نبی کریم ﷺ کی صحبت حاصل ہے، انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ’’جس نے کتا پالا جو کھیتی باڑی اور ریوڑ کے لیے نہ ہوتو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط ثواب کم ہوتا رہتا ہے۔‘‘ (راوی حدیث سائب بن یزید کہتے ہیں کہ) میں نے(ان سے) کہا: واقعی تم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ توا نھوں نے کہا: جی ہاں، مجھے اس مسجد کے رب کی قسم![صحيح بخاري، حديث نمبر:2323]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کتا رکھنے کے جواز سے کھیتی باڑی کے جواز کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
کتا رکھنا منع ہے، لہٰذا جب کھیتی باڑی کی وجہ سے اس کا پالنا اور رکھنا جائز ہے تو کم ازکم کھیتی باڑی مباح تو ضرور ہوگی۔
(2)
اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ کتا رکھنے والے کے اعمال کا ثواب کم ہوتا رہتا ہے، اس کمی کے کئی ایک اسباب ہیں، مثلاً: ٭ کتا رکھنے سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
٭ اس سے مسافروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔
٭ کثرت نجاسات کھانے کی وجہ سے یہ بدبو کا باعث ہے۔
٭ بعض کتوں کو شیطان کہا گیا ہے۔
٭ اہل خانہ کی غفلت کی وجہ سے برتنوں کو سونگھتا پھرتا ہے اور انھیں پلید کردیتا ہے۔
لیکن وہ کتا مستثنیٰ ہے جس سے کوئی نفع ہو۔
مصلحت کو اس کے فساد پر ترجیح ہوگی۔
کھیتی، ریوڑ کی حفاظت اور شکار کے لیے کتے تو قدیم زمانے سے رکھے جاتے ہیں۔
دور حاضر میں تفتیشی کتے بھی رکھے جاتے ہیں، فوج میں سراغ رسانی کے لیے انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔
ہمارے نزدیک شوقیہ اور فیشن کے طور پر جو کتے رکھے جاتے ہیں وہ مذکورہ وعید کی زد میں آتے ہیں۔
والله أعلم. قیراط سے کیا مراد ہے؟ اس کی صحیح مقدار تو اللہ ہی جانتا ہے، البتہ ایک تصور دلایا گیا ہے کہ ایسا کام کرنے سے ثواب میں اتنی کمی ہوجائے گی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2323 سے ماخوذ ہے۔