صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الأُخْرَى شِفَاءً: باب: اس حدیث کا بیان جب مکھی پانی یا کھانے میں گر جائے تو اس کو ڈبو دے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ ، قَالَ : كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ " .´ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، ان سے حسن اور ابن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایک فاحشہ عورت صرف اس وجہ سے بخشی گئی کہ وہ ایک کتے کے قریب سے گزر رہی تھی ، جو ایک کنویں کے قریب کھڑا پیاسا ہانپ رہا تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پیاس کی شدت سے ابھی مر جائے گا ۔ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس میں اپنا دوپٹہ باندھ کر پانی نکالا اور اس کتے کو پلا دیا ، تو اس کی بخشش اسی ( نیکی ) کی وجہ سے ہو گئی ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ بڑے بڑے گناہوں کو معمولی سے کارخیر کی بنا پر معاف کردیتا ہے بشرط یہ کہ وہ کام خلوص سے کیا گیا ہوچنانچہ اس بدکار عورت کو اس کے خلوص کی بنا پر معاف کردیاگیا۔
نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو مسلمان کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو اس کا کوئی چھوٹا سا عمل قبول ہوسکتا ہے جو اس کی مغفرت کا باعث ہو۔
2۔
واضح رہے کہ امام بخاری ؒ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سےمروی ایک آدمی سے متعلق بھی اس طرح کا واقعہ بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، المساقاة، حدیث: 2363)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مستقل طور پر یہ دو واقعات ہیں اور دونوں کی حیثیت الگ الگ ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ نے یہ حدیث صرف اس لیے بیان کی ہے کہ اس میں ایک حیوان کاذکر ہے۔
یہ خلوص کر برکت تھی کہ ایک نیکی سےوہ بدکارعورت بخش دی گئی۔
ایک حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ اس نے دوپٹہ اتارا اور موزے سے باندھ کر کنویں سے پانی نکال کر کتے کو پلایا۔
اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3321)
اسی طرح کا ایک واقعہ کسی مرد کے متعلق بھی حدیث میں آیا ہے کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر کی اور اسے معاف کردیا۔
صحابہ کرام ؓ نے پوچھا: کیا ہمارے لیے جانوروں کی خدمت کرنے میں بھی اجرملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہر زندہ جگر کی خدمت گزاری میں اجر ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، المساقاة، حدیث: 2363)
ان متعدد واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کو پانی پلانے میں بھی اجرو ثواب ہے۔
مذکورہ واقعات سے خلوص کی برکات کا پتہ چلتا ہے۔
انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے اور وہ غلط کاری کو چھوڑ کر نیکوکاری کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، جس سے اس کی آخرت سنور جاتی ہے اور پچھلے گناہ ڈھل جاتے ہیں، لیکن یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا عمل کب کایا پلٹ بنتا ہے یا نہیں بنتا، اس لیے اس قسم کی حدیثوں سے گناہ کی جسارت اور جراءت پر استدلال کرنا اور گناہوں کو حقیر یا معمولی خیال کرنا درست فکر نہیں ہے۔