حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْب ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، ان سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ ( چھپکلی ) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب بدء الخلق / حدیث: 3306
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1831 | صحيح مسلم: 2239 | سنن نسائي: 2889

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1831 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1831. نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کے متعلق فرمایا: ’’یہ موذی جانور ہے۔‘‘ مگر میں نے یہ نہیں سنا کہ آپ نے اس کو مارڈالنے کا حکم دیا ہو۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری ؒ) نے فرمایا: اس حدیث کے بیان کرنے سے ہمارا مقصدیہ ہے کہ منیٰ حرم میں داخل ہےاور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حرم میں سانپ مارنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1831]
حدیث حاشیہ: ابن عبدالبر نے کہا اس پر علماءکا اتفاق ہے کہ چھپکلی مار ڈالنا حل اور حرم دونوں جگہ درست ہے، واللہ أعلم۔
حافظ نے کہا کہ ابن عبدالحکیم نے امام مالک سے اس کے خلاف نقل کیا کہ اگر محرم چھپکلی کو مارے تو صدقہ دے کیوں کہ وہ ان پانچ جانوروں میں نہیں ہے جن کا قتل جائز ہے اور ابن ابی شیبہ نے عطا سے نکالا کہ بچھو وغیرہ پر قیاس کیا جاسکتا ہے اورحل و حرم میں اسے مارنا بھی درست کہا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1831 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1831 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1831. نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کے متعلق فرمایا: ’’یہ موذی جانور ہے۔‘‘ مگر میں نے یہ نہیں سنا کہ آپ نے اس کو مارڈالنے کا حکم دیا ہو۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری ؒ) نے فرمایا: اس حدیث کے بیان کرنے سے ہمارا مقصدیہ ہے کہ منیٰ حرم میں داخل ہےاور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حرم میں سانپ مارنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1831]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ کا اسے موذی قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ اسے قتل کرنا جائز ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کا اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے نہ سننا حکم امتناعی کی دلیل نہیں بن سکتا جبکہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ خود امام بخاری ؒ نے اس روایت کو بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، بدءالخلق، حدیث: 3306)
حضرت ام شریک ؓ نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اس کے مارنے کا حکم بیان کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ چھپکلی نے حضرت ابراہیم ؑ کی آگ کو تیز کرنے کے لیے پھونکیں ماری تھیں۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3359)
بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے مارنے پر نوید ثواب سنائی ہے۔
ارشاد نبوی ہے: ’’جو چھپکلی کو پہلی ضرب میں قتل کرے گا اسے سو نیکیاں ملیں گی‘‘ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5847(2240) (2)
ابن عبد البر ؒ نے اجماع نقل کیا ہے کہ حل و حرم میں چھپکلی کو مارنا جائز ہے لیکن حضرت عطاء بن ابی رباح سے حرم میں چھپکلی مارنے کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: اگر تجھے اذیت پہنچائے تو اس کے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے مارنے کو اس کی ضرر رسانی پر موقوف خیال کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 54/4) (3)
حدیث کے آخر میں مذکور امام بخاری ؒ کے ارشاد کا تعلق سابقہ حدیث: (1830)
سے ہے۔
چونکہ اکثر نسخوں میں اس کا ذکر ہے، اس لیے اسے یہیں رہنے دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1831 سے ماخوذ ہے۔