صحيح البخاري
كتاب الحيض— کتاب: حیض کے احکام و مسائل
بَابُ النَّوْمِ مَعَ الْحَائِضِ وَهْيَ فِي ثِيَابِهَا: باب: حائضہ عورت کے ساتھ سونا جب کہ وہ حیض کے کپڑوں میں ہو۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ ، فَانْسَلَلْتُ فَخَرَجْتُ مِنْهَا فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَلَبِسْتُهَا ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنُفِسْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَانِي فَأَدْخَلَنِي مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ، قَالَتْ : وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ " .´ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا ، اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور اپنے ساتھ چادر میں داخل کر لیا ۔ زینب نے کہا کہ مجھ سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے اور اسی حالت میں ان کا بوسہ لیتے ۔ اور میں نے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں جنابت کا غسل کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ﴾ ’’اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم)
لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ وہ گندا اور نقصان دہ (خون)
ہوتا ہے اس لیے حالت حیض میں اپنی عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔
‘‘ (البقرة 2/222)
قرآن کریم کی اس ظاہر نص سے عورتوں سے بحالت حیض اعتزال (علیحدگی)
اور عدم قرب کا حکم ہے تو پھر اس حالت میں ان کے ساتھ لیٹنے کا جواز کیونکر ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی احکام کے اثبات کے لیے اکیلا قرآن کافی نہیں جب تک صاحب قرآن کے فرمودات کو اس کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
صرف قرآن سے شرعی احکام معلوم کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔
اس سلسلے میں صرف ظاہر نص قران پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اعتزال اور عدم قربت کا مفہوم کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے آیت کے مفہوم کو بایں الفاظ متعین فرمایا: ’’حائضہ عورت کو گھر میں رہنے دو جماع کے علاوہ تمھیں ہر چیز کی اجازت ہے‘‘ (سنن أبي داود، النکاح، حدیث: 2165)
مذکورہ حدیث اُم سلمہ ؓ نے اس کی مزید وضاحت فرمادی کہ حائضہ عورت کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اس کے ساتھ لیٹنے الغرض جماع کے علاوہ دیگر ہر قسم کے امور استمتاع کی اجازت ہے۔
اس کی مکمل وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
ان کا نفس غالب رہتا ہے ہاں یہ خوف نہ ہو تو جائز ہے۔
(1)
روزہ دار کے لیے اپنی بیوی کو بوسہ دینے کے متعلق مختلف آراء ہیں: بعض نے جوان اور بوڑھے ہونے کا فرق بیان کیا ہے اور بعض حضرات نے اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کو مدار قرار دیا ہے۔
امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ بحالت روزہ بیوی کو بوسہ دینا حرام نہیں بشرطیکہ اس سے شہوت میں کوئی تحریک پیدا نہ ہو، تاہم بہتر ہے کہ اجتناب کیا جائے۔
اور جس انسان میں بوسہ دینے سے تحریک پیدا ہو سکتی ہے اس کے لیے یہ کام حرام ہے۔
اور اگر بوس و کنار کرتے وقت انزال ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے، اسے بعد میں اس کی قضا دینی ہو گی۔
(فتح الباري: 195/4)
حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ روزے دار اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے؟ تو آپ نے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’’اس سے پوچھ لو۔
‘‘ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ ایسا کر لیتے ہیں۔
اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام گزشتہ اور پیوستہ گناہ کو معاف کر دیے ہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2288(1108) (2)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت نہیں، صرف خود پر کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
واللہ أعلم
(1)
الْخَمِيلَةِ: ڈوروں والا کپڑا چادر۔
(2)
حِيْضَة: حالت حیض۔
(3)
نَفِسْتِ: نفس خون کو کہتے ہیں، اس لیے یہ لفظ حیض اور ولادت دونوں کے خون کے لیے استعمال ہو جاتا ہے۔
یہاں حیض مراد ہے، ولادت کے لیے نفست نون کے ضمہ سے اور حیض کے لیے نون کے فتحہ سے۔
فوائد ومسائل: حائضہ عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا سونا جائز ہے۔
صرف خاص تعلقات قائم کرنا منع ہے۔