مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ، قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ : وَذَلِكَ ضُحًى " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عمرو بن عبداللہ کے غلام ابوالنضر نے ، انہیں ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ نے خبر دی ، انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے سنا ، آپ بیان کرتی تھیں کہ` فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ( مکہ میں ) میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادی پردہ کئے ہوئے تھیں ۔ میں نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کون صاحبہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آؤ اچھی آئیں ، ام ہانی ! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک کپڑا جسم اطہر پر لپیٹے ہوئے تھے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری ماں کے بیٹے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شخص کو جسے میں پناہ دے چکی ہوں ، قتل کئے بغیر نہیں رہیں گے ۔ یہ شخص ہبیرہ کا فلاں لڑکا ( جعدہ ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام ہانی ! جسے تم نے پناہ دی ، اسے ہماری طرف سے بھی پناہ ہے ۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ وقت چاشت کا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب الجزیہ والموادعہ / حدیث: 3171
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6158 | صحيح مسلم: 336 | سنن ترمذي: 1579

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3171. حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہؓ آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں۔ میں نےآپ کو سلام عرض کیا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ میں نے کہا: ابوطالب کی بیٹی ام ہانی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’خوش آمدید ام ہانی! جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو اٹھے اور ایک ہی کپڑا لپیٹ کر آٹھ رکعات ادا کیں۔ میں نےعرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! میرا ماں جایا بھائی علی کہتا ہے کہ وہ فلاں شخص کو قتل کرے گا جسے میں نے پناہ دے رکھی ہے، اور وہ فلاں، ہبیرہ کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ام ہانی ؓ! جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دے دی۔‘‘ حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں کہ وہ چاشت کا وقت تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3171]
حدیث حاشیہ: ہبیرہ ام ہانی کے خاوند تھے، جعدہ ان کے بیٹے تھے۔
یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت علی ؓ اپنے بھانجے کو کیوں مارتے، بعضوں نے کہا فلاں ابن ہبیرہ سے حارث بن ہشام محرومی مراد ہیں۔
غرض حدیث سے یہ نکلا کہ عورت کا پناہ دینا درست ہے۔
ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے۔
بعضوں نے کہا امام کو اختیار ہے۔
چاہے اس امان کو منظور کرے چاہے نہ کرے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3171 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3171. حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہؓ آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں۔ میں نےآپ کو سلام عرض کیا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ میں نے کہا: ابوطالب کی بیٹی ام ہانی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’خوش آمدید ام ہانی! جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو اٹھے اور ایک ہی کپڑا لپیٹ کر آٹھ رکعات ادا کیں۔ میں نےعرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! میرا ماں جایا بھائی علی کہتا ہے کہ وہ فلاں شخص کو قتل کرے گا جسے میں نے پناہ دے رکھی ہے، اور وہ فلاں، ہبیرہ کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ام ہانی ؓ! جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دے دی۔‘‘ حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں کہ وہ چاشت کا وقت تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3171]
حدیث حاشیہ:

حضرت ام ہانی ؓ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئیں۔
اس وقت وہ ہبیرہ کے نکاح میں تھیں جن سے ان کی اولاد پیدا ہوئی۔
ان میں سے ایک کانام ہانی تھا جس کی وجہ سے ان کی کنیت ام ہانی تجویز ہوئی۔

ابن ماحبشون کا کہنا ہے: عورت کا امان دینا مستقل حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ امام کی اجازت پر موقوف ہے جبکہ جمہور کا اس امر پر اجماع ہے کہ عورت کا امان دینا جائز اور صحیح ہے اور مستقل حیثیت رکھتاہے۔
امام بخاری ؒ نے جمہور کی تائید فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پناہ کو برقراررکھا، نیز حضرت زینب بنت رسول ﷺ نے اپنے شوہر نامدار حضرت ابوالعاص کو پناہ دی تھی۔
اس سے معلوم ہواکہ جسے عورت پناہ دے دے اسے بھی قتل کرنا حرام ہے۔
(عمدة القاری: 521/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3171 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6158 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6158. سیدہ ام ہانی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے تھے جبکہ آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ آپ کو پردہ کیے ہوئے ہے۔ میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ نے فرمایا: ام ہانی کو خوش آمدید جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعات ادا کیں۔ آپ اس وقت اپنا جسم ایک ہی کپڑے میں لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا بھائی اپنے خیال کے مطابق ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتا ہے جسے میں نے پناہ دے رکھی ہے، یعنی فلان بن ہبیرہ کو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم نے بھی امان دی۔ سیدہ ام ہانی نے کہا: اور یہ چاشت کا وقت تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6158]
حدیث حاشیہ: ترجمہ باب یہاں سے نکلا کہ ام ہانی نے زعم ابن أمي کہا تولفظ زعموا کہنا جائز ہوا۔
فلاں سے مراد حارث بن ہشام یا عبداللہ بن ابی ربیعہ یا زہیر بن ابی امیہ تھا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی اسٹیٹ میں اگر مسلمان عورت بھی کسی کافر کو ذمی بنا کر پناہ دے دے تو قانوناً اس کی پناہ کو لاگو کیا جائے گا کیونکہ اس بارے میں عورت بھی ایک مسلمان مرد جتنا ہی حق رکھتی ہے۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو کوئی حق نہیں دیا گیا ان میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6158 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6158 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6158. سیدہ ام ہانی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے تھے جبکہ آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ آپ کو پردہ کیے ہوئے ہے۔ میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ نے فرمایا: ام ہانی کو خوش آمدید جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعات ادا کیں۔ آپ اس وقت اپنا جسم ایک ہی کپڑے میں لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا بھائی اپنے خیال کے مطابق ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتا ہے جسے میں نے پناہ دے رکھی ہے، یعنی فلان بن ہبیرہ کو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم نے بھی امان دی۔ سیدہ ام ہانی نے کہا: اور یہ چاشت کا وقت تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6158]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں ''زَعَمَ ابن أُمي'' کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ''زَعَمُوا'' استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اگر اس کا استعمال ناجائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اصلاح فرما دیتے۔
(2)
لفظ زَعَمَ قول کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا اور اس نے کہا کہ آپ خود کو اللہ کے رسول کہتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’اس نے سچ کہا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 102(12)
الفاظ یہ ہیں: (أتانا رسولك فزعم لنا أنك تزعم أن الله أرسلك؟ قال: صدق)
بہرحال لفظ زعم کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6158 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 336 کی شرح از حافظ عمران ایوب لاہوری ✍️
´پردے کے مقام پر غسل کرنا`
«. . . أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ . . .»
. . . ‏‏‏‏ ابوطالب کی بیٹی ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے پایا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ایک کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ کئے ہوئے تھیں۔ پھر میں نے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون؟ میں نے عرض کیا کہ ابوطالب کی بیٹی ام ھانی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش آمدید ام ہانی۔ . . . [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/باب اسْتِحْبَابِ صَلاَةِ الضُّحَى وَأَنَّ أَقَلَّهَا رَكْعَتَانِ...: 1669]
تخريج الحديث:
[193۔ البخاري فى: 8 كتاب الصلاة: 4 باب الصلاة فى الثوب الواحد ملتحفا به 280، مسلم 336، ترمذي 2734]
فھم الحدیث: معلوم ہوا کہ کسی پردے کے مقام پر غسل کرنا چاہئیے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کہ عورت کا احترام کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پناہ کو قبول فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 193 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 336 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی طرف گئی تو میں نے آپﷺ کو نہاتے ہوئے پایا اور آپﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپﷺ کو کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھی۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا۔ آپﷺ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ام ہانی کو خوش آمدید‘‘ تو جب آپﷺ نہانے سے فارغ ہوئے تو اٹھے اور آٹھ رکعات نماز پڑھی۔... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1669]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث سے معلوم ہوا با پردہ نہانے والے شخص کو سلام کہنا اور اس سے ضروری گفتگو کرنا جائز ہے۔
جب کہ وہ کپڑا باندھے ہوئے کیونکہ آپﷺ بیٹی کے سامنے برہنہ نہیں ہو سکتے تھے۔
(2)
اگر کسی انسان کو عورت پناہ دے دے تو وہ نافذ العمل ہو گی۔
اس کی پناہ کو توڑنا درست نہیں ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور کا یہی موقف ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عورت کی دی ہوئی پناہ امام (امیر)
کی صواب دید پر موقوف ہے۔
وہ برقرار رکھے یا توڑ دے اس کی مرضی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 336 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1579 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غلام اور عورت کو امان دینے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان عورت کسی کو پناہ دے سکتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1579]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض روایات میں ہے کہ مسلمانوں کا ادنی آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے، اس حدیث اور ام ہانی کے سلسلہ میں آپﷺ کا فرمان: ’’قد أجرنا من أجرت يا أم هاني‘‘ سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان عورت بھی کسی کو پناہ دے سکتی ہے، اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کسی مسلمان کے لیے توڑ ناجائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1579 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔