صحيح البخاري
کتاب الجزیہ والموادعہ— کتاب: جزیہ وغیرہ کے بیان میں
بَابُ الْجِزْيَةِ وَالْمُوَادَعَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ: باب: جزیہ کا اور کافروں سے ایک مدت تک لڑائی نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَتْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ ، وَقَالَ : " أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ ، قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ لَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنْ أَخَشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا ، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے اور انہیں عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی وہ بنی عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے ۔ انہوں نے ان کو خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے لوگوں سے صلح کی تھی اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا تھا ۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار کو معلوم ہو گیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں ۔ چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں ؟ انصار رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں ، یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہیں خوشخبری ہو ، اور اس چیز کے لیے تم پرامید رہو ۔ جس سے تمہیں خوشی ہو گی ، لیکن اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا ۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا کچھ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دئیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دئیے گئے تھے ، تو ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سے جلنے لگو اور یہ جلنا تم کو بھی اسی طرح تباہ کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جتنی دولتیں اور ریاستیں تباہ ہوئیں وہ اسی آپس کے رشک اور حسد اور نااتفاقی کی وجہ سے۔
آج بھی عرب ممالک کو دیکھا جاسکتا ہے کہ یہودی ان کی چھاتیوں پر سوار ہیں اور وہ آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہورہے ہیں۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے ہجری میں اہل بحرین سے صلح کی تھی۔
اس وقت بحرین کے لوگ مجوسی تھے۔
2۔
موادعت سے مراد ترک قتال ہے۔
اہل بحرین کے خلاف اقدام قتال سے باز رہنا اوران سے جزیہ لینے پر صلح کرنا موادعت ہے۔
وہاں حضرت علاء بن حضرمی ؓکو گورنر مقرر کیا تھا تاکہ وہ ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھیں۔
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیا کی رغبت کبھی ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے۔
مسلمانوں کا قومی سطح پر جتنا بھی نقصان ہوا اگر اس کا بغور جائز ہ لیاجائے تو وہاں دنیا طلبی کے متعلق منفی جذبات ہی کارفرمانظرآتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے اس حدیث میں اس مرض کی نشاندہی کی ہے اور اس کاعلاج بھی تجویز کیا ہے۔
افسوس کہ آج بھی عرب ممالک کو دیکھا جاسکتا ہے کہ یہودی ان کی چھاتیوں پر سوار ہیں اور وہ دنیا طلبی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور آپس میں لڑلڑ کرکمزور ہورہے ہیں۔
واللہ المستعان۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اگلی قوموں اور امتوں کا تجربہ تھا کہ جب ان کے ہاں دنیا کی ریل پیل ہوئی تو ان میں دنیوی حرص اور دولت کی چاہت اور زیادہ بڑھ گئی، پھر وہ دنیا کے دیوانے اور متوالے ہو گئے اور اصل مقصد زندگی کو فراموش کر دیا، پھر اس وجہ سے ان میں باہمی حسد و بغض بھی پیدا ہوا، بالآخر دنیا پرستی نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے متعلق بھی اس قسم کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ نے اس خطرے سے آگاہ کیا اور فرمایا: '’’مجھے تم پر فقر و ناداری کے حملے کا اتنا ڈر نہیں بلکہ اس کے برعکس دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر تمہارے ہلاک ہونے کا مجھے زیادہ خوف اور ڈر ہے۔
‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدعا اس خوش نما فتنے کی خطرناکی سے امت کو آگاہ کرنا ہے۔
بعد میں آنے والے حالات سے یہ واضح ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور مسلمان دنیاوی محبت میں پھنس کر اسلام اور فکر آخرت سے غافل ہو گئے جس کے نتیجے میں بے دینی اور انحطاط نے دنیائے اسلام کو گھیر رکھا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بجا طور پر فرمایا ہے: ’’اگر ابن آدم کے پاس خزانوں سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تلاش میں نکل کھڑا ہو گا۔
ابن آدم کا پیٹ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھرے گی، اللہ تعالیٰ تو اپنی مہربانی اس پر کرتا ہے جو اپنا رخ اس کی طرف کر لیتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6436)
یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ حضرت عمرو بن عوف ؓ صحابی بدری تھے۔
1۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت عمرو بن عوف ؓ نے غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی تھی۔
وہ غزوہ احد، خندق اور دیگر غزوات میں بھی شریک ہوئے تھے۔
حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں فوت ہوئے اور حضرت عمر ؓ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
2۔
بحرین بصرہ اور عمان کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔
ان کے باشندوں سے جزیے کی ادائیگی پر صلح کر لی گئی تھی۔
وہاں کے گورنر حضرت علاء بن حضرمی ؓ تھے ان کی وفات کے بعد حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو وہاں کا حاکم مقرر فرمایا۔
3۔
رسول اللہ ﷺ نے بڑی قیمتی نصیحت فرمائی ہے کہ فقر اور تنگ دستی اس قدر نقصان دی نہیں جس ققدر مال و دولت کی فراوانی نقصان دہ ہے کیونکہ غربت میں اللہ یادر رہتا ہے جبکہ دولت کے نشے میں اللہ بھول جاتا ہے۔
(1)
فوافوا صلاة الفجر: انہوں نے نماز فجر کوپایا، اس میں حاضر ہوئے، کیونکہ عام حالات میں وہ اپنے اپنے محلوں کی مساجد میں نماز پڑھتے تھے، کسی اجتماعی ضرورت کے لیے، سارے آپ کی مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔
(2)
تنافسوها: یعنی تتنافسوها: اس میں رغبت اور چاہت کرو گے، زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کروگے۔
ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرگے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو امت کے فقرو ناداری میں مبتلا ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں تھا، بلکہ زیادہ خطرہ اس بات کا تھا کہ زیادہ دولت مندی آئے گی، جس سے دنیوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت میں اضافہ ہوگا، لوگ دنیا کے دیوانے اور متوالے ہوکر مقصد زندگی کو بھلا بیٹھیں گے، دنیا کی عیش و عشرت میں مگن ہوکر، باہمی حسد و بغض کا شکار ہوں گے اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوکر تباہ و برباد ہوں گے اور آج کل ہم سر کی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ عمرو بن عوف رضی الله عنہ (یہ بنو عامر بن لوی کے حلیف اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے) نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو بھیجا پھر وہ بحرین (احساء) سے کچھ مال غنیمت لے کر آئے، جب انصار نے ابوعبیدہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، ادھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو لوگ آپ کے سامنے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: ” شاید تم لوگوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2462]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال واسباب کی فراوانی دینی اعتبار سے فقرو تنگ دستی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کو اس فتنہ سے آگاہ کیا، تاکہ لوگ اس کے خطرناک نتائج سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں، لیکن افسوس صد افسوس مال واسباب کی اسی کثرت نے لوگوں کی اکثریت کو دین سے غافل کردیا، اور آج وہ چیز ہمارے سامنے ہے جس کا آپﷺ کو اندیشہ تھا، حالاں کہ مال جمع کرنے سے آدمی سیر نہیں ہوتا بلکہ مال کی فروانی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر مال کی بھوک بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کی مٹی ہی اس کا پیٹ بھرسکتی ہے۔
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کا جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی، اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا، ابوعبیدہ (ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ) بحرین سے مال لے کر آئے، اور جب انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نماز پڑھ کر لوٹے، تو راستے م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3997]
فوائد و مسائل:
(1)
دولت ایک آزمائش ہے۔
اس کی حرص کی وجہ سے ظلم اور گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔
(2)
مال حلال طریقے سے حاصل ہو اور اس پر قناعت کی جائے تو برا نہیں۔