حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَعْطُونِي رِدَائِي فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا ، وَلَا كَذُوبًا ، وَلَا جَبَانًا " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ` میرے باپ محمد بن جبیر نے کہا اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ تھے ۔ حنین کے جہاد سے واپسی ہو رہی تھی ۔ راستے میں کچھ بدو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے ( لوٹ کا مال ) آپ سے مانگتے تھے ۔ وہ آپ سے ایسا لپٹے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل لے گئے ۔ آپ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی ۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بھائیو ) میری چادر تو دے دو ۔ اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو وہ بھی تم میں تقسیم کر دیتا ۔ تم مجھے بخیل ، جھوٹا اور بزدل ہرگز نہیں پاؤ گے ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فرض الخمس / حدیث: 3148
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2821

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3148. حضرت جبیر بن معطم ؓسے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام ؓ اور بھی تھے جبکہ آپ حنین سے واپس آرہے تھے۔ راستے میں چند دیہاتی آپ سے چمٹ گئے، وہ آپ سے کچھ مانگتے تھے حتیٰ کہ آپ کو ایک کیکر کے درخت کے نیچے دھکیل کر لے گئے اور آپ کی چادر اس کے کانٹوں میں اُلجھ کر رہ گئی۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے اور فرمایا:’’مجھے میری چادر تو دے دو۔ اور اگر میرے پاس اس درخت کے کانٹوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو میں تم میں تقسیم کردیتا۔ تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل ہر گز نہیں پاؤ گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3148]
حدیث حاشیہ: ترجمہ باب یہیں سے نکلتا ہے کہ امام کو اختیار ہے مال غنیمت جن لوگوں کو چاہے مصلحت کے مطابق تقسیم کرسکتا ہے۔
عینی نے کہا: ومطابقة للترجمة تستأنس من قوله لقسمه بینکم
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3148 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3148. حضرت جبیر بن معطم ؓسے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، آپ کے ساتھ چند صحابہ کرام ؓ اور بھی تھے جبکہ آپ حنین سے واپس آرہے تھے۔ راستے میں چند دیہاتی آپ سے چمٹ گئے، وہ آپ سے کچھ مانگتے تھے حتیٰ کہ آپ کو ایک کیکر کے درخت کے نیچے دھکیل کر لے گئے اور آپ کی چادر اس کے کانٹوں میں اُلجھ کر رہ گئی۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے اور فرمایا:’’مجھے میری چادر تو دے دو۔ اور اگر میرے پاس اس درخت کے کانٹوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو میں تم میں تقسیم کردیتا۔ تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل ہر گز نہیں پاؤ گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3148]
حدیث حاشیہ:

اس وقت حالات کا تقاضا تھا کہ رسول اللہﷺ اپنی ذات شریفہ سے بخل کی نفی کرتے، پھر آپ نے فرمایا: میں بخل کی نفی کرنے میں جھوٹا نہیں ہوں۔
نیز میں تم سے ڈر کریہ نفی نہیں کر رہا۔
ان بری صفات کی نفی سے بربادی سخاوت اور شجاعت کو ثابت کرنا مقصود ہے جو اصول اخلاق میں سے ہیں۔

امام بخاری ؒنے اس حدیث سے ثابت کیا ہے اور امام وقت کو اختیارہے کہ وہ مال غنیمت جن لوگوں کو چاہے مصلحت کی خاطر تقسیم کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3148 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2821 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2821. حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ غزوہ حنین سے واپس ہوئے۔ لوگوں نے آپ کوگھیر لیا وہ آپ سے کچھ مانگ رہے تھے حتیٰ کہ آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک اس کے کانٹوں سے الجھ گئی تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہوکر فرمایا: ’’میری چادر تو مجھے واپس کردو۔ اگر میرے پاس اس (درخت) کے کانٹوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں سب کے سب تم میں تقسیم کردیتا۔ مجھے تو کسی وقت بھی بخیل، جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤ گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2821]
حدیث حاشیہ: یہ اس لیے فرمایا کہ بخیلی کے نتائج میں جھوٹ اور بزدلی اور سخاوت کے نتائج میں صداقت اور بہادری لازم ہیں‘ یہ جنگ حنین سے واپسی کا واقعہ ہے۔
مزید تفصیلات کتاب المغازی میں آئیں گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2821 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2821 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2821. حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ غزوہ حنین سے واپس ہوئے۔ لوگوں نے آپ کوگھیر لیا وہ آپ سے کچھ مانگ رہے تھے حتیٰ کہ آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک اس کے کانٹوں سے الجھ گئی تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہوکر فرمایا: ’’میری چادر تو مجھے واپس کردو۔ اگر میرے پاس اس (درخت) کے کانٹوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں سب کے سب تم میں تقسیم کردیتا۔ مجھے تو کسی وقت بھی بخیل، جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤ گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2821]
حدیث حاشیہ:

بخیل کذوب اور جبان مبالغے کے صیغے ہیں۔
جن سے جنس کی نفی کرنا مقصود ہے۔

اس حدیث میں آپ ﷺکے اخلاق کریمانہ کا بیان ہے۔
اصول اخلاق تین ہیں حلم کرم اور شجاعت۔
اس میں بڑی عمدگی کے ساتھ ان تینوں کو بیان کیا گیا ہے عدم کذب سے قوت عقلیہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے جو حکمت و دانائی سے عبارت ہے عدم بخل سے کمال قوت شہویہ کی طرف اشارہ فرمایا جو سخاوت ہے اور عدم جبن سے کمال قوت غضبیہ کی طرف اشارہ کیا جو شجاعت ہے۔
یہ تینوں صفات اعلیٰ اخلاق کی بنیاد ہیں بہر حال رسول اللہ ﷺ بہت بہادر انتہائی سخی اور بہت مدبر و بردبار تھے واضح رہے کہ مذکورہ واقعہ جنگ حنین کا ہے اور حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک راوی کا نام ہے۔

مال طلب کرنے والے وہ نو مسلم تھے جو ابھی تک آپ کی صحبت سے فیض یاب نہیں ہوئے تھے ورنہ جنھیں آپ کی تربیت میں چند دن گزارنے کا موقع ملا وہ ادب و احترام کا پیکربن گئے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2821 سے ماخوذ ہے۔