صحيح البخاري
كتاب فرض الخمس— کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يُخَمِّسِ الأَسْلاَبَ: باب: جو کوئی مقتول کافروں کے ساز و سامان میں خمس نہ دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ، قَالَ : أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : الثَّالِثَةَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : رَجُلٌ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ عَنِّي ، فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيكَ سَلَبَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ فَأَعْطَاهُ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے ابن افلح نے ، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو ( ابتداء میں ) اسلامی لشکر ہارنے لگا ۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے ۔ اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری ۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا ، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی ۔ آخر جب اس کو موت نے آ ڈبوچا ، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا ۔ اس کے بعد مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے ، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا ۔ لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ) میں بھی کھڑا ہوا ۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ لیکن ( جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو ) میں بیٹھ گیا ۔ پھر دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( آج ) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا ۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا ۔ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا ، کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا ، تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں ، یا رسول اللہ ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے ۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئیے ( کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں ) لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے سچ کہا ہے ۔ پھر آپ نے سامان ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا ۔ ابوقتادہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حنین طائف اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک وادی ہے جو مکہ مکرمہ کے مشرقی جانب تقریباً 46کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے آٹھ ہجری میں وہاں جنگ لڑی گئی جس میں ہوازن کے تیر اندازوں سے مقابلہ ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مقتول کافر کا جو سامان ہو وہ قاتل کو دیا جاتا تھا۔
اس سے خمس نہیں لیا جاتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت قتادہ ؓ کو مال سلب دیا جس پر کسی اور شخص نے قبضہ کر لیا تھا لیکن جب رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ ابو قتادہ ؓ ہی قاتل ہیں تو آپ نے وہ سازو سامان لے کر ان کے حوالے کردیا رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر میں یہی قاعدہ نافذ کیا تھا پھر غزوہ حنین کے وقت بھی اسے جاری رکھا کہ سلب کا مستحق وہی ہے جو کسی کافر کو قتل کردے یا اس طرح زخمی کردے۔
کہ اس کی زندگی محال ہو۔
ایسی حالت میں جو پاس کھڑا ہوتا ہے اس کا مال سلب میں کوئی حق نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم۔
تو اگر حاکم یا قاضی نے کسی شخص کو زنا یا چوری یا خون کرتے دیکھا تو صرف اپنے علم کی بنا پر مجرم کو سزا نہیں دے سکتا جب تک باقاعدہ شہادت سے ثبوت نہ ہو۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں قیاس تو یہ تھا کہ ان سب مقدمات میں بھی قاضی کو اپنے علم پر فیصلہ کرنا جائز ہوتا لیکن میں قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں اور استحسان کے رو سے یہ کہتا ہوں کہ قاضی ان مقدمات میں اپنے علم کی بنا پر حکم نہ دے۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی حاکم یا قاضی کسی شخص کو زنا یا چوری یا قتل کرتے دیکھتا ہے تو صرف اپنے علم کی بنیاد پر مجرم کو سزا نہیں دے سکتا جب تک باضابطہ شہادت سے اسے ثابت نہ کیا جائے، اگر ایسا کیا جائے اور شہادت کے بغیر کوئی فیصلہ کر دیا جائے تو اس سے کئی ایک مفاسد پیدا ہوتے ہیں پھر قاضی جسے چاہے گا، اسے سزادے ڈالے گا۔
2۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی کہتے ہیں کہ قیاس کے مطابق ان سب مقدمات میں قاضی کے لیے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز ہے لیکن میں قیاس کو چھوڑ کر بطور استحسان کہتا ہوں کہ کوئی قاضی اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے، اس میں عافیت کا راستہ ہے۔
(فتح الباري: 200/13)
اب رہی یہ بات کہ فساد کے زمانہ میں ہتھیار بیچنا، تو یہ بعض نے مکروہ رکھا ہے جب ان لوگوں کے ہاتھ بیچے جو فتنہ میں ناحق پر ہوں۔
اس لیے کہ یہ اعانت ہے گناہ اور معصیت پر اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا و تعاونوا علی البر و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان (المائدۃ: 2)
اس جماعت کے ہاتھ جو حق پر ہو بیچنا مکروہ نہیں ہے۔
(وحیدی)
(1)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ حنین کے موقع پر ایک کافر کو قتل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مقتول کا تمام سامان دے دیا،جس میں وہ زرہ تھی جسے انھوں نے فروخت کرکے باغ خریدا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب المغازی میں اسے مفصل طور پر ذکر کیا ہے۔
(صحیح البخاری،المغازی،حدیث: 4823) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ وفساد کے زمانے میں ہتھیار فروخت کرنا ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ ایسا کرنے سے خریدار کی اعانت ہوتی ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب خریدار کا حال مشتبہ ہو کہ وہ حق پر ہے یا بغاوت کرنے والا ہے۔
اگر اس بات کا یقین ہوجائے کہ خریدار حق پر ہے تو اس کے پاس ہتھیار فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(3)
دراصل امام نوی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ اپنا مال کسی بھی شخص کو فروخت کیا جاسکتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ اس کی تحدید کرنا چاہتے ہیں۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جب زرہ فروخت کی تو اس وقت بھی ہنگامی حالات تھے لیکن آپ نے قطعی طور پر ایسے شخص کو زرہ فروخت نہیں کی جس سے مسلمانوں کو خطرہ تھا۔
والله اعلم.
اور بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد، اگرایام تشریق میں سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مارے گا، تو ائمہ اربعہ کے نزدیک کنکریاں دوبارہ مارنی ہوں گی تیسرے دن احناف اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مار سکتا ہے لیکن روانگی سورج ڈھلنے کے بعد ہو گی۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہو تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1562]
وضاحت: 1 ؎: یہ قصہ صحیح البخاری کی حدیث: 4322، 3143 اورصحیح مسلم کی حدیث: 1751 میں دیکھا جا سکتا ہے، واقعہ دلچسپ ہے ضرورمطالعہ کریں۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2717]
جو مال مقتول کے پاس ہو۔
اس کا قاتل ہی اس کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔
اور اسے اصطلاحا ً سلب کہتے ہیں۔
یعنی لباس سواری اور اسلحہ پیچھے اس کے ٹھکانے پر جو کچھ ہو وہ اس میں شامل اور شمار نہیں ہوتا۔
اس کی نقدی اور زیورات جو مخفی ہوتے ہیں۔
ان کے بارے میں اختلاف ہے۔
(نیل الأوطار: 305/7)