حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ : " لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ، ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں محمد بن جبیر نے اور انہیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی ( جو کفر کی حالت میں مر گئے تھے ) زندہ ہوتے اور ان نجس ، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں ( فدیہ لیے بغیر ) چھوڑ دیتا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب فرض الخمس / حدیث: 3139
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2689 | بلوغ المرام: 1107 | مسند الحميدي: 568

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3139. حضرت جبیر بن معطم ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسیران بدر کے متعلق فرمایاتھا: ’’اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ ان نجس اور گندے لوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کی سفارش سے انھیں چھوڑ دیتا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3139]
حدیث حاشیہ: آیت کریمہ إنما المشرکونَ نجس (التوبة: 28)
کی بنا پر ان کو نجس کہا، شرک ایسی ہی نجاست ہے۔
مگر ہزار افسوس کہ آج کتنے نام نہاد مسلمان بھی اس نجاست میں آلودہ ہورہے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3139 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3139. حضرت جبیر بن معطم ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسیران بدر کے متعلق فرمایاتھا: ’’اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ ان نجس اور گندے لوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کی سفارش سے انھیں چھوڑ دیتا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3139]
حدیث حاشیہ:

مطعم بن عدی وہ شخص ہے جس نے قریش کے اس معاہدے کو ختم کرانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا جو بنو ہاشم اور بنو مطلب سے بائیکاٹ کے متعلق تھا نیز اس نے رسول اللہ ﷺ کو طائف سے واپسی کے وقت اپنے ہاں پناہ دی تھی۔
رسول اللہ ﷺ اسےبدلہ دینا چاہتے تھے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو مال غنیمت اور خمس کے متعلق کلی اختیار ہے وہ قیدیوں کو معاوضے کے بغیر بھی رہا کر سکتا ہے۔
ان پر یہ احسان کرنا امام کی صوابدید پر موقوف ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غنیمت کی تقسیم سے قبل مجاہدین کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔
البتہ ان کی تقسیم کے بعد ان کا مالک ہونا صحیح قرارپاتا ہےاگر قبل از تقسیم مجاہدین مالک ہو جائیں تو غنیمت میں وہ لوگ جو مجاہدین میں سے کسی کے باپ یا بھائی وغیرہ ہوں تو ان کا آزاد ہونا لازم ہوگا۔
حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔
معلوم ہوا کہ مجاہدین تقسیم سے پہلے مال غنیمت کے مالک نہیں ہوتے بہر حال امام کو مال غنیمت اور خمس میں پورا پورا اختیارحاصل ہوتا ہے وہ تقسیم سے پہلے اسے اپنی صوابدید پر خرچ کر سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3139 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2689 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قیدی پر احسان رکھ کر بغیر فدیہ لیے مفت چھوڑ دینے کا بیان۔`
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: " اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2689]
فوائد ومسائل:

مذکورہ آیت قرآنی اور احادیث سے ثابت ہوا کہ حسب مصلحت قیدی کو فدیہ لئے بغیر احسان کرتے ہوئے رہا کردینا جائز ہے۔


مطعم بن عدی کا رسول اللہ ﷺ یہ احسان تھا کہ طائف سے واپسی پر آپﷺ اس کی حمایت اور پناہ سے مکہ میں آئے تھے۔
اور اس نے آپﷺ کا دفاع بھی کیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2689 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1107 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسیران بدر کے متعلق فرمایا ’’ اگر مطعم بن عدی بقید حیات ہوتا پھر وہ میرے پاس آ کر ان مرداروں کے متعلق بات چیت کرتا تو میں ان کو اس کی خاطر چھوڑ دیتا۔" (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1107»
تخریج:
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ما منّ النبي صلي الله عليه وسلم علي الأساري من غير أن يخمس، حديث:3139.»
تشریح: 1. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ احسان کا بدلہ دینا مسنون ہے‘ خواہ کافر کا احسان ہی کیوں نہ ہو۔
2. مسلمان کے احسان کا بدلہ تو بطریق اولیٰ دینا چاہیے۔
3. اچھے کام میں کسی کے لیے سفارش کرنا بھی جائز ہے۔
اور جائز کام کی سفارش کو قبول کرنا بھی مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1107 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 568 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
568- محمد بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اگر معطم بن عدی زندہ ہوتا اور پھر وہ ان قیدیوں کے بارے یں مجھ سے بات چیت کرتا، تو میں انہیں چھوڑ دیتا۔ " نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد بدر کے قیدی تھے۔ (امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:) جب سفیان اس نوعیت کی حدیث بیان کرتے تھے اور اس میں حدیث کے الفاظ بھی ذکر کرتے تھے، تو وہ ان شاء اللہ ضرور کہا: کرتے تھے، وہ اسے ترک نہیں کرتے تھے۔ لیکن اگر وہ ا روایت کے الفاظ بیان نہیں کرتے تھے، تو بعض اوقات ان شاء اللہ کہہ دیتے تھے اور بعض اوقات ان شاء اللہ نہیں کہتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:568]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار گندے اور بدبو دار لوگ ہوتے ہیں، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ کفار کو بدبو دار کہنا ٹھیک ہے، نیز اس حدیث میں مطعم بن عدی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں احترام ثابت ہوتا ہے، اگر چہ وہ کفر کی حالت میں ہی مرے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے احسان کی وجہ سے ان کا ذکر خیر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 568 سے ماخوذ ہے۔