صحيح البخاري
كتاب فرض الخمس— کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان
بَابُ قِسْمَةِ الإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ، وَيَخْبَأُ لِمَنْ لَمْ يَحْضُرْهُ أَوْ غَابَ عَنْهُ: باب: خلیفہ المسلمین کے پاس غیر لوگ جو تحائف بھیجیں ان کا بانٹ دینا اور ان میں سے جو لوگ موجود نہ ہوں ان کا حصہ چھپا کر محفوظ رکھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، فَقَامَ عَلَى الْبَاب ، فَقَالَ : ادْعُهُ لِي فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَالَ : حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَقَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ ، تَابَعَهُ اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں ۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے رکھ لی ۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں ۔ پھر فرمایا : ابومسور ! یہ قباء میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لی تھی ۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے ۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث ( مرسلاً ہی ) روایت کی ہے ۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مخرمہ ؓ میں طبعی غصہ تھا۔
جلدی سے گرم ہوجاتے جیسے اکثر تنگ مزاج لوگ ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام یا بادشاہ اسلام کو کافر لوگ جو تحفے تحائف بھیجیں ان کا لینا امام کو درست ہے۔
اور اس کو اختیار ہے کہ جو چاہے خود رکھے جو چاہے جس کو دے‘ اغیار کے تحائف قبول کرنا بھی اس سے ثابت ہوا۔
1۔
ریشمی جبوں کا مذکورہ ہدیہ مشرکین کی طرف سے آیاتھا جو رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال تھا۔
مال فے کی طرح اس قسم کے تحائف کی تقسیم بھی رسول اللہ ﷺ کی صوابدید پر موقوف تھی۔
آپ نے جسے چاہا عطا کردیا اور جسے چاہا اسے دوسروں پر ترجیح دےدی۔
لیکن اس قسم کے تحائف کاتبادلہ رسول اللہ ﷺ کے بعد دوسرے حکمرانوں کے لیے جائز نہیں کیونکہ انھیں یہ ہدایا بطور رشوت دیئے جاتےہیں۔
2۔
حضرت مخرمہ ؓ کی طبیعت میں کچھ تیزی تھی۔
وہ جلد غصے میں آجاتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ انھیں جبے کی خوبصورتی بتارہے تھے کہ تاکہ وہ خوش خوش واپس جائیں اور تنگ مزاجی کا مظاہرہ نہ کریں۔
(عمدة القاري: 457/10)
3۔
شارح بخاری ابن منیر ؒ کہتے ہیں: اس عنوان سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ہدیہ صرف ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو مجلس میں موجود ہوں دوسروں کے لیے نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 272/6)
(1)
یہ قبائیں ریشمی تھیں۔
حدیث کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا تھا۔
حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ شاید اس وقت ریشم پہننا مردوں کے لیے حلال ہو گا، یا آپ نے بطور حفاظت اس قبا کو اپنے اوپر ڈالا ہو گا۔
اسے پہننا نہیں کہتے جیسا کہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ کے پاس قبا تھی۔
(المستدرك للحاکم: 390/3، حدیث: 6074، و فتح الباري: 332/10) (2)
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے اور ان کے مزاج کو بخوبی سمجھتے تھے۔
دینی رہنماؤں کو اس سے سبق لینا چاہیے اور اپنے رفقائے کار کا خیال رکھنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے ساتھ برتاؤ بہت اچھا ہوتا تھا، اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا تو بہت خیال رکھتے تھے۔
حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طبیعت میں کچھ سختی تھی، اس سختی کے اثرات ان کی زبان پر تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند ریشمی کوٹ آئے تو آپ نے انہیں اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا۔
چونکہ حضرت مخرمہ کی طبیعت سے واقف تھے، اس لیے آپ نے ان کے لیے ایک کوٹ علیحدہ کر دیا، ادھر حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ریشمی کوٹ آئے ہیں لیکن مجھے محروم کر دیا گیا ہے تو اپنے بیٹے حضرت مسور رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے اور اپنے بیٹے سے کہا: جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاؤ۔
حضرت مسور رضی اللہ عنہ پر یہ بات بہت گراں گزری کہ میں ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاؤں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے باپ بیٹے کی گفتگو سن رہے تھے۔
آپ اٹھے اور کوٹ لے کر باہر آئے اور حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس کے محاسن دکھائے پھر انہیں عنایت کر دیا اور فرمایا: ’’میں نے آپ کے لیے اسے پہلے ہی علیحدہ کر دیا تھا۔
‘‘ چنانچہ حضرت مخرمہ راضی ہو گئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رواداری کی یہ بہت اعلیٰ مثال ہے۔
والد نے کہا اب مخرمہ راضی ہوا۔
ترجمہ باب اس سے نکلتا ہے کہ جب آپ نے وہ اچکن مخرمہ ؓ کو دی تو ان کا قبضہ پورا ہوگیا۔
جمہور کے نزدیک ہبہ میں جب تک موہوب لہ کا قبضہ نہ ہو اس کی ملک پوری نہیں ہوتی اورمالکیہ کے نزدیک صرف عقد سے ہبہ تمام ہوجاتا ہے۔
البتہ اگر موہوب لہ اس وقت تک قبضہ نہ کرے کہ واہب کسی اور کو وہ چیز ہبہ کردے تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔
(وحیدی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہبہ میں دوسرے کی ملکیت اس وقت ثابت ہو گی جب وہ ہبہ اس کے قبضے میں آ جائے، اس سے پہلے پہلے اس میں تصرف نہیں کیا جا سکتا۔
غلام اور منقولات پر قبضے کا یہی طریقہ ہے کہ وہ موہوب لہ کی طرف منتقل کر دیے جائیں جیسا کہ رسول اللہ ؤنے وہ قبا حضرت مخرمہ ؓ کے حوالے کی تو ان کا قبضہ مکمل ہوا۔
جمہور کا یہی موقف ہے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ صرف عقد سے ہبہ تمام ہو جاتا ہے۔
اگر قبضے سے پہلے ہبہ کرنے والا کسی اور کو ہبہ کر دے تو ایسا کرنا صحیح نہیں۔
لیکن یہ موقف محل نظر ہے۔
یعنی اس حدیث سے مسئلہ یوں ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مخرمہ ؓ کی صرف آواز سنتے ہی ان پر اعتماد کرلیا اور آپ ﷺ باہر تشریف لے آئے تو معلوم ہوا کہ اندھا بھی آواز سنے تو شہادت دے سکتا ہے اگر اس کی آواز پہچانتا ہو۔
اس سے آنحضرت ﷺ کی غرباء پروری بھی ظاہر ہے کہ آپ غریبوں کا کس حد تک خیال فرماتے تھے۔
صلی اللہ علیه وسلم
(1)
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت مخرمہ رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی آواز سن کر باہر تشریف لائے اور ریشمی حلہ ان کے حوالے کیا۔
(2)
حافظ ابن حجر ؓ لکھتے ہیں؛ اس حدیث سے مسئلہ یوں ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی شخصیت دیکھے بغیر صرف آواز سنتے ہی انہیں پہچان لیا اور باہر تشریف لے آئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نابینا آدمی آواز سن کر گواہی دے سکتا ہے بشرطیکہ آواز کو پہچانتا ہو۔
اس پر یہ اعتراض بے محل ہے کہ آپ نے اس وقت تک اسے قبا نہ دی جب تک اسے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں لیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو اس شخصیت دیکھنے سے پہلے ہی اس کی آواز سے یقین ہو گیا تھا۔
امام بخاری ؒ کا مقصود بھی یہی ہے۔
واللہ أعلم
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا (جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مخرمہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ” میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا “ تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4028]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت اور ان کا مزاج خوب سمجھتے تھے اور ان کی خوبی خیال رکھتے تھے۔
آج بھی اور تاقیامت تمام امت کے بالعموم اور مذہبی رہنماوں کے لئے بالخصوص اپنے رفقائے کار کے لئے بھی رسول اللہ ؐکی ذات بہترین نمونہ ہے۔
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو، چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا، انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور آپ کو میرے لیے بلا لاؤ، چنانچہ میں نے آپ کو بلا لایا، آپ نکل کر آئے تو آپ انہیں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ” اسے میں نے تمہارے ہی لیے چھپا رکھی تھی “، مخرمہ نے اسے دیکھا اور پہن لی [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5326]
(2) مخرمہ رضی اللہ عنہ نابینے تھے اس لیے وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے غریب اور نابینے صحابی کی دلجوئی فرمائی اور انہیں قبا پیش فرمائی اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ ہم نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی تاکہ اس کی تالیف قلب ہو۔ صلی اللہ علیہ وسلم کثیرا کثیرا۔
(3) بعض لوگوں نے حضرت مسور کے صحابی ہونے کا انکار کیا لیکن اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے۔ یہ حدیث حضرت مسور رضی اللہ عنہ صحابی ہونے کی صریح دلیل ہے۔ واللہ أعلم۔
(4) قبا قمیص کی طرح ہوتی ہے مگر قمیص سے لمبی اور کھلی ہوتی ہے اوور کوٹ کی طرح اس کے بٹن نہیں ہوتے۔