صحيح البخاري
كتاب فرض الخمس— کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان
بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصاء مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، پیالہ اور انگوٹھی کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كِسَاءً مُلَبَّدًا ، وَقَالَتْ : فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ " .´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہا` عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی ۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار ( تہمد ) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ ( اور موٹا پیوند دار کہتے ہو ) ہمیں نکال کر دکھائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مگر بناؤ سنگار سے پرہیز فرمایا کرتے تھے۔
آپ ﷺ کے جوتے‘ آپ کا پیالہ‘ آپ کی انگوٹھی ان سب کو بطور یادگار محفوظ رکھا گیا‘ مگر تقسیم نہیں کیا گیا۔
جس سے ثابت ہواکہ صحابہ وخلفائے عظام نے آپ ﷺ کے ارشاد نَحنُ معشرُ الأنبیاءِ لا نُورثُ کو پورے پورے طور پر ملحوظ نظر رکھا ﷺ۔
1۔
رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جو کپڑا میسر آتا اسے زیب تین فرماتے، البتہ آپ کا لباس صاف ستھرا، اجلا اور شفاف ہوتا تھا، لیکن بناؤسنگار سے پرہیز کیا کر تے تھے۔
پیوند لگی چادر کبھی بہ نظر تواضع یا اتفاقاً پہنی ہوگی، خوامخواہ پھٹا پرانا لباس پہننا آپ کی شان کے شایان نہ تھا، بہرحال آپ کے لباس کو بطور یاد گار محفوظ کیا گیا، اسے تقسیم کرکے اس میں وراثت کا اصول جاری نہیں کیاگیا، آخرکار وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہوگیا۔
2۔
ان آثار شریفہ کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس خوش قسمت انسان کے پاس آپ کی کوئی نشانی تھی، اس نے وصیت کردی تھی کہ مرنے کے بعد قبر میں اسے اس کے ساتھ ہی فن کردیا جائے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک عورت نے اپنے ہاتھ سے چادر کی اور آپ کو بطور تحفہ پیش کی۔
آپ نے اسے قبو ل کرتے ہوئے زیب تن فرمایا۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ نے اس خواہش کے پیش نظر کہ وہ ان کا کفن ہو رسول اللہ ﷺ سے وہ چادر مانگ لی۔
بالآخر وہی چادر ان کا کفن بنی۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1277)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا ایک قمیص رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو پہنایاگیا، اسے بھی بطورکفن قبر میں دفن کردیا گیا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1270)