صحيح البخاري
كتاب فرض الخمس— کتاب: خمس کے فرض ہونے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں اور ان گھروں کا انہی کی طرف منسوب کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ ، فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَفَذَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى رِسْلِكُمَا ، قَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " .´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے علی بن حسین زین العابدین نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملنے کے لیے حاضر ہوئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے تھے ۔ پھر وہ واپس ہونے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اٹھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے جو مسجد نبوی کے دروازے سے ملا ہوا تھا تو دو انصاری صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) وہاں سے گزرے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے سلام کیا اور آگے بڑھنے لگے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ‘ ذرا ٹھہر جاؤ ( میرے ساتھ میری بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں یعنی کوئی دوسرا نہیں ) ان دونوں نے عرض کیا ۔ سبحان اللہ ‘ یا رسول اللہ ! ان حضرات پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے ۔ مجھے یہی خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو جائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
درحقیقت آپ ﷺ نے ان کا ایمان بچالیا‘ پیغمبروں کی نسبت ایک ذرا سی بد گمانی کرنا بھی کفر اور باعث زوال ایمان ہے‘ اس حدیث سے امام بخاری ؒنے باب کا مطلب یوں نکالا کہ دروازے کو ام المومنین ام سلمہ کا دروازہ کہا۔
1۔
حدیث سابق کے تحت بدگمانی سے بچنے کےضمن میں حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعے کا حوالہ دیا گیا تھا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ مستقل طور پر مستند طریقے سے بیان کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری حضرات کے متعلق یہ اندیشہ محسوس کیا کہ شاید یہ کسی بدگمانی میں مبتلا ہوجائیں اور ان کے دلوں میں کوئی غلط بات بیٹھ جائے جس کی وجہ سے ان کی آخرت تباہ ہو جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے وضاحت کر دی کہ یہ عورت کوئی اجنبی نہیں بلکہ میری بیوی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے۔
جب انھوں نےاظہار تعجب کیا کہ یہ ہم آپ کے متعلق بدگمانی کیسے کر سکتے تھے توآپ نے فرمایا: شیطان انسان کے رگ وریشے میں سرایت کیے ہوئے ہے، اس سے ایسا وسوسہ دینا بعید نہیں۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ تہمت کادورکرنا انتہائی ضروری ہے۔
جب حاکم کا اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا بدگمانی کو دعوت دیتا ہے تو اسے دور کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ محض اپنے علم کی بنیاد پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے گریز کیا جائے بلکہ اس کے لیے باقاعدہ ثبوت اور شہادتیں طلب کی جائیں۔
(فتح الباري: 201/13)
(1)
دونوں انصاری بزرگوں نے تعجب کے وقت سبحان اللہ کہا۔
اگر ایسے موقع پر یہ کہنا درست نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع فرما دیتے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ متوقع غلط فہمی کو قبل از وقت دور کرنا سنت نبوی ہے۔
واللہ أعلم۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ کے دلوں سے متوقع غلط فہمی کو دور فرمایا کہ یہ میری بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں، کوئی اجنبی عورت نہیں جس کے پاس میں رات کے وقت کھڑا ہوں۔
1۔
رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر بہت مہربانی اور شفقت کرتے تھے اس لیے آپ نے وضاحت کردی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان ان کے دلوں میں کوئی ایسی ویسی بات ڈال دے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہو۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو کسی بھی ایسی حالت سے بچنا چاہیے کس سے شبہات پیدا ہوں اور اگر بظاہرایسا موقع بن جائے تو اس کی وضاحت کر دینی چاہیے رسول اللہ ﷺ نے یہی سوچ کر ان کے سامنے اصل معاملہ رکھ دیا اور انھیں غلط وسوسے سے بچا لیا۔
3۔
انسان کے جسم میں شیطان کا گردش کرنا حقیقت پر محمول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسے انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرنے کی قوت دی ہے تاہم کچھ علماء کا خیال ہے کہ وہ کثرت وسوس کی بنا پر انسان کےساتھ لگا رہتاہے اور اس سے علیحدہ نہیں ہوتا۔
4۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ شیطانی وسوسہ اندازی سے ہمیں چوکس رہنا چاہیے وہ بڑے خفیہ اور لطیف انداز سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہےاس کی خفیہ سازش کو قرآن کریم نے آخری سورت میں بیان کیا ہے۔
(1)
ہر انسان کو حق ہے کہ وہ قول اور عمل سے اپنا دفاع کرے۔
یہ کام دوران اعتکاف بھی کیا جا سکتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے دوران اعتکاف میں اپنا دفاع بایں الفاظ کیا: ’’جسے تم نے میرے ساتھ رات کے وقت دیکھا ہے وہ میری بیوی صفیہ ہے۔
‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم میرے متعلق بدگمانی کا شکار ہو لیکن تمہیں اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ شیطان، انسان کے رگ و ریشے میں خون کی طرح دوڑ جاتا ہے اور اسے علم بھی نہیں ہوتا۔
‘‘(فتح الباري: 355/4)
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بدگمانی اور شیطانی مکروفریب سے خود کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
خاص طور پر علماء حضرات کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے لوگ ان کے متعلق بدگمانی میں مبتلا ہو جائیں اگرچہ اس کام میں مخلص ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ بدگمانی پیدا ہونے کی صورت میں ان کے علوم سے فائدہ حاصل کرنا ختم ہو جائے گا۔
کوئی شخص بطور تجربہ بھی ایسا کام نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔
(عمدةالقاري: 282/8)
علامہ ابن حجر ؒ اس کے ذیل میں ایک جگہ لکھتے ہیں۔
وَفِي الْحَدِيثِ مِنَ الْفَوَائِدِ جَوَازُ اشْتِغَالِ الْمُعْتَكِفِ بِالْأُمُورِ الْمُبَاحَةِ مِنْ تَشْيِيعِ زَائِرِهِ وَالْقِيَامِ مَعَهُ وَالْحَدِيثِ مَعَ غَيْرِهِ وَإِبَاحَةُ خَلْوَةِ الْمُعْتَكِفِ بِالزَّوْجَةِ وَزِيَارَةُ الْمَرْأَةِ لِلْمُعْتَكِفِ وَبَيَانُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَإِرْشَادُهُمْ إِلَى مَا يَدْفَعُ عَنْهُمُ الْإِثْمَ وَفِيهِ التَّحَرُّزُ مِنَ التَّعَرُّضِ لِسُوءِ الظَّنِّ وَالِاحْتِفَاظُ مِنْ كَيَدِ الشَّيْطَان والاعتذار قَالَ بن دَقِيقِ الْعِيدِ وَهَذَا مُتَأَكِّدٌ فِي حَقِّ الْعُلَمَاءِ وَمَنْ يُقْتَدَى بِهِ فَلَا يَجُوزُ لَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا فِعْلًا يُوجِبُ سُوءَ الظَّنِّ بِهِمْ وَإِنْ كَانَ لَهُمْ فِيهِ مَخْلَصٌ لِأَنَّ ذَلِكَ سَبَبٌ إِلَى إِبْطَالِ الِانْتِفَاعِ بِعِلْمِهِمْ وَمِنْ ثَمَّ قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يُبَيِّنَ لِلْمَحْكُومِ عَلَيْهِ وَجْهَ الْحُكْمِ إِذَا كَانَ خَافِيًا نَفْيًا لِلتُّهْمَةِ وَمِنْ هُنَا يَظْهَرُ خَطَأُ مَنْ يَتَظَاهَرُ بِمَظَاهِرِ السُّوءِ وَيَعْتَذِرُ بِأَنَّهُ يُجَرِّبُ بِذَلِكَ عَلَى نَفْسِهِ وَقَدْ عَظُمَ الْبَلَاءُ بِهَذَا الصِّنْفِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَفِيهِ إِضَافَةُ بُيُوتُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِنَّ وَفِيهِ جَوَازُ خُرُوجِ الْمَرْأَةِ لَيْلًا وَفِيهِ قَوْلُ سُبْحَانَ اللَّهِ عِنْدَ التَّعَجُّب الخ (فتح الباري)
مختصر مطلب یہ کہ اس حدیث سے بہت سے فوائد نکلتے ہیں مثلاً یہ کہ معتکف کے لیے مباح ہے کہ وہ اپنے ملنے والوں کو کھڑا ہو کر ان کو رخصت کرسکتا ہے اور غیروں کے ساتھ بات بھی کرسکتا ہے۔
اور اس کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت بھی مباح ہے یعنی اس سے تنہائی میں صرف ضروری اور مناسب بات چیت کرنا، اور اعتکاف کرنے والے کی عورت بھی اس سے ملنے آسکتی ہے اور اس حدیث سے امت کے لیے شفقت نبوی کا بھی اثبات ہے اور آپ ﷺ کے ایسے ارشاد پر بھی دلیل ہے جو کہ امت سے گناہوں کے دفع کرنے سے متعلق ہے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ بدگمانی اور شیطانی مکروں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔
ابن دقیق العید نے کہا کہ علماءکے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ان کے حق میں لوگ بدگمانی پیدا کرسکیں، اگرچہ اس کام میں ان کے اخلاص بھی ہو، مگر بدگمانی پیدا ہونے کی صورت میں ان کے علوم کا انتفاع ختم ہوجانے کا احتمال ہے۔
اسی لیے بعض علماءنے کہا کہ حاکم کے لیے ضروری ہے کہ مدعی علیہ پر جو اس نے فیصلہ دیا ہے اس کی پوری وجوہ اس کے سامنے بیان کردے تاکہ وہ کوئی غلط تہمت حاکم پر نہ لگا سکے۔
اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ کوئی شخص بطور تجربہ بھی کوئی برامظاہرہ نہ کرے۔
ایسی بلائیں آج کل عام ہو رہی ہیں اور اس حدیث میں بیوت ازواج النبی کی اضافت کا بھی جواز ہے اور رات میں عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنے کا بھی جواز ثابت ہے اور تعجب کے وقت سبحان اللہ کہنے کا بھی ثبوت ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے اس حدیث سے کئی ایک مسائل کا استنباط کیا ہے، مثلاً: معتکف کے لیے جائز ہے کہ وہ آنے والوں کو خندہ پیشانی سے ملے اور انہیں اعزاز و اکرام سے رخصت کرے۔
وہ دوسروں کے ساتھ بات چیت بھی کر سکتا ہے۔
اس کے لیے اپنی بیوی سے خلوت بھی جائز ہے، یعنی تنہائی میں اس سے ضروری اور مناسب بات چیت کر سکتا ہے، نیز اس کی بیوی اس کی ملاقات کے لیے اعتکاف گاہ میں آ سکتی ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت بوقت ضرورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے دو صحابۂ کرام ؓ کی طرف اس بات کو منسوب نہیں کیا کہ وہ آپ کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہیں کیونکہ آپ ان کے ایمان کی سچائی اور اخلاص سے خوب واقف تھے، البتہ انہیں اس بات سے خبردار کیا کہ مبادا شیطان کے وسوسے کا شکار ہو جائیں جو ان کی تباہی و بربادی کا باعث بن جائے۔
(فتح الباري: 355/4)
آپ ﷺ حضرت صفیہ ؓ کے ساتھ اس لیے نکلے کہ وہ اکیلی رہ گئی تھیں۔
کہتے ہیں کہ ان کا مکان بھی مسجد سے دور تھا، بعض روایتوں میں ان دیکھنے والوں کے متعلق ذکر ہے کہ انہوں نے آگے بڑھ جانا چاہا تھا، آنحضرت ﷺ نے حقیقت حال سے آگاہ فرمانے کے لیے ان کو بلایا۔
معلوم ہوا کہ کسی ممکن شک کو دور کر دینا بہرحال اچھا ہے۔
(1)
دنیاوی معاملات سے الگ تھلگ ہو کر تقرب الٰہی کی نیت سے مخصوص ایام میں کچھ وقت مسجد میں قیام کرنے کو شرعاً اعتکاف کہا جاتا ہے۔
اگر مسجد میں قیام کے دوران تقرب الٰہی کی نیت نہیں یا تقرب الٰہی کی نیت تو ہے لیکن مسجد میں قیام نہیں تو ان دونوں صورتوں کو شرعی اعتکاف نہیں کہا جائے گا۔
(2)
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد میں قیام کے دوران اپنی کوئی دنیاوی ضرورت پوری کرنا اعتکاف کے منافی ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں اسی موضوع کو بیان کیا ہے کہ معتکف اپنی کسی ضرورت کے پیش نظر صرف مسجد کے دروازے تک آ سکتا ہے اور ایسا کرنا اعتکاف کے منافی نہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھر مسجد نبوی کے آس پاس تھے۔
ایک دفعہ جب آپ معتکف ہوئے تو رات کے وقت گھریلو معاملات کے متعلق مشورہ کرنے کے لیے ازواج مطہرات آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔
حضرت صفیہ ؓ کا گھر ذرا دور تھا۔
وہ رات کے وقت دیر سے آئیں۔
جب ازواج مطہرات مجلس کے اختتام پر اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لیے اٹھیں تو حضرت صفیہ بھی تیار ہو گئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں روک لیا، ایک تو دیر سے آنے کی بنا پر تاکہ انہیں بھی دوسری ازواج کی طرح پورا وقت آپ کی خدمت میں گزارنے کا موقع ملے، نیز اس لیے بھی کہ ان کا گھر دور تھا اور انہیں گھر تک پہنچانے کے لیے آپ نے انہیں روک لیا۔
اس دوران میں دو انصاری حضرات سے ملاقات ہوئی جس کا حدیث میں ذکر ہے۔
(3)
امام بخاری ؒ نے یہ ثابت کیا ہے کہ تقرب الٰہی کی نیت سے مخصوص ایام میں مسجد کے اندر قیام کرنا اس بات کے منافی نہیں کہ معتکف اس دوران مسجد میں اپنی کوئی دنیاوی ضرورت نہیں پوری کر سکتا۔
ایسا کرنا جائز ہے اور یہ اعتکاف کے منافی نہیں۔
(فتح الباري: 353/4،354)
علي رسلكما: اپنی چال چلتے رہو، سکون واطمینان سے چلو۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اعتکاف میں بیٹھنے والے کے پاس اس کی بیوی جا کر گفتگو کر سکتی ہے اور وہ اسے رخصت کرنے کے لیے باہر آ سکتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے انتہائی شفیق اور ہمدرد تھے، ان کو ہر ایسے کام سے آگاہ کرتے تھے، جو ان کے لیے گناہ کا باعث بن سکتا تھا اور انسان کو شیطان سے بچ کر رہنا چاہیے، وہ انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور اس کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کر کے اسے راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور انصاریوں نے، اس بات پر تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہ کوئی مسلمان آپ کے بارے میں بھی بدگمانی کا شکار ہو سکتا ہے، سبحان اللہ کہا۔
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: ” تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں “ ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! (یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں) آپ نے فرمایا: ” شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4994]
1) اعتکاف کے دوران میں جائزہے کہ بیوی معتکف کو ملنے کے لئے آئےاور وہ آپس میں گفتگو کریں۔
2) معتکف اپنی فطری ضروریات کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔
مثلا قضائے حاجت یا ضروری غسل لے لئے جبکہ مسجد میں ان کا معقول انتظام نہ ہو، اسی طرح شدید بیماری کی حالت میں بھی جبکہ مسجد میں طبی امداد پہنچنے کے مواقع نہ ہوں تو اس قسم کے تمام حالات میں مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔
3) انسان کو تہمت اور شبہے کے مقامات سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیئے۔
نبیﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ کا تعارف کرا کے اس شہبے کا ازالہ فرما دیا۔
4) شیطان انسان کے جسم میں ایسے گردش کرتا ہے جیسے خون اس لیے اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے تعوذ (أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) بہت زیادہ بڑھنا چاہئے۔
ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی)۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1779]
فوائد و مسائل:
(1)
اعتکاف کرنے والے سے دوسرے لوگ مل جل سکتے ہیں اور ضروری بات چیت کر سکتے ہیں۔
(2)
اعتکاف والے سے اس کی بیوی بھی مسجد میں آ کر ملاقات کر سکتی ہے۔
(3)
متعکف کسی ضرورت سے اعتکا ف کی جگہ سے اٹھ کر مسجد کے دروازے تک جا سکتا ہے۔
(4)
عالم کو اپنی عزت و شرف کا خیال رکھنا چا ہیے اور لوگوں کو ایسا موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ شک وشبہ کا اظہا ر کریں۔
(5)
خاوند اپنی بیوی کا نام لے سکتا ہے اور اسے نام لے کر بلا بھی سکتا ہے۔
(6)
ان دو صحابیو ں نے رسول اللہ ﷺ کی اس بات سے تکلیف محسوس کی کیونکہ انھیں محسوس ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے بارے میں حسن ظن نہیں رکھتے۔
(7)
رسول اللہ ﷺ نے ان کا یہ احساس دور کر نے کے لئے وضاحت فرما دی کہ تم نے میرے بارے میں کوئی غلط بات نہیں سوچی لیکن شیطان وسوسہ ڈال سکتا ہے۔
(8)
نبی ﷺ کی یہ وضاحت اس لئے باعث رحمت تھی کیونکہ اس طرح شیطان کے وسوسے کا راستہ بند ہو گیا ورنہ نبی ﷺ کے بارے میں کوئی ایسی ویسی سوچ ایمان سے محرومی کا با عث بھی ہو سکتی تھی۔
(9)
تعجب کے موقعہ پر سبحان اللہ کہنا درست ہے۔
(10)
شیطان جنات میں سے ہونے کی وجہ سے انسان پر غیر محسوس طور پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے اس کا وسوسہ ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو انسان کے ایمان کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے ان وسوسوں کے شر سے بچنے کے لئے لاحول ولا قوۃ الا باللہ اور اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا چاہیے۔