حدیث نمبر: 3083
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " ذَهَبْنَا نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ` سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ ( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے تو ) ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گئے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3083
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3083. حضرت سائب بن یزید ؓسے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ ہم بچوں کے ساتھ مل کر ثنیۃ الوداع تک رسول اللہ ﷺ کے استقبال کے لیے گئے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3083]
حدیث حاشیہ: مجاہدین کا واپسی پر پر خلوص استقبال کرنا سنت ہے۔
حضرت امام ؒ اسی مقصد کو بیان فرما رہے ہیں۔
مدینہ کے قریب ایک گھاٹی تک لوگ اپنے مہمانوں کو رخصت کرنے جایا کرتے تھے۔
اسی کا نام ثنیۃ الوداع قرار دیا۔
غزوہ تبوک کی تفصیلات کتاب المغازی میں آئیں گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3083 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3083. حضرت سائب بن یزید ؓسے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ ہم بچوں کے ساتھ مل کر ثنیۃ الوداع تک رسول اللہ ﷺ کے استقبال کے لیے گئے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3083]
حدیث حاشیہ:

اس ثنیۃ الوداع سے مراد وہ جہت ہے جو مدینہ طیبہ سے تبوک کی طرف ہے کیونکہ جامع ترمذی میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے توآپ کے استقبال کے لیے وہ ثنیۃ الوداع تک گئے۔
حضرت سائب کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں اس وقت کم عمربچہ تھا۔
(جامع الترمذي، الجھاد، حدیث: 1718)

مدینہ طیبہ کے چاروں طرف ثنیات الوداع ہیں کیونکہ پہاڑ کے نشیب میں واقع راستے کو ثنیہ کہا جاتا ہے۔
جب لوگ کسی کو الوداع کرنے جاتے تو ان مقامات تک جاتے،اس لیے ان جگہوں کو ثنیۃ الوداع کہتے تھے۔
(عمدة القاري: 414/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3083 سے ماخوذ ہے۔