حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي ، فَقُلْتُ : بَايِعْنَا عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا " ، فَقُلْتُ : عَلَامَ تُبَايِعُنَا ، قَالَ : " عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا ، انہوں نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے ، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں اپنے بھائی کے ساتھ ( فتح مکہ کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو ( مکہ کے فتح ہونے کے بعد ، وہاں سے ) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی ۔ میں نے عرض کیا ، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2963
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1863

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2963. حضرت مجاشع ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں اور میرا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہجرت تو مسلمان کے لیے ختم ہو چکی ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اب آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’اسلام پر استقامت اور جہاد پر گامزن رہنے پر۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2963]
حدیث حاشیہ: عہد رسالت میں ہجرت کا جو نشانہ تھا وہ فتح مکہ پر ختم ہوگیا۔
کیونکہ سارا عرب دارالاسلام بن گیا‘ بعد کے زمانوں میں مکی زندگی کا نقشہ سامنے آنے پر ہجرت کا سلسلہ جاری ہے۔
نیز اسلام اور جہاد بھی باقی ہے۔
لہٰذا ان سب پر بیعت لی جاسکتی ہے۔
بیعت سے مراد حلف اور اقرار ہے کہ اس پر ضرور قائم رہا جائے گا۔
خلاف ہرگز نہ ہوگا۔
بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں جو بیان ہوں گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2963 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2963. حضرت مجاشع ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں اور میرا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہجرت تو مسلمان کے لیے ختم ہو چکی ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اب آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’اسلام پر استقامت اور جہاد پر گامزن رہنے پر۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2963]
حدیث حاشیہ:

پہلی حدیث کے مطابق صحابہ کرام ؓنے غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺکے ہاتھ پر جہاد کرنے کی بیعت کی کہ جب تک وہ زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے۔
اس بعیت کا مطلب یہ تھا کہ وہ میدان جنگ سے راہ فراراختیارنہیں کریں گے اگرچہ اس راستے میں ان کی جانیں ختم ہوجائیں۔
دوسری حدیث میں حضرت مجاشع ؓسے بیعت لینے کا ذکر ہے۔
وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے۔
اس وقت مکہ سے ہجرت کرنے کا موقع نہیں تھا کیونکہ وہ اب مکہ دارالسلام بن چکا تھا۔

رسول اللہ ﷺ ہجرت کے لیے بیعت ان لوگوں سے لیتے تھے جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے تھے، جو لوگ اس کے بعد مسلمان ہوئے ان سے ہجرت کی بیعت نہیں لی جاتی تھی بلکہ ان سے جہاد کی بیعت لی جاتی تھی کیونکہ جہاد قیامت تک کے لیے فرض ہے، البتہ جس ملک میں انسان کا ایمان خطرے میں ہو، وہاں سے ہجرت کرکے ایسے علاقے میں جانا ضروری ہے جہاں ایمان محفوظ ہو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2963 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1863 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے لیے بیعت کرنے کی خاطر حاضر ہوا، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ہجرت، اصحاب ہجرت کو مل چکی ہے، لیکن اب اسلام، جہاد اور نیکی کے کام کے لیے بیعت ہو سکتی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4826]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جس ہجرت میں فضیلت تھی اور جو مقصود اور لازمی تھی، وہ اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آباد ہونا تھا، تاکہ مسلمانوں کی قوت ایک جگہ مجتمع ہو جائے اور مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل کر لیا جائے، اب جب مکہ دارالسلام بن گیا ہے، تو مدینہ کی طرف ہجرت کرنا، امتیاز اور شرف کا باعث نہیں رہا، کیونکہ مکہ فتح ہو چکا اور اسلام کو غلبہ اور قوت و شوکت حاصل ہو گئی، اس لیے اس ہجرت کا شرف اور امتیاز مہاجرین کو حاصل ہو چکا ہے، اس لیے اب اگر کوئی ایسے علاقہ میں رہتا ہے، جہاں دین کا اظہار اور اس کے فرائض و واجبات کو ادا کرنا ممکن نہیں ہے اور وہ ہجرت کر سکتا ہے، تو اس کو ہجرت کرنا چاہیے، لیکن اگر اسلام کا اظہار اور فرائض و واجبات کی ادائیگی پر کوئی قدغن نہیں ہے یا ہجرت کرنا ممکن نہیں ہے، تو اس کے لیے ہجرت کرنا ضروری نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1863 سے ماخوذ ہے۔