صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لاَ يَفِرُّوا: باب: لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى ظِلِّ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا خَفَّ النَّاسُ ، قَالَ : " يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ ، قَالَ : قُلْتُ : قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَيْضًا فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُبَايِعُونَ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ " .´ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، اور ان سے سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا` ( حدیبیہ کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔ پھر ایک درخت کے سائے میں آ کر کھڑا ہو گیا ۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ، ابن الاکوع کیا بیعت نہیں کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں تو بیعت کر چکا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، دوبارہ اور بھی ! چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کی ( یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ ) میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، ابومسلم اس دن آپ حضرات نے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ کہا کہ موت پر ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جو ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی۔
سورہ فتح میں اللہ تعالیٰ نے ان جملہ مجاہدین کے لئے اپنی رضا کا اعلان فرمایا ہے۔
رضي اللہ عنهم و رضوا عنه۔
آیت شریفہ ﴿لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ (الفتح: 18)
میں اسی کا بیان ہے۔
1۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بڑے جری،بہادر اور جفاکش تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان سے دوسری مرتبہ بیعت لی تاکہ اللہ کی راہ میں خوشی خوشی اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں۔
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: حضرت سلمہ بن اکوع ؓ شہسوار اور پیادہ دونوں طرح کہ لڑائی میں ماہر تھے تو دونوں صفات کے اعتبار سے دو دفعہ بیعت لی گئی۔
گویا تعددصفت،تعدد بیعت کا سبب بنا۔
(فتح الباري: 246/13)
2۔
موت پربیعت کرنے کامقصد یہ ہے کہ کفار کے ساتھ جنگ میں ڈٹ کر ان کا مقابلہ کریں اگرچہ لڑتے لڑتے موت آجائے۔
محض مرنا مقصود نہیں۔
واللہ أعلم۔
یزید بن ابو عبیدہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
انھوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کس بات پر کی تھی؟ اس سوال کا پس منظر یہ تھا کہ انھوں نے حدیبیہ کے دن دو دفعہ بیعت کی تھی جس کی وجہ سے یزید بن ابو عبیدہ کو تجسس پیدا ہوا تو انھوں نے یہ سوال کیا۔
انھوں نے فرمایا: ہماری بیعت یہ تھی کہ ہم جنگ سے نہیں بھاگیں گے۔
اگرچہ میدان میں موت آجائے۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2960)
اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ سے بار بار بیعت لی ہے۔
سلمہ بن اکواع بڑے بہادر اور لڑنے والے مرد تھے تیر اندازی اور دوڑ میں بے نظیر تھے۔
ان کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے ان سے دو مرتبہ بیعت لی گئی۔
دوبارہ بیعت کرنے کا مطلب تجدید عہد ہے جسے جس قدر مضبوط کیا جائے بہتر ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے بہادر تیرانداز اور دوڑ میں بے نظیر تھے ان کے مرتبے اور فضیلت کو ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ بیعت لی اور اس میں اشارہ تھا کہ وہ آئندہ جنگوں میں دو آدمیوں کے قائم مقام ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک مرتبہ پیدل اور سوار کا حصہ دیا تھا۔
(فتح الباري: 26/13)
1۔
پہلی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زوالِ آفتاب سے پہلے نماز جمعہ جائز ہے کیونکہ اس حدیث میں اس سائے کی نفی ہے جس کے نیچے بیٹھا جائے اور آرام کیا جائے، مطلق سائے کی نفی نہیں۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بھی اصحاب شجرہ سے ہیں۔
حضرت سلمہ ؓ خود فرماتے ہیں کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پررسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، پھرمیں درخت کے سائے میں بیٹھ گیا، جب بھیڑ ختم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابن اکوع!کیا تم بیعت نہیں کروگے؟‘‘ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول ﷺ! میں نےآپ کی بیعت کرلی ہے توآپ نے فرمایا: ’’دوبارہ کرو۔
،، چنانچہ میں نے دوسری مرتبہ آپ سے بیعت کی۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث 2960)
3۔
آپ نے دو مرتبہ بیعت کیوں کی؟ اس کی تفصیل کتاب الجہاد میں مذکورہ حدیث کے تحت دیکھی جاسکتی ہے۔
4۔
موت پر بیعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میدان جنگ سے نہیں بھاگیں گے اگرچہ وہاں شہید ہوجائیں، یعنی موت کو عدم فرار لازم ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
عَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا: حدیبیہ کا پانی اتنا کم تھا، کہ اس سے پچاس بکریاں بھی سیراب نہیں ہوتی تھیں۔
(2)
جَبَا الرَّكِيَّةِ: جبا اس مٹی کو کہتے ہیں، جو کنواں کھود کر باہر نکالتے ہیں اور کنویں کے اردگرد پھیلا دیتے ہیں، جاشت: کنویں کا پانی جوش مارنے لگا اور بلند ہو گیا، یہ حدیبیہ میں آپ کے پہلے معجزے کا اظہار تھا، کہ آپ نے اس کے کنویں میں اپنا لعاب دین ڈالا اور اس کا پانی چودہ سو (1400)
افراد اور ان کے سواریوں کے لیے کافی ہو گیا، حالانکہ وہ پچاس بکریوں کو بھی سیراب نہیں کر سکتا تھا۔
(3)
بَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی جراءت و شجاعت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، ان سے تین دفعہ بیعت لی، جس کا ظہور تین قریبی غزوات، حدیبیہ، ذوقرد اور فتح خیبر میں ہوا۔
عزلا: غیر مسلح، بلا ہتھیار۔
حجفة اودرقة: دونوں کا معنی ڈھال ہے۔
(4)
أَبْغِنِي: اگر یہ بغايه سے تو معنی ہو گا، میرے لیے تلاش کیجئے اور اگر ابغاء سے ہو تو معنی ہو گا، طلب و جستجو میں میری مدد کیجئے۔
(5)
رَاسَلُونَا: ہمارے ساتھ مراسلت کی، پیغاموں کا تبادلہ کیا، كنت تبيعا: میں پیچھے پیچھے چلتا تھا، یعنی ان کا خدمت گزار تھا۔
أَحُسُّهُ میں گھوڑے کی پشت پر کھرکھرا کرتا تھا۔
(6)
كَسَحْتُ شَوْكَهَا: (آرام کے لیے)
درخت کے نیچے سے کانٹوں کو میں نے صاف کیا۔
(7)
فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي: (جنگ کے خطرہ کے پیش نظر)
میں نے اپنی تلوار نیام سے نکال لی۔
(8)
جَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي: میں نے (چاروں مشرکوں کے اسلحہ کو)
تنکوں یا لکڑیوں کے گٹھا کی طرح ہاتھ میں لے لیا۔
(9)
عَبَلَاتِ: یہ قریش کا ایک خاندان ہے، جو اپنی ماں عبله کی طرف منسوب ہے اور ان کو اميه صغري بھی کہا جاتا تھا، فرس مجفف: گھوڑا جس کو اسلحہ کی زد سے بچانے کے لیے اس پر جھل یا آتھر ڈالتے ہیں، لیکن لهم بدأالفجور ثناه: نقض عہد کا آغاز اور اعادہ انہیں کی طرف سے ہوں، کہ وہ ابن زنیم کو شہید کر کے، مسلمانوں پر پتھر اور تیر پھینک کر نقض عہد کا آغاز کر چکے ہیں۔
(10)
فَأَصُكُّ صکا: کا اصل معنی تھپڑ مارنا ہوتا ہے، لیکن یہاں تیر پھینکنا مراد ہے۔
(11)
آرَام: ارم کی جمع ہے، علامتی پتھر، جو نشانی اور علامت کے طور پر رکھا یا گاڑا جاتا ہے۔
(12)
قرن: الگ تھلگ پہاڑی، كراس قرن پہاڑی کی چوٹی، مُتَضَايِق: تنگ جگہ، مَا هَذَا الَّذِي أَرَى؟ مراد ہے، من هذا، تحقیر کے لیے ما کہا، یہ کون ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں۔
(13)
الْبَرْحَ: مشقت و شدت، امكنوني من الكلام: میرے اس قدر قریب ہو گئے، کہ میرے لیے ان کو اپنی بات سنانا ممکن ہو گیا، لَا يَقْتَطِعُوكَ: تمہیں تیرے ساتھیوں سے الگ تھلگ نہ کر لیں، تم اکیلے ان کے قابو میں نہ آ جاؤ، (14)
خَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ: میں نے انہیں اس سے ہٹا دیا، دور کر دیا۔
(15)
نُغْضِ: پٹھہ، اكوعه بكرة: کیا وہ اکوع ہی صبح سے ہمارے تعاقب میں ہے۔
(16)
أَرْدَوْا فَرَسَيْنِ: خوف اور ڈر کے مارے دو گھوڑے چھوڑ گئے۔
(17)
سَطِيحَةٍ: مشکیزہ۔
(18)
مَذْقَةٌ: تھوڑا سا۔
(19)
يُقْرَوْنَ: ان کی مہمان نوازی کا اہتمام ہو رہا ہے، یہ آپ کی پیشن گوئی تھی، کہ ان کی مہمان نوازی کا اہتمام غطفان کر رہے ہیں۔
(20)
لَا يُسْبَقُ شَدًّا: دوڑ میں کوئی اس سے سبقت نہیں لے جا سکتا تھا۔
(21)
رَبَطْتُ عَلَيْهِ: میں نے اپنے آپ کو روکے رکھا، آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی، طَفَرْتُ: میں کود گیا۔
(22)
أَسْتَبْقِي نَفَسِ: میں شروع میں بھاگ کر اپنا سانس اکھیڑنا نہیں چاہتا، آہستہ آہستہ رفتار تیز کرنا چاہتا تھا، تاکہ سانس نہ پھولے۔
(23)
شَاكِي السِّلَاحِ: مسلح، ہتھیار بند۔
(24)
تَلَهَّبُ: شعلہ بھڑکنا۔
(25)
بطل: بہادر، دلیر۔
(26)
مُجَرَّبُ: تجربہ کار۔
(27)
مُغَامِرُ: شدائد میں کود جانے والا۔
(28)
يَسْفُلُ لَهُ: نیچے سے نشانہ لینے لگا۔
(29)
أَكْحَلَ: رگ حیات، بازو کی رگ۔
(30)
حَيْدَرَ: شیر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے بیٹے کا نام حیدر رکھا تھا، کیونکہ ان کے نانا کا نام اسد تھا، ابو طالب نے نام علی رکھا اور مرحب نے خواب دیکھا تھا، کہ مجھے ایک شیر قتل کر رہا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے یاد دلایا، وہ شیر میں ہی ہوں۔
اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ کا ظہور ہوا کہ آپ کے لعاب دہن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دکھتی آنکھیں فوراً ٹھیک ہو گئیں اور آپ کی یہ پیشن گوئی بھی پوری ہوئی کہ میں جھنڈا اس کو دوں گا جس کے ہاتھوں، اللہ تعالیٰ خیبر فتح کروائے گا اور صحیح حدیث کی رو سے مرحب کو حضرت علی نے قتل کیا ہے، حضرت محمد بن مسلمہ نے قتل نہیں کیا، جیسا کہ ابن اسحاق کا دعویٰ ہے، محدثین اور سیرت نگاروں کی اکثریت کے بقول، مرحب کو حضرت علی ہی نے جہنم رسید کیا، اس لیے واقدی کا یہ قول درست نہیں ہے کہ آپ نے مرحب کی سلب حضرت محمد بن مسلمہ کو دی۔
(31)
السَّنْدَرَهْ: کھلا پیمانہ، کہ میں ان کو خوب موت کے گھاٹ اتاروں گا، یا سندر کا معنی عجلت ہے، کہ میں فوراً دشمن کو قتل کر دیتا ہوں۔
فوائد ومسائل: ذوقرد، مدینہ سے بارہ (12)
میل یا ایک دن کی مسافت پر، ایک چشمہ ہے، جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھیاری اونٹنیاں چرتی تھیں، صلح حدیبیہ سے واپسی پر آپ نے اپنے غلام رباح کی نگرانی میں اور سواریاں وہاں بھیجیں، وہاں حضرت ابو ذر کے بیٹے اور ان کی بیوی موجود تھے، اور حضرت رباح رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے گھوڑے پر تھے، ابھی وہ راستہ میں ہی تھے، کہ انہیں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام نے یہ اطلاع دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھیاری اونٹنیوں پر حملہ ہو گیا ہے، تو حضرت سلمہ بن اکوع نے گھوڑا حضرت رباح کے حوالہ کیا اور خود، ان حملہ آوروں کے تعاقب میں دوڑ پڑے، واقعہ کی تفصیل حدیث میں موجود ہے۔
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1592]
وضاحت:
1؎:
اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: حدیبیہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4164]