مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ : " لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَتْ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمُ الذَّهَبَ ، وَلَا الْفِضَّةَ إِنَّمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُمُ الْعَلَابِيَّ ، وَالْآنُكَ وَالْحَدِيدَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا ، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ` ایک قوم ( صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2909
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2909. حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ یہ سب فتوحات ان لوگوں نے حاصل کی ہیں جن کی تلواروں پر سونا نہیں لگا تھا اور نہ ان پر چاندی ہی جڑی ہوئی تھی بلکہ ان کی تلواروں پر چمڑے، سیسے اور لوہے کا معمولی کام ہوتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2909]
حدیث حاشیہ: عہد جاہلیت میں تلواروں کی زیبائش سونے چاندی سے کیا کرتے تھے۔
مسلمانوں نے ظاہری زیبائش سے قطع نظر کرکے تلواروں کی زیبائش اور مصنوعی عمدگی سیسے اور لوہے سے کی کہ در حقیقت یہی ان کی زیبائش تھی۔
آلات حرب کو بہتر سے بہتر شکل میں رکھنا آج بھی جملہ متمدن اقوام عالم کا دستور ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2909 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2909. حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ یہ سب فتوحات ان لوگوں نے حاصل کی ہیں جن کی تلواروں پر سونا نہیں لگا تھا اور نہ ان پر چاندی ہی جڑی ہوئی تھی بلکہ ان کی تلواروں پر چمڑے، سیسے اور لوہے کا معمولی کام ہوتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2909]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں اس حدیث کا پس منظر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت سلیمان بن حبیب کی سرکردگی میں ایک فاتح قوم حضرت ابوامامہ ؓ کے پاس آئی تو ان کی تلواروں پر چاندی کا طمع تھا۔
حضرت ابوامامہ ؓ انھیں دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور یہ حدیث بیان کی۔
(سنن ابن ماجة، الجھاد، حدیث: 2807)
دور جاہلیت میں لوگ فخر و مباہات کے طور پر تلواروں کی زیبائش سونے اورچاندی سے کرتے تھے،مسلمانوں نے ظاہری آرائش سے قطع نظر تلواروں کی زیبائش اور مصنوعی عمدگی سیسے اور لوہے سے کی۔
آلات جنگ کو بہتر سے بہتر شکل میں رکھنا آج بھی اقوام عالم کا دستور ہے۔
صحابہ کرام ؓ اس سے بھی بے نیاز تھے کیونکہ وہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود ایمانی قوت کے باعث دشمنوں پرغالب تھے،انھیں کسی مصنوعی طاقت کی حاجت نہیں تھی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2909 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔