صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ فَضْلِ الطَّلِيعَةِ: باب: دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ ، قَالَ : الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ ، قَالَ : مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، قَالَ : الزُّبَيْرُ أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن فرمایا دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے ؟ ( دشمن سے مراد یہاں بنو قریظہ تھے ) زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر پوچھا دشمن کے لشکر کی خبریں کون لا سکے گا ؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ( سچے مددگار ) ہوتے ہیں اور میرے حواری ( زبیر ) ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: لشکر کشی سے پہلے جاسوسی بھیج کر دشمن کے حالات معلوم کرنا جائز امر ہے تاکہ وہ مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر انھیں نقصان نہ پہنچائیں۔
(فتح الباري: 66/8)
2۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہےکہ رسول اللہ ﷺنے حضرت حذیفہ ؓ کو جاسوسی کے لیے بھیجا تھا۔
تو یہ روایت اس کے مخالف نہیں ہے کیونکہ حضرت زبیر ؓ بنوقریظہ کی خبر لانے کے لیے مامور تھے جبکہ حضرت حذیفہ ؓ کو کفار قریش کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا گیاتھا، نیز حضرت زبیر ؓنے ایک ہی مقام پر تین مرتبہ جواب نہیں دیا تھا بلکہ یہ جواب تین مختلف مواقع پردیا گیا۔
باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے ایک شخص زبیر رضی اللہ عنہ کو خبر لانے کے لیے بھیجا اور ایک شخص کی خبر قابل اعتماد سمجھی۔
1۔
بنو قریظہ کے دن سے مراد وہ دن ہے جب غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی خبر لانے کے لیے کہا تھا۔
اس سے بنو قریظہ کے محاصرے کا دن مراد نہیں ہے کیونکہ یہ محاصرہ تو غزوہ خندق کے بعد ہوا تھا اور کئی دن تک جاری رہا تھا۔
آخر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلے پروہ قلعوں سے نیچے اترے۔
پھر یہ محاصرہ اپنے منطقی نتائج کو پہنچا۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دشمنوں کی خبر لانے کے لیے روانہ فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رپورٹ پر اعتماد کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ خبر واحد حجت ہے بشرطیکہ قابل اعتماد راوی سے مروی ہو۔
بعض روایات میں ہے کہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے حضرت حذیفہ ؓ گئے تھے۔
ان روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ قریش کی خبر لانے کے لیے حضرت حذیفہ ؓ گئے تھے، چنانچہ سردی کا موسم تھا، حضرت حذیفہ ؓ سردی سے ٹھٹررہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے سینے سے لگایا تاکہ حذیفہ گرمی حاصل کریں اور حضرت زبیر ؓ کو بنوقریظہ کی خبرلانے کے لیے بھیجا تھا کیونکہ ان کارسول اللہ ﷺ معاہدہ تھا لیکن انھوں نے عہد شکنی اور غداری کی اور قریش سے ساز باز کرکے مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔
بہرحال د ونوں جماعتوں کی خبر لانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں حضرات کو بھیجا تھا۔
(فتح الباري: 508/7)
1۔
جس شخص کو دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا جائے اسے طلیعة الجیش کہا جاتا ہے۔
ایک حدیث کے مطابق اکیلے آدمی کو سفرکرنے کی ممانعت ہے۔
وہم ہوسکتا تھا کہ جاسوسی کے لیے بھی اکیلا آدمی نہیں بھیجاجاسکتا۔
امام بخاری ؒنے اس وہم کو دور کرنے کے لیے مذکورہ عنوان اور حدیث پیش کی ہے۔
چونکہ جاسوسی میں حالات کو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے،اس لیے مناسب ہے کہ ایک ہی آدمی کا انتخاب کیا جائے۔
اسے عام سفر پرمحمول کرنا مناسب نہیں اور اس حدیث سے اکیلے آدمی کے سفرکرنے کا مسئلہ کشید کرنا بھی صحیح نہیں۔
اس کی ممانعت اپنی جگہ برقرارہے۔
2۔
یہود مدینہ کی ایک شاخ بنوقریظہ سے رسول اللہ ﷺ نے معاہدہ کررکھا تھا کہ ہم مدینہ طیبہ کا مشترکہ دفاع کریں گے۔
جب کفار قریش نے مدینہ طیبہ پر حملہ کیا تو بنوقریظہ نے عہدشکنی کرکے ان کا ساتھ دیا۔
جب حالات سنگین ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے حالات معلوم کرنے کے لیے لوگوں کو آواز دی۔
حضرت زبیر ؓنے آگے بڑھ کر اس بھاری بھرکم ذمہ داری کو اٹھایا تورسول اللہ ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا: ’’زبیر بن عوام میرےمخلص ساتھی ہیں۔
‘‘
«. . . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ"، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَوَارِيُّ: النَّاصِرُ . . .»
”. . . محمد بن منکدر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک کام کے لیے) غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کو پکارا، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پکارا، اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے کو پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا اور پھر زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ سفیان نے کہا کہ حواری کے معنی معاون، مددگار کے ہیں (یا وفادار محرم راز کو حواری کہا گیا ہے)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2997]
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت یوں ثابت فرمائی ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کافروں کی خبر لانے کے لئے اکیلے تشریف لے گئے، یہ واقعہ غزوہ خندق کا ہے جسے جنگ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ اب ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت یوں ہوگی کہ لازما جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش فرمایا کہ میں حاضر ہوں، یعنی کافروں کی خبر لانے کے لئے تو انہوں نے اس کام کے لئے سفر بھی کیا ہوگا اور وہ اکیلے تھے، یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہوگی۔
اس باب کے ذکر پر امام اسماعیلی نے تعقب فرمایا ہے اور کہتے ہیں: «لا أعلم هذا الحديث كيف يدخل فى هذا الباب؟»
”کہ میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث (سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ والی) کس طرح سے باب کے مطلب میں داخل ہے۔“
اور اسی بات کی ابن المنیر رحمہ اللہ نے بھی تائید فرمائی ہے کہ ممکن ہے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی اور بھی سفر میں ہو۔ مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جواب دیتے ہوئے فرما تے ہیں: «قلت: لكن قد ورد من وجه آخر ما يدل على ذالك و فيه قلت يا أبت رأيتك تختلف، فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ياتيني بخبر قريظة فانطلقت.» [فتح الباري، ج 6، ص: 170]
یہاں تو اس کا ذکر نہیں ہے (کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اکیلے تھے یا اور کوئی بھی ان کے ساتھ تھا) لیکن یہی واقعہ «مناقب زبير» میں آ رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ سفر تن تنہا فرمایا تھا اور آپ نے خود فرمایا: میں نے ابا جان کو کئی بار بنوقریظہ کی طرف آتے جاتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: آپ بار بار بنو قریظہ کی طرف آرہے ہیں، آخر کیا بات ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے فرمایا تھا کہ ”بنو قریظہ کی خبر کون لائے گا؟“ تو میں چل پڑا۔ اس روایت سے واضح طور پر ان کا اکیلے سفر کرنا ثابت ہوا۔ مزید اس سے زیادہ واضح الفاظ سنن النسائی میں موجود ہیں جس کے بعد تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
وہب بن کیسان رحمہ اللہ اس واقعہ کو ذکر فرماتے ہیں: «أشهد سمعت جابر بن عبد الله . . . . . فلم يذهب أحد، فذهب الزبير.» [سنن النسائي، ج 5، ص: 262]
”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، پس ان کے ساتھ کوئی نہ گیا، پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ خود (اکیلے) گئے۔“
فائدہ: امام مہلب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رات کو تنہا سفر کرنے سے منع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ رات کا وقت شیاطین کے باہر پھیل جانے، اور ایذائیں پہنچانے، اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنے کا وقت ہوتا ہے۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بچوں کو باہر نکالنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ لیکن یہ حرام نہیں ہے، اگر کوئی عذر نہ ہو تو مکروہ ہے۔ کوئی رفیق سفر ہمراہ ہو تو افضل اور بہتر ہے۔“ [شرح ابن بطل، ج 5، ص: 155]
قتادہ نے کہا حواری وہ جو خلافت کے لائق ہو یا وزیر با تدبیر ہو۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاریؒ نے باب کا مطلب اس طرح ثابت کیا کہ حضرت زبیر ؓ اکیلے کافروں کی خبر لانے گئے۔
یہ جنگ خندق سے متعلق ہے جسے جنگ احزاب بھی کہا گیا ہے۔
سورہ احزاب میں اس کی کچھ تفصیلات مذکور ہیں اور کتاب المغازی میں ذکر آئے گا۔
ایک روایت میں ان تعریفی کلمات کا سبب بیان ہوا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے پاس مشرکین کی جاسوسی کون کرے گا اور ان کے حالات سے مجھے کون آگاہ کرے گا؟‘‘ حضرت زبیر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! اس کام کے لیے میں حاضر ہوں۔
آپ نے تین مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا تو حضرت زبیر نے یہی جواب دیا کہ میں مشرکین کے ناپاک عزائم معلوم کروں گا اور آپ تک پہنچاؤں گا۔
اس وقت آپ نے یہ تعریفی کلمات ارشاد فرمائے۔
(صحیح البخاري، الجھاد، حدیث: 2847)
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے وقت میں مدد کرنا دوسرے اوقات کی بہ نسبت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کسی کے حالات معلوم کرنے کے لیے ان میں گھس جانا،اپنی جا ن خطرے میں ڈالنا ہے۔
(2)
حواري: خالص سفید، یعنی مخلص ساتھی، خصوصی معاون۔
فوائد ومسائل: غزوہ خندق کے موقع پر جب بنو قریظہ کی بدعہدی اور غداری کا آپ کو علم ہوا تو آپ نے ان کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی کو بھیجا چاہا، جب حضرت زبیر نے اس کے لیے، فوری طور پر اپنے آپ کو پیش کر دیا تو پھر کسی اور کو پیش پیش کرنے کی ضرورت نہ رہی۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں “ ۱؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» (غزوہ احزاب) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ” کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟ “ تو زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3745]
وضاحت:
1؎:
غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے با خبر کرے اور ایسا آپﷺ نے تین بار کہا، تینوں مرتبہ زبیر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا، اسی موقع پر آپﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ فرمایا تھا: (اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ حِوَارِیاً وَ اِنَّ حِوَارِیْ اَلزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَامُ) یہ بھی یاد رکھئے کہ زبیربن عوام نبی اکرمﷺ کی سگی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے، اور اُن کی شادی اُم المومنین عائشہ ؓ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہوئی تھی۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: ” کون ہے جو میرے پاس قوم (یعنی یہود بنی قریظہ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ “، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نبی کے حواری (خاص مددگار) ہوتے ہیں، اور میرے حواری (خاص مددگار) زبیر ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 122]
بنو قریظہ کے خلاف مہم، جنگ خندق کے فوراً بعد شروع ہوئی، اس طرح سے دونوں غزوات گویا ایک ہی ہیں۔
یہاں یوم بنو قریظہ سے مراد جنگ احزاب کے ایک دن کا واقعہ ہے۔
(2)
حواری سے مراد جاں نثار ساتھی ہے۔
جس طرح حضرت عیسی علیہ اسللام کے ساتھیوں (حواریوں)
نے کہا تھا: ﴿نَحْنُ اَنْصَارُ الله﴾ (الصف: 14)
ہم اللہ کے (دین کے)
مددگار ہیں۔
(3)
اس سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی عظمت اور شان ظاہر ہوتی ہے کہ نبی علیہ السلام نے انہیں مقرب ترین ساتھیوں میں شمار فرمایا۔
اس حدیث سے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہم بات کو تین دفعہ دہرانا چاہیے۔