صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْحُورُ الْعِينُ وَصِفَتُهُنَّ: باب: بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان، ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہو گی۔
وَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَوْ مَوْضِعُ قِيدٍ يَعْنِي سَوْطَهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلَأَتْهُ رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .´اور میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے کہ` اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، سب سے بہتر ہے اور کسی کے لیے جنت میں ایک ہاتھ کے برابر جگہ بھی یا ( راوی کو شبہ ہے ) ایک «قيد» جگہ ، «قيد» سے مراد کوڑا ہے ، «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف جھانک بھی لے تو زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ منور ہو جائیں اور خوشبو سے معطر ہو جائیں ۔ اس کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بڑھ کر ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بہت سی چیزیں ہم دنیا میں دیکھ نہیں سکتے مگر آخرت میں ان کو دیکھیں گے‘ دوزخ کا ہلکے سے ہلکا عذاب آدمی کبھی نہیں اٹھا سکتا پر آخرت میں آدمی کو ایسی طاقت دی جائے گی کہ وہ دوزخ کے عذابوں کا تحمل کرے گا اور پھر زندہ رہے گا۔
الغرض اخروی امور کو دنیاوی حالات پر قیاس کرنے والے خود فہم و فراست سے محروم ہیں۔
1۔
حوروں کی صفات کے متعلق جتنی بھی احادیث کتب حدیث میں مروی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت کی حوریں انتہائی خوبصورت اور پاکیزہ ہیں۔
دنیا کی عورتوں کی طرح میل کچیل،طبیعت کی سختی، بداخلاقی اور بے صبری سے پاک ہیں۔
2۔
بعض ملحدین حوروں کی صفات کا انکار کرتے ہیں کہ ایسا ہونا عقل کے اعتبار سے محال ہے۔
انھیں علم ہونا چاہیے کہ جنت کو دنیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ جنت کی زندگی ہی دنیا کی زندگی کی طرح ہے۔
بہت سی چیزیں ہم دنیا میں نہیں دیکھ سکتے مگر آخرت میں ہماری آنکھیں انھیں دیکھنے کے قابل ہوجائیں گی۔
الغرض اخروی امور کو دنیاوی حالات پر قیاس کرنے والے خود فہم وفراست اورعقل وشعور سے محروم ہیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی اوڑھنی کے سامنے سورج کی روشنی ایسی ماند پڑ جائے جیسے بتی کی روشنی سورج کے سامنے ماند پڑجاتی ہے۔
اگر اپنی ہتھیلی دکھائے تو ساری خلقت اس کے حسن کی شیدا ہو جائے۔
بعض ملحدوں نے اس قسم کی احادیث پر یہ شبہ کیا ہے کہ جب حور کی روشنی سورج سے بھی زیادہ ہے یا وہ اتنی معطر ہے کہ زمین سے لے کر آسمان تک اس کی خوشبو پہنچتی ہے تو بہشتی لوگ اس کے پاس کیوں کر جا سکیں گے اور اتنی خوشبودار اور روشنی کی تاب کیوں کر لاسکیں گے۔
ان کا جواب یہ ہے کہ بہشت میں ہم لوگوں کی زندگی اور طاقت اور قسم کی ہوگی جو ان سب باتوں کا تحمل کر سکیں گے۔
جیسے دوسری آیتوں اور احادیث میں دوزخیوں کے ایسے ایسے عذاب بیان ہوئے ہیں کہ اگر دنیا میں اس کا دسواں حصہ بھی عذاب دیا جائے تو فوراً مر جائے لیکن دوزخی ان عذابوں کا تحمل کر سکیں گے اور زندہ رہیں گے۔
بہرحال آخرت کے حالات کو دنیا کے حالات پر قیاس کرنا اور ہرایک بات میں استبعاد کرنا صریح نادانی ہے۔
روایت میں مذکور حارثہ بن سراقہ بن حارث بن عدی مراد ہیں۔
ان کی والدہ کا نام ربیع بنت نضر ہے۔
یہ حارثہ بن سراقہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان کی والدہ کا نام حضرت ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا تھا جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہا جنگ بدر میں ایک نامعلوم طرف سے آنے والے تیر سے شہید ہوئے تو ماں کی مامتا پریشان ہو گئی کہ میرا بیٹا شہید ہے یا نہیں، ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کے تیر سے موت واقع ہوئی ہو، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پیش ہو کر عرض گزار ہوئیں۔
جب تسلی ہو گئی تو خوشی خوشی واپس چلی گئیں۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۱؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1651]
وضاحت:
1؎:
یعنی اگر کسی کو دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں حاصل ہوجائیں، پھر وہ انہیں اطاعت الٰہی میں رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کردے، اس خرچ کے نتیجہ میں اسے جو ثواب حاصل ہوگا اس سے مجاہد فی سبیل اللہ کا ثواب کہیں زیادہ بہتر ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2775]
فوائد و مسائل:
(1)
راہ جہاد کی مشکلات قیامت کے دن عزت افزائی کا باعث ہوں گی۔
(2)
گردوغبار کے مطابق کستوری قیامت کے دن مجاہدوں کو دوسروں سے ممتاز کرے گی جس سے میدان حشر کے سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ یہ شخص مجاہد ہے۔